سیٹ لائٹ تصاویر سے اسرائیلی جنگ میں غزہ کی تباہی واضح ، جگہ جگہ ملبے کے ڈھیر
غزہ سے اسیروں کے استقبال کی تیاری کی جائے، نیتن یاہو کا حتمی اعلان
غزہ، 17جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) غزہ میں پندرہ ماہ سے زائد پر پھیلی اسرائیلی جنگ کو سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر نے غزہ کی موجودہ صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ جن میں نظر آتا ہے کہ پندرہ ماہ سے زائد پر پھیلی اسرائیلی بمباری کے بعد بھی کسی کسی جگہ پر غزہ میں اکا دکا مکانوں کی چھتیں ہی برقرار رہی ہیں۔ تاہم مجموعی پر ہر طرف تباہی اور ملبے کے ڈھیر ہی نظر اتے ہیں۔واضح رہے سیٹلائٹ کی یہ تصاویر ہی اب تک کا واحد بہتر ذریعہ ہیں کہ غزہ میں پندرہ ماہ کے دوران اسرائیل نے کیا تباہی کی اسے سمجھا جا سکے۔
بصورت دیگر مقامی صحافیوں کو اسرائیلی فوج نے بیسیوں کی تعداد میں قتل کیا اور باہر سے کسی کو غزہ میں اس دوران داخل نہیں ہونے دیا گیا۔پڑوسی یا فلسطینی کے دوست ملکوں میں سے بھی کسی کے سربراہ یا وزیر خارجہ نے اس دوران غزہ کو کھلی آنکھ سے نہیں دیکھا حتی کہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر سمیت کوئی بھی عہدے دار غزہ نہیں جا سکا۔ سفارت کاروں نے بھی غزہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا نہ وزٹ کیا ہے۔ اس لیے واحد اور جامع چشم دید گواہی کے طور پر سیٹلائٹ کی یہ تصاویر اہم ہیں۔سیٹلائٹ سے لی گئی کچھ تصاویر نے غزہ میں ایک ممکن بفر زون کی نشان دہی کرتی ہیں۔ جو بین الاقوامی سطح سے اعتراضات کے باوجود اسرائیل بنانے کی کوشش میں ہے۔
یہ بفر زون غزہ کی پٹی کی تقریباً 60 مربع کلومیٹر تک جائے گی۔ یہ مجموعی طور پر بحیرہ روم کے ساتھ زمین کی پٹی تقریباً 360 مربع کلومیٹر کا علاقہ ہے۔ فلسطینیوں کو امید ہے کہ یہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے ساتھ ساتھ مستقبل کی ریاست کا حصہ ہوگا۔سیٹلائٹ سے لی گئی دوسری تصویروں کی مدد سے دیکھا جا سکتا ہے کہ جنگ کے دوران فلسطینیوں کی زندگی کیسے بدل دی گئی۔ غزہ سٹی، جو پٹی کا گنجان تر حصہ تھا، تباہ ہو چکا ہے۔
عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں اور سڑکیں ملبے سے بھری ہوئی ہیں۔جیسے جیسے جنگ آگے بڑھی، اسرائیل نے لوگوں کو جنوب کی طرف جانے کا حکم دیا۔ اس کے نتیجے نتیجہ مصر کے ساتھ پٹی کی جنوبی سرحد کے بالکل شمال میں واقع المواسی کا تباہ شدہ علاقہ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ریت سے بھرے ساحل اور آس پاس کے کھیتوں کی جگہ ہزاروں خیمے لے چکے ہیں۔ ان تصاویر نے امدادی ایجنسیوں اور ماہرین کو نقصان کے حجم کا اندازہ لگانے میں مدد ملتی ہے۔
غزہ سے اسیروں کے استقبال کی تیاری کی جائے، نیتن یاہو کا حتمی اعلان
مقبوضہ بیت المقدس ، 17جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے آج جمعے کے روز ایک اعلان میں بتایا گیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلیوں کی رہائی کے لیے معاہدہ طے پا گیا ہے۔دفتر سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مذاکراتی ٹیم نے نیتن یاہو کو آگاہ کیا ہے کہ یرغمالیوں کو آزاد کرنے کا معاہدہ ہو گیا ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی اسیروں کے استقبال کی تیاری کی جائے جو سات اکتوبر 2023 سے غزہ کی پٹی میں یرغمال ہیں۔
یرغمال اسیروں کے گھر والوں کو معاہدہ دستخط ہونے کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا۔اسرائیلی سیکورٹی کابینہ کا اجلاس آج جمعے کے روز ہو رہا ہے جس کے بعد سمجھوتے کی توثیق کے لیے حکومت کا اجلاس ہو گا۔باخبر اسرائیلی ذرائع نے بتایا ہے کہ اسرائیل کا مذاکراتی وفد قطر کے دار الحکومت سے تل ابیب کے لیے روانہ ہو گیا۔ معاہدے پر ووٹنگ سے قبل وزراء اس کی تفصیلات جانیں گے۔ یہ بات اسرائیلی نشریاتی ادارے نے بتائی۔
