یمن کے شہر مکلا کی بندرگاہ پر سعودی عرب کے فضائی حملے
یو اے ای سے آنے والے اسلحہ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
مکلا، یمن:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سعودی عرب کے زیرِ قیادت عرب اتحاد نے منگل کی علی الصبح یمن کے بندرگاہی شہر مکلا میں ایک محدود فضائی کارروائی انجام دی۔ اتحاد کے مطابق اس کارروائی میں مکلا بندرگاہ پر اتارے گئے اس مبینہ فوجی سامان کو نشانہ بنایا گیا جو جنوبی یمن کے علیحدگی پسند گروہ، جنوبی عبوری کونسل، کو فراہم کیا جا رہا تھا۔
عرب اتحاد کے مطابق متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ سے آنے والے دو بحری جہاز اتحاد کی اجازت کے بغیر ہفتہ اور اتوار کو مکلا بندرگاہ میں داخل ہوئے۔ اتحادی افواج کے ترجمان نے بتایا کہ ان جہازوں نے اپنے ٹریکنگ نظام بند کر رکھے تھے اور بندرگاہ پر بڑی مقدار میں ہتھیار اور جنگی گاڑیاں اتاریں، جن کا مقصد جنوبی عبوری کونسل کی فوجی مدد تھا۔
اتحاد نے کہا کہ یہ اسلحہ یمن اور پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے فوری خطرہ بن چکا تھا، اسی بنیاد پر منگل کی صبح ایک محدود اور انتہائی درست فضائی حملہ کیا گیا۔ سعودی سرکاری میڈیا کے مطابق اس کارروائی میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی اور اصل اہداف کے علاوہ کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
عرب اتحاد کی جانب سے ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے جس میں جہازوں کے لنگر انداز ہونے کے بعد ہتھیاروں اور جنگی گاڑیوں کی منتقلی دکھائی گئی ہے۔ اتحادی افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی کے مطابق یہ کارروائی یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی کی درخواست پر کی گئی، جنہوں نے حضرموت اور المَہرہ میں شہریوں کے تحفظ پر زور دیا تھا۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ کارروائی اس وقت کی گئی جب بین الاقوامی انسانی قوانین کے مطابق ہتھیاروں کی منتقلی کی مکمل جانچ ہو چکی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اسلحہ کی یہ ترسیل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی 2015 کی قرارداد نمبر 2216 کی واضح خلاف ورزی تھی۔
یہ فضائی حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی عبوری کونسل نے مشرقی صوبہ حضرموت اور المَہرہ میں اپنی فوجی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ چند روز قبل عرب اتحاد نے اس گروہ کو ان علاقوں میں پیش قدمی سے باز رہنے کی وارننگ بھی دی تھی۔ جنوبی عبوری کونسل نے حالیہ دنوں میں سعودی حمایت یافتہ فورسز کو پیچھے دھکیلتے ہوئے اپنا اثر و رسوخ بڑھایا ہے۔
سعودی عرب کے وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے جنوبی عبوری کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ حضرموت اور المَہرہ سے دستبردار ہو کر اقتدار مقامی حکام کے حوالے کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی یمن کا مسئلہ نہایت حساس ہے اور اسے صرف اتفاقِ رائے اور یمنی عوام کے درمیان اعتماد سازی کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق مکلا بندرگاہ پر ہونے والی یہ کارروائی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی واضح علامت ہے، جو یمن کی طویل خانہ جنگی کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
Saudi airstrikes hit Yemen’s Mukalla Port, targeting ships from the UAE carrying armored vehicles and weapons for UAE-backed Southern Transitional Council (STC) separatists.
Tensions between Saudi-backed and UAE-backed forces have escalated sharply after pro-UAE forces seized… pic.twitter.com/VJr48aEm4j
— ExtraOrdinary (@Extreo_) December 30, 2025



