بین الاقوامی خبریں

سعودی عرب میں ہتھیار چلانے کی خاتون ٹرینر اولمپک میں حصہ لینے کی خواہشمند

الریاض :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سعودی عرب میں ایک خاتون ’ٹاپ گن‘ فائرنگ رینج کی ٹرینر کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ ریاض میں آتشیں ہتھیار کے استعمال کی ٹریننگ میں اب زیادہ سے زیادہ خواتین حصہ لے رہی ہیں۔سعودی عرب میں یوں تو بہت سے شعبہ ہائے زندگی میں خواتین کی شمولیت سے متعلق انقلابی تبدیلیاں توجہ کا مرکز بن ہی رہی ہیں۔

تاہم اب ایک ایسے شعبے میں بھی ایک باہمت خاتون نے اپنی صلاحیتوں کو منوایا ہے، جسے اب تک اس معاشرے میں خالصتاً مردوں کا شعبہ سمجھا جاتا تھا۔مونا الخریص کی عمر 36 سال ہے۔ انہیں بچپن ہی سے بندوقوں میں گہری دلچسپی تھی اور انہیں چلانے کا شوق بھی بہت تھا۔

ان کے والد انہیں بہت کم عمری سے ہی اپنے ساتھ شکار پر لے جایا کرتے تھے اور انہوں نے خود اپنی بیٹی مونا کو بندوق چلانا سکھایا تھا۔ پانچ سال قبل مونا کا یہ شوق ان کے پیشے میں تبدیل ہو گیا۔انہوں نے اپنے ملک کے اندر اور بیرون ملک رائفل شوٹنگ کی ٹریننگ حاصل کی تاکہ وہ ایک دن بندوق اور رائفل چلانے کی سند یافتہ ٹرینر کی حیثیت سے جانی جانے لگیں۔

اب وہ ریاض میں خود خواتین کو رائفل شوٹنگ کی تربیت دے رہی ہیں اور روز بروز سعودی خواتین کی ان کے ٹریننگ سینٹر میں شمولیت بڑھتی جا رہی ہے۔ مونا الخریص کہتی ہیں کہ میں اپنے مشغلے کو عملی جامہ پہنانے اور ایک کوچ اور سیفٹی آفیسر بننے میں کامیاب ہونے پر بہت خوش ہوں۔

ان کا مزید کہنا تھاکہ مجھے امید ہے کہ میں سعودی لڑکیوں کے ساتھ اپنا تجربہ بانٹ سکوں گی اور انہیں اس مشکل شعبے یا میدان میں داخل ہونے کی ترغیب دے سکوں گی۔ کیونکہ یہ شعبہ پہلے محض مردوں کے لیے تھا۔سعودی عرب میں ہر سال باز اور شکروں کو شکار کے لیے سدھانے کا ایک شو منعقد ہوتا ہے۔یہ دراصل شکار کے لیے استعمال ہونے والے مخصوص ہتھیاروں کی ایک اہم نمائش ہوتی ہے، جو ریاض میں منعقد ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button