نیتن یاہو نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کی حکومت جنگ کے تمام مقاصد کے حصول اور تمام اسیروں کی واپسی یقینی بنانے پر کاربند ہے۔ ان کا اشارہ دائیں بازو کے بعض شدت پسند وزراء کو مطمئن کرنے کی جانب تھا جو مستعفی ہونے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ ان میں سر فہرست قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گوئر اور وزیر مالیات بتسلیل سموٹرچ ہیں۔
اگر وساطت کار مداخلت نہ کرتے تو مذکورہ معاہدہ گذشتہ گھنٹوں کے دوران میں ختم ہونے کے قریب تھا۔ بالخصوص نیتن یاہو کی جانب سے کل جمعرات کے روز حماس پر نئے مطالبات بڑھانے کے الزام کے بعد جب کہ تنظیم نے اس الزام کی یکسر تردید کر دی۔بعد ازاں العربیہ کے ذرائع نے بتایا کہ معاہدے میں حتمی ترامیم کر دی گئیں جس کے بعد تمام فریقوں نے اس پر دستخط کر دیے۔یاد رہے کہ غزہ معاہدہ اتوار سے نافذ العمل ہو گا اور اس پر عمل درآمد 3 مراحل میں ہو گا۔پہلا مرحلہ چھ ہفتوں تک جاری رہے گا۔
اس کے دوران میں غزہ سے اسرائیلی فوج کا بتدریج انخلا ہو گا۔ اسی طرح 33 اسرائیلیوں کو آزاد کیا جائے گا جن میں خواتین، بچے اور پچاس سال سے زیادہ کے افراد شامل ہوں گے۔ ان کے علاوہ دو امریکی کیتھ سیگل اور سیجوے ڈیکل چن بھی ہیں۔دوسرے مرحلے میں بقیہ تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی، مستقل فائر بندی، غزہ سے اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا اور اس کے مقابل ایک ہزار سے زیادہ فلسیطنی قیدیوں کی رہائی متوقع ہے۔تیسرے مرحلے میں تمام بقیہ میتیں واپس کی جائیں گی اور مصر، قطر اور امریکا کی نگرانی میں غزہ کی تعمیر نو شروع ہو گی۔
ٹرمپ معاہدے تک پہنچنے میں سنجیدہ ہیں، اسے خراب نہ کریں: نیتن یاہو کو امریکی پیغام
مقبوضہ بیت المقدس، 17جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے حماس اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ مذاکرات کا اثر اگلے اتوار کو متوقع ہے۔ اس دوران امریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو ایک پیغام بھیجا ہے۔ویب سائٹ ’’ایکسیوس‘‘ نے بتایا کہ بات چیت سے واقف ایک ذریعہ نے بتایا کہ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹ کوف نے نیتن یاہو سے کہا ہے کہ ٹرمپ غزہ میں ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے سنجیدہ ہیں اس لیے اسے خراب نہ کریں۔
ذرائع نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ امریکی ایلچی نے سینئر اسرائیلی حکام کو مذاکرات کے لیے دوحہ بھیجنے اور انہیں معاہدہ مکمل کرنے کا اختیار دینے کیے درخواست بھی کی ہے۔ ایک اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ یہ لمحہ امریکہ اور تل ابیب کے تعلقات میں بے مثال ہے۔ایک اور اسرائیلی عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ وٹ کوف نے گزشتہ چند دنوں کے دوران ہونے والے مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے ہی معاہدے کو مکمل کرنے کے لیے ٹرمپ کی درخواست پر دباو ڈالا ہے۔
اسی تناظر میں ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ منی گورنمنٹ کے لیے جمعرات کو ملاقات کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ معاہدے پر اتوار کو عمل درآمد کیا جا سکتا ہے چاہے منظوری کل تک ملتوی کر دی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غزہ معاہدہ اتوار 12 بج کر 15 منٹ پر نافذ ہوسکتا ہے۔اسرائیلی میڈیا نے جمعرات کو یہ بھی اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی کابینہ آج جمعہ کو غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی منظوری کے لیے ایک اجلاس منعقد کرے گی۔ آج سے پہلے اس ڈیل پر ووٹنگ کے لیے منی سکیورٹی کابینہ کا آئندہ اجلاس ملتوی کر دیا گیا تھا۔
