تلنگانہ کی خبریںسرورق

مرکے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ؟قتل کے 10 دن بعد بھی متوفی عمران کی تدفین کی رکاوٹیں

مقتول کی والدہ کی مسلم قائدین کے ہمراہ صدر نشین کمیشن سے ملاقات

پولیس نعش کی ہڈیاں حوالے کرنے میں پس و پیش کا شکار۔ اصل قاتل کی تلاش جاری

حیدرآباد /17 اگست:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) سرور نگر سنسنی خیز عمران قتل کیس میں عمران کی تجہیز و تکفین میں رکاوٹ پیدا ہوگئی ۔ عمران کے افراد خاندان کی جانب سے ہڈیوں کو فراہمی کے مطالبہ پر پولیس پس و پیش کا شکار ہے ۔ عمران کا قتل کرنے کے بعد اس کی نعش کے ٹکڑے کرکے جلادیا گیا تھا ۔رشتہ دار نوجوان کی ہڈیوں کو حاصل کرکے اسلامی روایات کے مطابق تدفین کے خواہاں ہیں تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ اصل قاتل کی گرفتاری تک یہ اقدام مکن نہیں ۔ قتل کے 10 دن بعد بھی ہونہار اور نمبر ون پولیس ایک قاتل کو ڈھونڈنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے ۔ رچہ کنڈہ کی پولیس سونو سنگھ کے آگے بے بس ہے ۔ عمران کے افراد خاندان کا احساس ہے کہ پہلے پولیس ان کے لڑکے کو بچا نہیں سکی اور اب تدفین کی انجام دہی میں بھی پولیس کی بے حسی رکاوٹ ہے ۔ رچہ کنڈہ پولیس نے بچے کو جینے دیا اور نہ ہی مرنے کے بعد افراد خاندان کو راحت فراہم کی ہے ۔

عمران کے افراد خاندان بالخصوص بے بس والدہ کل پولیس سے رجوع ہوئیں تھیں اور بیٹے کی ہڈیوں کو فراہم کرنے کی درخواست کی تھی کہ اس کی تدفین عمل میں لائی جاسکے ۔ پولیس کا انداز وہی نرالا ہے ۔ اے سی پی ایل بی نگر مسٹر کاشی ریڈی نے کہا کہ قاتل کی تلاش کیلئے پولیس کی جانب سے خصوصی ٹیموں کو تشکیل دیا گیا ہے اور سونو سنگھ کی تلاش جاری ہے ۔ اے سی پی نے بتایا کہ عمران کی ہڈیوں کو اس کے افراد حوالے کرنا مشکل ہے چونکہ عمران کی نعش کو جلادیا گیا تھا اور اس مقام کی نشاندہی کے علاوہ اس کے متعلق تمام تفصیلات کا علم سونو سنگھ کی گرفتاری کے بعد ہوگا اور پولیس شدت سے سونو سنگھ کو تلاش کر رہی ہے ۔ اے سی پی نے دعوی کیا کہ سونو سنگھ کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا ۔ کاشی ریڈی نے عمران کے افراد خاندان کو تیقن دیا اور کہا کہ خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔

سرور نگر عمران قتل کا سخت نوٹاقلیتی کمیشن میں ڈی سی پی کو شخصی حاضری کی ہدایت

تلنگانہ اقلیتی کمیشن نے عمران قتل کیس واقعہ کا سخت نوٹ لیتے ہوئے ڈی سی پی کو شخصی حاضری کی ہدایت جاری کی ہے ۔ صدرنشین اقلیتی کمیشن جناب طارق انصاری نے مقتول عمران کی والدہ کی شکایت کے بعد احکامات جاری کئے اور 21 اگست کو ڈی سی پی کو مکمل رپورٹ کے ساتھ شخصی حاضری کی ہدایت دی ہے ۔

مقتول کی والدہ کی مسلم قائدین کے ہمراہ صدر نشین کمیشن سے ملاقات

 عمران کی والدہ ممتاز بیگم اقلیتی کمیشن سے رجوع ہوئی ۔ ان کے ہمراہ قائد مجلس بچاؤ تحریک امجداللہ خان خالد ، جناب مشتاق ملک صدر تحریک مسلم شبان ، جناب ابرار حسین آزاد ( بہوجن سماج پارٹی ) اور دیگر موجود تھے ۔ مسلم قائدین کے وفد کے ساتھ اقلیتی کمیشن سے رجوع ہونے والی مقتول عمران کی والدہ ممتاز بیگم کے ہمراہ دیگر غیر مسلم خواتین بھی موجود تھیں ۔ ممتاز بیگم کی جانب سے اپنے جوان بیٹے کی ہلاکت کی تفصیل کو کمیشن کے صدرنشین نے سنجیدگی سے سماعت کیا۔

عمران کے لاپتہ ہونے کے بعد پولیس کی لاپرواہی اور اب قتل کا انکشاف ہونے کے بعد پولیس کی قاتلوں کے خلاف کارروائی پر ممتاز بیگم نے افسوس ظاہر کیا ۔ مسلم قائدین نے کمیشن کو بتایا کہ عمران کے لاپتہ ہونے کے بعد پولیس تلاش میں ٹال مٹول کرتی رہی اور جب قاتلوں نے اپنا جرم قبول کرلیا تو پولیس اصل قاتل کو تاحال تلاش کرنے میں ناکام ہے ۔ عمران کا بے دردی سے قتل کرنے کے بعد نعش کے ٹکڑے کرکے اسے جلا دیا گیا اور اس سنگین جرم کے باوجود باصلاحیت اور نمبر ون پولیس اصل قاتل سونو سنگھ کو تلاش نہیں کرپائی ہے جو پولیس کی کارکردگی اور اس کی سنجیدگی پر سوالیہ نشان بن گیا ہے ۔ کمیشن نے سماعت کے بعد ڈی سی پی کو شخصی حاضری کا حکم دیا ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button