قومی خبریں

ملزم کو حراست میں لینے کے وقت سے شروع ہوگی 24 گھنٹوں کی مدت-سپریم کورٹ

پولیس کی جانب سے گرفتاری درج کرنے کے وقت سے نہیں بلکہ آزادی سلب کیے جانے کے لمحے سے ہوگا حساب، چار ملزمین کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

نئی دہلی، 5 نومبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) سپریم کورٹ نے گرفتاری اور حراست سے متعلق ایک اہم قانونی اصول واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی شخص کو گرفتاری کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کی آئینی مدت اس وقت سے شروع ہوگی جب اس کی آزادی سلب کرکے اسے حقیقت میں حراست میں لیا جائے۔ پولیس کی جانب سے گرفتاری کی باضابطہ کارروائی درج کرنے کے وقت سے اس مدت کا حساب نہیں لگایا جائے گا۔

یہ فیصلہ تریپورہ ہائی کورٹ کے اس حکم کے خلاف دائر چار افراد کی اپیلوں پر سنایا گیا، جنہیں نارکوٹک ڈرگس اینڈ سائیکو ٹروپک سبسٹنس (NDPS) ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں ضمانت دینے سے انکار کردیا گیا تھا۔

جسٹس اجل بھویان اور جسٹس اتل ایس چندرکر پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ نے واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 22(2) کے تحت مقررہ 24 گھنٹوں کی مدت کا تعین اس تاریخ اور وقت سے ہوگا جب متعلقہ شخص کو حقیقت میں حراست میں لیا گیا ہو۔ تفتیشی ایجنسی کی جانب سے گرفتاری کا باضابطہ اندراج اس مدت کے آغاز کی بنیاد نہیں بن سکتا۔

آئین کے آرٹیکل 22(2) کے مطابق گرفتار اور حراست میں لیے گئے ہر شخص کو گرفتاری کے مقام سے مجسٹریٹ کی عدالت تک سفر کے لیے درکار وقت کو چھوڑ کر 24 گھنٹوں کے اندر قریبی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا لازمی ہے۔ اس مدت سے زیادہ کسی شخص کو مجسٹریٹ کی اجازت کے بغیر حراست میں نہیں رکھا جاسکتا۔

سپریم کورٹ نے پولیس کی اس دلیل کو مسترد کردیا کہ تلاشی اور ضبطی کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد باضابطہ گرفتاری درج کیے جانے کے وقت سے 24 گھنٹوں کا حساب شروع ہونا چاہیے۔ بنچ نے قرار دیا کہ اس طرح کی تشریح نہ صرف قانون کے خلاف ہے بلکہ مکمل طور پر غیر آئینی بھی ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ اگر کسی شخص کو حراست میں لینے کے بعد 24 گھنٹے گزر جائیں اور اسے مجسٹریٹ کے سامنے پیش نہ کیا جائے تو اسے فوری طور پر رہا کرنا ہوگا۔ اس مدت کا حساب لگاتے وقت صرف عدالت تک پہنچنے کے لیے ضروری سفری وقت ہی مستثنیٰ ہوگا، کسی دوسری کارروائی کے لیے اضافی وقت کو اس میں سے منہا نہیں کیا جاسکتا۔

بنچ نے بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (BNSS) کی دفعہ 58 کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی واضح کیا کہ 24 گھنٹوں کی آئینی حد کی پابندی ہی کسی شخص کی حراست کو خودبخود جائز قرار نہیں دیتی۔ پولیس کے لیے ضروری ہے کہ وہ حالات کے مطابق حراست کا دورانیہ بھی معقول رکھے۔

دفعہ 58 کے تحت پولیس کسی ایسے شخص کو، جسے وارنٹ کے بغیر گرفتار کیا گیا ہو، غیر ضروری طور پر حراست میں نہیں رکھ سکتی۔ مجسٹریٹ کے خصوصی حکم کے بغیر ضروری سفری وقت کو چھوڑ کر یہ مدت 24 گھنٹوں سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔

سپریم کورٹ نے مجسٹریٹس کی ذمہ داری پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ جب کسی ملزم کو عدالت میں پیش کیا جائے تو مجسٹریٹ کو یہ ریکارڈ کرنا ہوگا کہ اس کی آزادی کس تاریخ اور کس وقت سلب کی گئی تھی۔ اس کے بعد مجسٹریٹ کو خود جانچنا ہوگا کہ آیا آئین کے تحت مقررہ 24 گھنٹوں کی مدت کی پابندی کی گئی ہے یا نہیں۔

عدالت نے مزید کہا کہ اگر کسی ملزم کو 24 گھنٹوں کے اندر پیش بھی کردیا جائے، تب بھی مجسٹریٹ کو یہ دیکھنا ہوگا کہ حراست کا دورانیہ مقدمے کے حالات کے مطابق معقول تھا یا نہیں۔ اگر حراست غیر ضروری طور پر طویل پائی جائے تو مجسٹریٹ مزید ریمانڈ دینے سے انکار کرسکتا ہے۔

سپریم کورٹ نے تریپورہ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے چاروں اپیل کنندگان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے کہا کہ ان کی رہائی خصوصی عدالت کی جانب سے عائد کردہ شرائط کے مطابق عمل میں لائی جائے گی۔

اردو دنیا نیوز — ہر خبر آپ کے ساتھ!

تازہ خبروں اور خصوصی ویڈیوز کے لیے ہمارے واٹس ایپ گروپ، یوٹیوب چینل اور موبائل ایپ سے جڑیں

متعلقہ خبریں

Back to top button