اجلاس اس لیے ملتوی کیا گیا تھا کیونکہ بنیادی وجوہات پر ابہام غالب تھا۔ العربیہ کے نمائندے نے وضاحت کی کہ یہ التوا اس وجہ سے ہوا تھا کہ دوحہ سے اسرائیلی وفد کی واپسی میں تاخیر ہوئی تھی۔ اس وفد کو اسرائیلی وزراء کو یہ بتانا ہو گا کہ وہ کس پر ووٹ دیں گے۔انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان عمر قید کی سزا پانے والے فلسطینی اسیران کے ناموں کے حوالے سے کچھ حل طلب تنازعات موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حماس ان فلسطینی قیدیوں کی فہرست میں اہم اور علامتی نام شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہے جن کی رہائی کا اس نے مطالبہ کیا ہے۔ امریکی، مصری اور قطری سرپرستی میں کئی مہینوں کے طویل مذاکرات کے بعد بدھ کو جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس مجوزہ معاہدے میں تین مراحل شامل ہیں۔
غزہ معاہدے پر عمل اتوار سے شروع ہوگا، ہم امریکیوں کی رہائی کے منتظر : بلنکن
نیویارک، 17جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی حکومتی توثیق کو ملتوی کرنے اور حماس پر اس کی بعض شقوں سے انکار کا الزام لگائے جانے کے بعد امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے معاہدے کے نفاذ کے وقت کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ غزہ معاہدے پر عمل درآمد اتوار سے شروع ہو جائے گا۔ غزہ معاہدے پر مکمل عمل درآمد ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے 15 ماہ کی تکالیف کے بعد غزہ پر ایک معاہدہ کیا۔انٹونی بلنکن نے مزید کہا کہ ہم غزہ معاہدے کے ایک حصے کے طور پر امریکیوں کی رہائی کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ معاہدہ امریکی سفارت کاری کی مضبوطی کا ثبوت ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے مزید طاقتور ہو گیا ہے۔ مزید برآں امریکی وزیر نے اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات معمول پر آنے کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے راستہ نکالنے کی ضرورت ہے۔واضح رہے اسرائیلی میڈیا نے جمعرات کو اطلاع دی کہ اسرائیلی کابینہ کل جمعہ کو غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی منظوری کے لیے ایک اجلاس منعقد کرے گی۔یاد رہے جنگ بندی معاہدہ، جس پر 3 مرحلوں میں عمل درآمد ہونا ہے، اگلے اتوار سے نافذ العمل ہوگا۔ معاہدے کا پہلا مرحلہ 6 ہفتوں پر محیط ہے۔
معاہدے کے تحت غزہ سے اسرائیلی افواج کا بتدریج انخلا ہوگا۔ پہلے مرحلے میں 33 اسرائیلیوں کی رہائی بھی شامل ہے جن میں پچاس سال سے زیادہ عمر کے تمام خواتین، بچے اور مرد شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی دو امریکی کیتھ سیگل اور سجوئے ڈیکل چن بھی رہا ہوں گے۔معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد سے متعلق مذاکرات پہلے مرحلے کے 16ویں روز شروع ہونے والے ہیں۔
اس مرحلے میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے تمام باقی ماندہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی ہوگی۔ ایک مستقل جنگ بندی ہوگی اور غزہ سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا کی امید ہوگی۔ تیسرے مرحلے میں باقی تمام میتوں کی واپسی اور مصر، قطر اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں غزہ کی تعمیر نو کا آغاز کیا جائے گا۔



