الہ آباد ہائی کورٹ نے سنبھل مسجد کو ‘متنازعہ ڈھانچہ’ تسلیم کرلیا
عدالت کا مسجد کو پینٹ کرنے کی درخواست پر سماعت کے دوران فیصلہ
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)الہ آباد ہائی کورٹ نے منگل کے روز سنبھل کی جامع مسجد کو "متنازعہ مقام” کے طور پر حوالہ دینے پر اتفاق کر لیا۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب مسجد کی انتظامیہ کمیٹی نے مغلیہ دور کی اس عمارت کو پینٹ کرنے کی اجازت کے لیے درخواست دائر کی تھی۔ عدالت نے ہندو فریق کی درخواست پر اسٹینوگرافر کو ہدایت دی کہ وہ شاہی مسجد کو "متنازعہ ڈھانچہ” کے طور پر تحریر کرے۔
تاریخی پسِ منظر اور قانونی تنازعہ
یہ معاملہ اس وقت قانونی تنازعہ بنا جب ایک شکایت میں الزام لگایا گیا کہ 16ویں صدی میں مغل بادشاہ بابر نے ایک ہندو مندر، ہری ہر مندر، کو منہدم کر کے مسجد تعمیر کی تھی۔ عدالت کے حکم پر کی گئی ایک سروے کارروائی کے دوران گزشتہ سال نومبر میں سنبھل میں بڑے پیمانے پر احتجاج اور تشدد ہوا تھا۔
ASI کی رپورٹ اور عدالت کی کارروائی
مسجد کمیٹی نے ہائی کورٹ میں مسجد کو پینٹ کرنے کی اجازت کے لیے درخواست دائر کی تھی، جس پر محکمہ آثار قدیمہ (ASI) نے موقف اختیار کیا کہ فی الحال اس کی ضرورت نہیں۔ عدالت میں ہندو فریق کے وکیل ہری شنکر جین نے مسجد کمیٹی کے 1927 کے معاہدے کے تحت مسجد کی دیکھ بھال کے دعوے کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس کی ذمہ داری آثار قدیمہ کے محکمے (ASI) کی ہے۔
ایڈوکیٹ ہری شنکر جین کا مؤقف
سماعت کے دوران، ایڈوکیٹ جین نے عدالت سے درخواست کی کہ مسجد کو "متنازعہ ڈھانچہ” کہا جائے، جس پر عدالت نے اتفاق کیا۔ اس کے بعد عدالت نے اسٹینوگرافر کو مسجد کے لیے "متنازعہ ڈھانچہ” کی اصطلاح استعمال کرنے کی ہدایت دی۔
28 فروری کو، عدالت نے ASI کو حکم دیا کہ وہ مسجد کی صفائی کا کام کرے، جس میں گرد و غبار اور مسجد کے اندرونی و بیرونی حصے میں اُگی ہوئی جھاڑیوں اور گھاس کی صفائی بھی شامل ہے۔
ہندو علامات مٹانے کا الزام
ایڈوکیٹ جین نے اپنے حلف نامے میں دعویٰ کیا کہ مسجد کمیٹی نے ASI کی اجازت کے بغیر عمارت میں نمایاں تبدیلیاں کیں، دیواروں اور ستونوں پر رنگ کیا تاکہ ہندو علامات اور نشانات کو چھپایا جا سکے۔
یوگی آدتیہ ناتھ کا بیان
اتر پردیش حکومت حال ہی میں ریاست میں قدیم ہندو عبادت گاہوں اور کنوؤں کی بحالی اور تزئین و آرائش کے بڑے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ ریاستی اسمبلی میں اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے الزام لگایا کہ سنبھل میں 68 ہندو یاترا مقامات اور 19 قدیم کنوؤں کے نشانات مٹانے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے کہا، "یہ ہماری ذمہ داری تھی کہ ہم ان کو تلاش کریں۔ ہم نے 54 یاترا مقامات اور 19 کنویں دریافت کیے۔ جو کچھ ہمارا ہے، وہ ہمیں ملنا چاہیے اور بس!” وزیر اعلیٰ کے اس بیان نے معاملے کو مزید اہم بنا دیا ہے۔
کیس کی آئندہ سماعت
اس کیس کی آئندہ سماعت 10 مارچ کو ہوگی، جب محکمہ آثار قدیمہ (ASI) اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کرے گا۔
اردو دنیا واٹس ایپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
https://chat.whatsapp.com/2N8rKbtx47d44XtQH66jso



