گوشہ خواتین و اطفال

سیدہ جعفر :کثیر الجہات شخصیت :ایک مطالعہ

ڈاکٹر صالحہ صدیقی (الہ آباد)

تعارف اور اہمیت

اردو زبان و ادب کے فروغ میں حیدرآباد دکن کا اہم کردار رہا ہے۔ یہ شہر ہمیشہ علم و ادب کا گہوارہ رہا ہے، اور جامعہ عثمانیہ کی علمی خدمات اس ادبی گہوارے کا نمایاں حصہ ہیں۔ اسی ادارے سے وابستہ پروفیسر سیدہ جعفر ایک کثیرالجہت شخصیت تھیں جنہوں نے علمی، ادبی، تحقیقی، تنقیدی اور تدریسی شعبوں میں منفرد شناخت حاصل کی۔


خاندانی پس منظر اور ذاتی شناخت

سیدہ جعفر کی ذاتی زندگی سے جڑے حقائق ان کی علمی اور ادبی شخصیت کو مزید اجاگر کرتے ہیں۔ آپ کی والدہ کا نام صغریٰ بیگم اور والد کا نام سید جعفر علی تھا۔ ان کے شوہر سید احمد مہدی، جو حیدرآباد میں سیول سائٹ پر ایڈوکیٹ کے طور پر پراکٹس کرتے تھے، ہاشم نواز جنگ کے نواسے اور عالم یار جنگ کے بھانجے تھے۔ ان کے دو بیٹے بھی نمایاں ہیں؛ بڑے بیٹے ڈاکٹر نوازش مہدی میکانیکل انجینئرنگ کے پروفیسر اور مفخم جاہ انجینئرنگ کالج میں تدریس کرتے ہیں جبکہ چھوٹے بیٹے کیپٹن سید حسین مہدی، دکن ایران ایر لائنس میں بطور پائلٹ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مزید برآں، سیدہ جعفر کے دادا سید سجاد علی کے چھوٹے بھائی نواب مہدی نواز جنگ سابق گورنر گجرات تھے۔ ان کا خاندانی پس منظر علمی ورثے اور بلند مقام کی دلیل ہے۔


خاندانی وراثت اور ادبی روایت

سیدہ جعفر کے خاندان میں علمی اور ادبی شخصیات کی بھرمار تھی۔ ان کے جد اعلیٰ سید رضیؓ جنہوں نے حضرت علیؓ کے خطبات کا مجموعہ ’’نہج البلاغہ‘‘ مرتب کیا، اور ان کے بھائی سید مرتضیٰ ؒ ’’اعلام الہدی‘‘ کے نام سے معروف تھے، اسلام کے عظیم الشان علما میں شمار ہوتے ہیں۔ اسی کے ساتھ، سید محمد والہ موسوی بھی ان کے جد اعلیٰ میں شامل ہیں۔ دکن کے ممتاز محقق حکیم شمس اللہ قادری نے سید محمد والہ کی سوانح لکھی، جبکہ محمد تقی ہمدم نے ’’لمعات شمس‘‘ میں والہ کے خاندان کے حالات کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ سیدہ جعفر خود اپنے خاندان پر فخر کرتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ ان کا تعلق ایران کے صفوی گھرانے سے ہے، جس کی بنا پر وہ موسوی الصفوی کہلاتے ہیں۔


تعلیمی سفر اور تحقیقی کاوشیں

سیدہ جعفر نے جامعہ عثمانیہ سے انٹرمیڈیٹ اور بی اے کی اعلیٰ نمبروں سے تعلیم حاصل کی۔ ان کے مضامین میں Economics اور Sociology بھی شامل تھے۔ پروفیسر عبدالقادر سروری کی زیر نگرانی ’’اردو مضمون کا ارتقا ء‘‘ کے موضوع پر مقالہ لکھ کر 1959ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ 1965ء میں شعبہ اردو جامعہ عثمانیہ میں ریڈر مقرر ہوئیں، 1983ء میں پروفیسر بنیں اور 1984ء سے 1986ء تک صدر شعبہ اردو کے عہدے پر فائز رہیں۔ فروری 1991ء میں اردو کے پروفیسر کے طور پر حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی منتقل ہوئیں اور 1994ء میں وظیفہ پر سبکدوشی کے بعد مزید دو سال کی توسیع حاصل کی۔ ان کی ادبی تحقیق و جستجو نے انہیں پاکستان، ایران اور لندن جیسے ممالک تک پہنچایا جہاں انہوں نے علمی استفادہ کیا۔


