تھائی لینڈ میں ہم جنس شادیوں کو قانونی حیثیت دے دی گئی
تھائی لینڈ ہم جنس پرستوں کی شادیوں کو قانونی حثیت
بینکاک، 19جون:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)تھائی لینڈ ہم جنس پرستوں کی شادیوں کو قانونی حثیت دینے والا جنوب مشرقی ایشیا کا پہلا ملک بن گیا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ نیا قانون ٹرانسجینڈر اور ’نان بائنری‘ افراد کو شناخت دلوانے میں ناکام رہا ہے۔تھائی لینڈ میں سینیٹ نے آج منگل کے روز ہم جنس پرستوں کی شادیوں کو قانونی حیثیت دینے کی منظوری دے دی۔ اس طرح یہ ملک ہم جنس پرستوں کی شادیوں کو قانونی حیثیت دینے والا جنوب مشرقی ایشیا کا پہلا ملک بن گیا۔سینیٹ میں اس معاملے پر ہونے والی تاریخی ووٹنگ میں چار کے مقابلے میں 130 ووٹوں کی اکثریت سے ہم جنس پرست جوڑوں کے ازدواجی تعلقات کو قانونی قرار دیا گیا۔ ووٹنگ میں 18 رائے دہندگان نے اپنی رائے محفوظ رکھی یا ووٹ دینے سے اجتناب برتا۔
ہم جنس پرستوں کو شادیوں کی اجازت دینے کے حق میں مہم چلانے والوں کی طرف سے اس قانون سازی کو ایک بڑی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔اس نئے قانون کو اب تھائی لینڈ کے بادشاہ کے سامنے شاہی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ سرکاری رائل گزٹ میں اشاعت کے 120 روز بعد یہ قانون نافد العمل ہوگا۔تھائی لینڈ کی ’’پروگریسو مووو فارورڈ‘‘ پارٹی کے رکن پارلیمان تونیاوج کامول ونگوت نے ووٹنگ سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ یہ عوام کی فتح ہے۔ آج تھائی باشندوں کے ’تبسم‘ کا دن ہے۔ یہ لوگوں کی جیت ہے۔ آخر کار اب تھائی لینڈ میں یہ ہو رہا ہے۔تائیوان اور نیپال کے بعد تھائی لینڈ اب برا اعظم ایشیا میں ایسا تیسرا ملک بن گیا ہے، جہاں ہم جنس پرستوں کی شادیوں پر کوئی پابندی نہیں ہو گی اور ان کے ازدواجی تعلق کو قانونی حیثیت حاصل ہو گی۔
اس قانون کے حامی کارکن امید کر رہے ہیں کہ نئے قانون کے تحت ہم جنس پرستوں کی پہلی شادیاں اکتوبر کے اوائل میں ہو سکیں گی۔تھائی لینڈ میں اس نئی قانون سازی کے تحت شادی کے قوانین میں مردوں،عورتوں، شوہروں اور بیویوں کے حوالہ جات کو صنفی طور پر غیر جانبدارانہ شرائط میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ نیز گود لینے اور وراثت کے معاملات میں ہم جنس پرست جوڑوں کو متضاد جوڑوں کے برابر حقوق حاصل ہوں گے۔ تھائی وزیر اعظم سریتھا تھاویسین خود بھی LGBTQ کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ اس بل کی حمایت میں بھی آواز بلند کر رہے تھے۔ وہ اس کامیابی کے بعد اپنی سرکاری رہائش گاہ پر ایل جی بی ٹی کیوکمیونٹی کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں اور حامیوں کے لیے تقریبات کا انعقاد کریں گے۔



