سنجے سنگھ اور منیش سیسودیا کو نہیں ملی راحت، حراست میں کی گئی توسیع
عام آدمی پارٹی کے لیڈر منیش سیسودیا اور سنجے سنگھ کی عدالت حراست پانچ دنوں کے لئے بڑھائی گئی
نئی دہلی ،7مارچ:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)دہلی شراب پالیسی سے متعلق منی لانڈرنگ معاملے میں عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ اور دہلی کے سابق نائب وزیراعلیٰ منیش سیسودیا کو عدالت سے راحت نہیں ملی ہے۔ معاملے میں ایک بارپھر کورٹ نے دونوں لیڈران کی عدالتی حراست کو 19 مارچ تک کے لئے بڑھا دیا ہے۔ گزشتہ سماعت میں 2 مارچ کو دہلی کی راؤزایوینیو کورٹ نے شراب پالیسی معاملے میں عام آدمی پارٹی کے لیڈر منیش سیسودیا اور سنجے سنگھ کی عدالت حراست پانچ دنوں کے لئے بڑھائی گئی تھی، جو آج ہی ختم ہو رہی تھی۔انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ یعنی ای ڈی نے گزشتہ سماعت کے دوران دلیل دی تھی کہ جب تک اصلاحی درخواست سپریم کورٹ میں زیرالتوا ہے، تب تک منیش سیسودیا کی مستقل ضمانت عرضی پر تبادلہ خیال نہیں کیا جانا چاہئے۔
وہیں منیش سیسودیا کی طرف سے پیش ہوئے سینئروکیل موہت ماتھر نے کہا تھا کہ کوئلہ گھوٹالہ کیس میں سپریم کورٹ میں خصوصی اجازت والی عرضی زیر التوا ہونے کے باوجود مقدمے کی کارروائی جاری رہی۔شراب پالیسی معاملے میں ہی پوچھ گچھ سے متعلق ای ڈی دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کجریوال کو 8 بار سمن بھیج چکی ہے۔ اس کو غیرقانونی اور سیاسی بدلے کے جذبے کے تحت کارروائی قراردیتے ہوئے کجریوال ایک بار بھی مرکزی جانچ ایجنسی کے سامنے پیش نہیں ہوئے ہیں۔ ای ڈی نے ایسے میں اروند کجریوال کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 174 (پبلک سرونٹ کے احکامات کی خلاف ورزی) کے ساتھ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ (پی ایم ایل اے) کی دفعہ 63 (4) کے علاوہ دیگردفعات کے تحت شکایت درج کرائی گئی ہے۔



