ابہا ایئر پورٹ حملہ

الریاض:(ایجنسی) سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اپنے امریکی ہم منصب اینٹنی بلنکن سے ٹیلی فون پر گذشتہ روز ابھا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ڈرون حملے سمیت علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔مملکت کی سرکاری نیوز ایجنسی ’’ایس پی اے‘‘ کے مطابق شہزادہ فیصل اور اینٹنی بلنکن سعودی عرب نے ایران کی پروردہ حوثی ملیشیاؤں کی معاندانہ کارروائیاں روکنے اور یمن کے جاری بحران کے سیاسی تصفیے کے حل کی ضرورت پر زور دیا۔
اینٹنی بلنکن نے ابہا ہوائی اڈے پر حملے میں مسافر جہاز کو پہنچنے والے نقصان اور آ تشزدگی پر واشنگٹن کی مذمت کا ایک مرتبہ پھر اعادہ کیا۔ ایرانی حمایت یافتہ تنظیم نے ہوائی اڈے پر حملے کے فورا بعد اس کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سرائے نے ایک ٹویٹ کے ذریعے بتایا کہ بغیر پائلٹ ڈرون فضائیہ نے یمنی عوام پر حملوں اور مقاصد کے لئے استعمال ہونے والے ابہا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی ایئر فیلڈ پر لڑاکا طیاروں کو چار ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ الحمد للہ! یہ نشانہ ٹھیک بیٹھا۔قبل ازیں امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب کہ حوثی ملیشیا سعودی عرب پر حملے کر رہی ہے ،
علاقائی صورتحال پر امریکی- سعودی وزرائے خارجہ کا تبادلہ خیال
ہم ہاتھ باندھے کھڑے نہیں رہیں گے۔ امریکی وزیر خارجہ نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ سعودی عرب ایک اہم سیکورٹی شراکت دار ہے ۔اس سے قبل امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نڈ پرائس نے بتایا تھا کہ وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے ابہا کے ہوائی اڈے پر دہشت گرد حوثی ملیشیا کے حملے کے بعد اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے بات چیت کی تھی۔
انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکا بارہا یہ موقف دہرا چکا ہے کہ وہ دفاعی صلاحتیوں کو مضبوط بنانے کے لیے سعودی عرب کی مدد کے لیے پر عزم ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ حوثی قیادت اگر یہ گمان کر رہی ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ دباؤ کم کر دے گی تو وہ غلطی پر ہے۔ یہ لوگ ایک بڑے دباؤ کے نیچے ہوں گے۔