ادبی خدمات اور تصانیف

پروفیسر سیدہ جعفر ایک کثیر التصانیف ادیبہ تھیں جن کا طرز نگارش عالمانہ، مفکرانہ اور سنجیدہ تھا۔ انہوں نے اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان پر بھی گرفت مضبوط رکھی۔ اب تک 32 کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں متعدد تصانیف ایسے بھی شامل ہیں جن کے تراجم انگریزی، عربی، مراٹھی اور میتھلی زبانوں میں ہو چکے ہیں۔ دکنیات کے علاوہ رثائی ادب پر بھی ان کی گہری نظر تھی۔ معروف نقاد پروفیسر شارب ردولوی نے ان کے اس انداز کو سراہتے ہوئے لکھا کہ ڈاکٹر سیدہ جعفر نہ صرف قدیم ادب یا دکنیات بلکہ جدید ادب پر بھی اتنی ہی دسترس رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر زور کی درخواست پر انہوں نے شاہ تراب چشتی کی مثنوی ’’من سمجھاون‘‘ پر تحقیقی کام کیا اور ثابت کیا کہ یہ مراٹھی شاعر رام داس کی کتاب ’’شری مناچے شلوک‘‘ سے متاثر ہو کر لکھی گئی ہے۔


دکنی ادب اور تحقیقی دلچسپی

سیدہ جعفر کو دکنی ادب سے خاص دلچسپی پیدا ہوئی اور انہوں نے تحقیق کی دنیا میں قدم رکھا۔ مرحوم عبد الحق، وحیدالدین سلیم اور ڈاکٹر زور کی روایات کو اپنے تحقیقی مقالوں میں محفوظ رکھا اور ان کا مقالہ ہندی، مراٹھی اور عربی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ ان کی پہلی کتاب ’’ماسٹر رام چندر اور اردو نثر کے ارتقا میں ان کا حصہ‘‘ تھی اور دکنی ادب کی دیگر اہم تصانیف میں ’’من سمجھاون‘‘، ’’دکنی رباعیاں‘‘، ’’سکھ انجن‘‘، ’’دکنی نثر کا انتخاب‘‘، ’’مثنوی یوسف زلیخا‘‘، ’’چندر بدن و مہیار‘‘، ’’کلیات محمد قلی قطب شاہ‘‘، ’’مثنوی ماہ پیکر‘‘، ’’جنت سنگار‘‘، ’’دکنی ادب میں قصیدے کی روایت‘‘، ’’مثنوی گلدستہ‘‘ اور ’’نوسرہار‘‘ شامل ہیں۔ ان کے اہم کارناموں میں محمد قلی کی بارہ نایاب غزلیں اردو دنیا سے متعارف کرانا بھی قابل ذکر ہے جنہیں لندن کے ایک نوادرات تاجر سے حاصل کیا گیا تھا۔


لغت نویسی، ترجمہ اور تنقیدی تصانیف

دکنی لغت میں سیدہ جعفر نے ساڈھے تیرہ ہزار اندراجات کے ساتھ ہر لفظ کی جنس، واحد جمع، ماخذ اور محل استعمال کی نشاندہی کی۔ انہوں نے دکنی تحقیق سے ہٹ کر تنقید، ترجمہ، لغت نویسی اور ادبی تاریخ میں نمایاں کارنامے انجام دیئے۔ ہر دیا کماری کی تصنیف ’’ویلا تھال‘‘ کا اردو میں ترجمہ جو 1990ء میں ساہتیہ اکیڈمی سے شائع ہوا، ان کے تراجم کے میدان میں ان کے عزم کی دلیل ہے۔ ساہتیہ اکیڈمی کی جانب سے ان کی تین تصانیف اردو ادب کے معمار سلسلے میں شائع ہو چکی ہیں جن میں ’’ڈاکٹر زور‘‘، ’’مخدوم محی الدین‘‘ اور ’’فراق گو رکھپوری‘‘ شامل ہیں۔


