بین الاقوامی خبریں

سعودی عرب:سرکاری حکام اور تارکین وطن سمیت متعدد افراد بدعنوانی کے الزامات پر گرفتار

مالیاتی بینک کے ایک ملازم کی مدد سے 10 کروڑ ریال سے زیادہ مالیت کی فنانسنگ حاصل کرنے کے الزام

ریاض، 27ستمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) سعودی عرب کے محکمہ انسداد بدعنوانی (کنٹرول اینڈ اینٹی کرپشن اتھارٹی،نزاہہ) نے بدعنوانی کے الزامات میں متعدد سکیورٹی افسروں، سرکاری ملازمین اور تارکین وطن کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے۔اب اتھارٹی ان کے کیسوں کوعدالتوں میں بھیجنے سے پہلے قانونی طریق کار کو مکمل کررہی ہے تاکہ ان کے خلاف مقدمات چلائے جا سکیں۔اتھارٹی نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ گرفتار افراد میں فوجداری عدالت کا ایک ملازم اور ایک وکیل بھی شامل ہے۔ انھیں ایک زیرِالتوا کیس میں ایک شہری کی بریت کے فیصلے کی توثیق کے بدلے میں 15 لاکھ ریال کی رقم وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا۔ دو شہریوں کو اس وقت رنگے ہاتھوں پکڑا گیا جب انھوں نے اپنے بھائی کے حصے کی مد میں 10 لاکھ ریال وصول کیے۔یہ بھائی اسی عدالت میں کیس کی سماعت کرنے والے جج ہیں اور ان جج صاحب کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔

مالیاتی بینک کے ایک ملازم کی مدد سے 10 کروڑ ریال سے زیادہ مالیت کی فنانسنگ حاصل کرنے کے الزام میں ایک تاجر کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔نزاہہ کے بیان کے مطابق ایک اماراتی شخص کو اسپورٹ سروسز ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر کو غیر قانونی طریقے سے منصوبے دینے کے بدلے میں اپنے ایک جاننے والے سے تعلق رکھنے والے تجارتی ادارے سے ایک کروڑ 20 لاکھ ریال وصول کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیاہے۔ایک قانونی فرم کے مالک کو اس وقت رنگے ہاتھوں پکڑا گیا جب اسے ایک تجارتی ادارے کے مالک کی جانب سے ایک لاکھ 80 ہزار ریال موصول ہوئے۔اس کے خلاف ایک قانونی فرم اور لیگل کنسلٹنگ کمپنی سے رپورٹ جاری کرنے کے بدلے میں ایک کروڑ 10 لاکھ ریال کا کمرشل کیس زیر التوا ہے۔اسے اس کیس کی نگرانی کرنے والے جج نے ماہر مقرر کیا تھا۔ وکیل سے ایک لاکھ 70 ہزار ریال وصول کرنے پر ایک شہری کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ یہ رقم رپورٹ جاری کرنے کے بدلے میں قانونی فرم کے مالک کا حصہ بتائی جاتی ہے۔

بیان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے کے ایک افسرکو ایک غیر ملکی سے پانچ لاکھ نو ہزار ریال وصول کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔یہ لیفٹیننٹ کرنل سول ڈیفنس کی ڈائریکٹ پرچیز کمیٹی کے سربراہ کے طور پر کام کرتے ہیں اور تارک وطن ایک تجارتی ادارے کے لیے کام کرتا ہے۔اس کرنل نے اس رقم کے بدلے میں تجارتی ادارے کو براہ راست سرٹیفکیٹ جاری کیے تھے اور مالی واجبات کی ادائی کے طریق کار میں سہولت فراہم کی تھی۔اس تارک وطن کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ایک سرکاری اسپتال میں ڈاکٹر کے طور پر کام کرنے والے ایک اور تارکِ وطن کو حراست میں لیا گیا ہے۔اس نے اتنی مقدار میں ادویہ اسمگل کرنے کی کوشش کی تھی جو مریضوں کو مفت دی جاتی ہیں اور وہ قابل فروخت نہیں ہیں۔ محکمہ صحت میں کام کرنے والے ایک ملازم کو دو غیر ملکی مرد و خواتین ڈاکٹروں سے اکہترہزار ریال وصول کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔اس نے اس رقم کے بدلے میں ان ڈاکٹروں کی طبی درجہ بندی میں اس طرح ترمیم کی تھی جو ان کی قابلیت سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button