بین الاقوامی خبریں

سعودی عرب: یونیورسٹی کے استاد کا چاقو کے واروں سے بہیمانہ قتل

سعودی سیکیورٹی اداروں نے ہوائی اڈے پر روانگی سے قبل ہی اسے گرفتار کر لیا۔

ظہران، ۹؍جون (اردو دنیا/ایجنسیز):گزشتہ جمعرات کو سعودی عرب کے مشرقی شہر ظہران میں ایک نہایت افسوسناک اور لرزہ خیز واقعہ پیش آیا، جہاں جامعہ ملک فہد برائے پٹرولیم و معدنیات کے سابق پروفیسر ڈاکٹر عبد الملک قاضی کو ان کے گھر میں بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔ اس قتل میں ایک مصری باشندہ ملوث پایا گیا ہے جو اکثر ان کے گھر کھانے پینے کا سامان پہنچایا کرتا تھا۔

مقتول کے قریبی عزیز کے مطابق، ڈاکٹر عبد الملک طبیعت کے لحاظ سے کمزور تھے اور خود باہر نہیں جا سکتے تھے۔ قاتل نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سیکیورٹی گارڈ کو یہ کہہ کر دھوکہ دیا کہ وہ سامان لایا ہے، اور جیسے ہی وہ فلیٹ میں داخل ہوا، اس نے اچانک دس بار چاقو مار کر ڈاکٹر عبد الملک کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

قاتل نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ مقتول کی اہلیہ کو بھی چار چاقو مارے۔ زخمی خاتون نے قاتل سے منت سماجت کی، پیسے بھی دیے، لیکن وہ باز نہ آیا۔ خاتون اب بھی اسپتال میں انتہائی نگہداشت کے یونٹ (ICU) میں زیر علاج ہیں۔

مزید تفصیلات کے مطابق، ڈاکٹر عبد الملک قاضی نہ صرف اپنے قاتل کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے تھے بلکہ اس کی مالی مدد بھی کیا کرتے تھے۔ اس کے باوجود قاتل نے اپنے محسن کو نہایت سنگدلی سے قتل کیا۔

جب وہ فرار ہو رہا تھا تو زخمی خاتون نے سیکیورٹی گارڈ کو اطلاع دی، جس نے قاتل کو روکنے کی کوشش کی۔ جواباً قاتل نے گارڈ کو بھی چاقو مار دیا اور موقع سے فرار ہو گیا۔ تاہم سعودی سیکیورٹی اداروں نے ہوائی اڈے پر روانگی سے قبل ہی اسے گرفتار کر لیا۔ وزارت داخلہ کے مطابق اس قتل کی اصل وجہ چوری تھی، کیونکہ قاتل پر اپنے ملک مصر میں بھاری قرض تھا۔

قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر عبد الملک قاضی حدیث نبوی پر کئی کتابوں کے مصنف تھے اور علمی دنیا میں ایک معتبر مقام رکھتے تھے۔ ان کی نمازِ جنازہ ظہران میں ادا کی گئی، جہاں رفقاء، شاگردوں اور اہلِ علم کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button