تنقیدی جائزے اور ادبی تجزیہ

ان کی تنقیدی کتابیں جیسے ’’تنقید و انداز نظر‘‘، ’’مہک اور محک‘‘، ’’فن کی جانچ‘‘ اور ’’تفہیم و تجزیہ‘‘ اردو ادب کے سرمایہ میں ایک قیمتی اضافہ ہیں۔ پروفیسر سید احتشام حسین کے مطابق سیدہ جعفر کی ذہنی صلاحیتیں تحقیق اور تنقید دونوں میدانوں میں بے مثال تھیں اور ان کی نگارش میں ہمواری اور توازن نمایاں تھا۔ پروفیسر گیان چند جین نے ’’سیدہ جعفر بہ حیثیت محقق‘‘ میں ان کی تحقیقی کاوشوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا، جس میں سماجی، اصلاحی، تاریخی، سیاسی، رومانی، مذہبی، فلسفیانہ، مزاحیہ اور تنقیدی پہلوؤں کو شامل کیا گیا ہے۔


مشترکہ تحقیقی منصوبے اور قومی تعاون

قومی کونسل کی جانب سے سیدہ جعفر نے پروفیسر گیان چند جین کے اشتراک سے ’’تاریخ ادب اردو 1700ء تک‘‘ کے پانچ جلدوں کا عظیم کام سرانجام دیا۔ گیان چند جین نے لکھا کہ انہوں نے مشترکہ طور پر یہ ذمہ داری نبھائی جس میں سیدہ جعفر نے 1700 صفحات پر مشتمل تحقیقی مواد فراہم کیا جبکہ باقی حصے کو انہوں نے تفصیل سے تیار کیا۔ اس تحقیقی کام کی وسعت اور جامعیت نے ادبی حلقوں میں خاص پذیرائی حاصل کی۔


اعزازات، انعامات اور علمی میراث

سیدہ جعفر کی ادبی اور تحقیقی خدمات کے اعتراف میں انہیں دو درجن سے زائد اعزازات و انعامات سے نوازا گیا۔ ان میں ’’قاضی عبد الودود ایوارڈ‘‘، ’’مخدوم ادبی ایوارڈ‘‘، ’’ڈاکٹر زور ایوارڈ‘‘، ’’نوائے میر ایوارڈ‘‘، ’’فراق گورکھپوری ایوارڈ‘‘، ’’ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ‘‘ اور عالمی فروغ اردو ادب ایوارڈ برائے 2009 شامل ہیں۔ ان اعزازات نے نہ صرف ان کی محنت کا اعتراف کیا بلکہ ان کی علمی میراث کو بھی ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔


نتیجہ اور ادبی ورثہ

پروفیسر سیدہ جعفر نے اردو دنیائے ادب کے لیے بے پناہ علمی و ادبی سرمایہ چھوڑا۔ 24 جون 2016 کو اس جہان فانی سے کوچ کر جانے کے بعد ان کی کمی اردو ادب کی دنیا میں ناقابل تلافی رہ گئی۔ اردو دنیا کے اداریہ نے اپریل 2013 میں لکھا کہ "سیدہ جعفر، اردو تحقیق و تنقید کا ایک بڑا نام ہے”۔ ان کے طویل ادبی سفر کے تمام گوشوں کا احاطہ اس مختصر مقالے میں ممکن نہ ہو سکا، مگر ان کی زندگی کے مختلف رنگ اور ان کے ادبی کارنامے یقیناً اردو کے ورثے میں اہم اضافہ ہیں جو کبھی فراموش نہیں کیے جا سکتے۔


ڈاکٹر صالحہ صدیقی (الہ آباد)

متعلقہ خبریں

Back to top button