بین الاقوامی خبریںسرورق

سعودی عرب میں غیر ملکی کارکنوں کے لیے چار ملازمتوں پر نئی پابندیاں

سعودی عرب میں غیر ملکی کارکنوں کے لیے چار اعلیٰ عہدوں پر سخت پابندیاں

الریاض 29۔جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سعودی عرب میں غیر ملکی کارکنوں کے لیے ایک بڑی پالیسی تبدیلی سامنے آئی ہے جس نے مقیم غیر ملکی برادری میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ انتیس جنوری دو ہزار چھبیس کو سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق سعودی حکومت نے چار اعلیٰ اور حساس پیشہ ورانہ عہدوں کو غیر ملکیوں کے لیے محدود کر دیا ہے۔ وزارتِ افرادی قوت کے تحت کام کرنے والے کیوا پلیٹ فارم نے ان عہدوں کے لیے غیر ملکی کارکنوں کی پیشہ جاتی تبدیلی کی درخواستیں قبول کرنا بند کر دی ہیں۔

سب سے اہم اور سخت فیصلہ جنرل منیجر کے عہدے سے متعلق ہے، جسے اب مکمل طور پر سعودی شہریوں کے لیے مخصوص کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ عہدہ غیر ملکیوں کے لیے اقامہ کے اختیارات سے مکمل طور پر خارج کر دیا گیا ہے۔ جو غیر ملکی اس وقت اس عہدے پر کام کر رہے ہیں، انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ متبادل انتظامی عہدوں جیسے چیف ایگزیکٹو یا چیئرمین میں تبدیلی کروائیں، تاہم اس کے لیے سخت کمرشل رجسٹری شرائط پوری کرنا لازمی ہوگا۔

نئے ضوابط کے تحت جن چار عہدوں پر غیر ملکیوں کے لیے پابندیاں یا سخت سعودائزیشن نافذ کی گئی ہے، ان میں جنرل منیجر، سیلز نمائندہ، مارکیٹنگ ماہر اور پروکیورمنٹ منیجر شامل ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد نجی شعبے کے اہم اور آمدنی پیدا کرنے والے شعبوں میں مقامی قیادت اور نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔

حکومت نے کم از کم تنخواہوں کا تعین بھی کر دیا ہے، جس کے تحت سیلز اور مارکیٹنگ کے شعبے میں سعودی ملازمین کو کم از کم پانچ ہزار پانچ سو سعودی ریال ماہانہ ادا کرنا لازمی ہوگا، جبکہ تکنیکی اور انجینئرنگ عہدوں کے لیے یہ حد آٹھ ہزار سعودی ریال ماہانہ مقرر کی گئی ہے۔ اگر یہ شرائط پوری نہ کی گئیں تو ایسے ملازمین کو لوکلائزیشن کوٹے میں شمار نہیں کیا جائے گا۔

نئے نظام کے تحت کسی بھی کمپنی کو مخصوص حد سے زیادہ غیر ملکی ملازمین رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ جب کسی پیشے کا کوٹہ مکمل ہو جائے گا تو مزید غیر ملکی کارکنوں کے لیے ورک پرمٹ یا اقامہ جاری نہیں کیا جا سکے گا، چاہے مہارت یا طلب کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔

حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد صرف تعداد کم کرنا نہیں بلکہ روزگار کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔ سعودی وزیر محنت احمد الراجحی کی قیادت میں حکومت سعودی شہریوں کو ابتدائی درجے کی نوکریوں سے نکال کر فیصلہ سازی اور قیادت کے کرداروں میں لانا چاہتی ہے، تاکہ نجی شعبے کی قیادت مضبوط بنیادوں پر مقامی ہاتھوں میں آ سکے۔

ان پالیسیوں کے تحت موجودہ غیر ملکی ملازمین کو محدود مدت کی اصلاحی مہلت دی گئی ہے، تاہم ان عہدوں پر نہ تو نئے ویزے جاری ہوں گے اور نہ ہی پیشوں میں تبدیلی کی اجازت دی جائے گی۔ کمپنیوں کو بھی تین ماہ کی مہلت دی گئی ہے تاکہ وہ اپنے عملے کو نئے ساٹھ فیصد سعودی کوٹے کے مطابق ڈھال سکیں۔

ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ سعودی عرب میں مستقبل قریب میں غیر ملکیوں کے لیے ملازمتوں کا مقابلہ مزید سخت ہو جائے گا، خاص طور پر اعلیٰ اور انتظامی عہدوں پر۔ اس کے برعکس سعودی نوجوانوں کے لیے یہ پالیسی نجی شعبے میں بااثر اور اعلیٰ کیریئر مواقع کے نئے دروازے کھول سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button