قومی خبریں

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: آرٹیکل 32 کے تحت سزائے موت کو چیلنج کیا جا سکتا ہے

عدالت نے اپنے ہی پرانے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سپریم کورٹ نے پیر کے روز ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ سزائے موت کو آرٹیکل 32 کے تحت چیلنج کیا جا سکتا ہے، اگر سزا سناتے وقت عدالت کے لازمی رہنما اصولوں پر عمل نہ کیا گیا ہو۔

یہ فیصلہ ایک ایسے مقدمے میں سامنے آیا ہے جس میں مہاراشٹر کے ایک شخص وسنتا سمپتا دوپارے کو چار سالہ بچی کے ریپ اور قتل کے جرم میں 2017 میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ اس وقت سپریم کورٹ نے بھی ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا، لیکن اب عدالت نے اپنے ہی پرانے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

عدالت نے کہا کہ سزائے موت سناتے وقت لازمی ہے کہ مجرم کے حق میں موجود نرم گوشے (Mitigating Circumstances) پر تفصیلی غور کیا جائے۔ یہی اصول "منوج بنام اسٹیٹ آف مدھیہ پردیش” (2022) فیصلے میں طے کیا گیا تھا۔ اب دوپارے کے کیس میں سزا پر از سر نو سماعت ہوگی۔

بینچ جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس سنجے کرول اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل تھی۔ عدالت نے کہا کہ آرٹیکل 32 کے تحت صرف انہی کیسز کو دوبارہ کھولا جا سکتا ہے جن میں بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہوئی ہو اور جہاں عدالتی رہنما اصولوں پر عمل نہ کیا گیا ہو۔ تاہم، عدالت نے خبردار کیا کہ آرٹیکل 32 کو معمولی بنیاد پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

"ری اوپننگ صرف ان معاملات میں ہوگی جہاں لازمی رہنما اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہوئی ہو، ورنہ یہ مجرم کے زندگی کے بنیادی حق کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔”یہ فیصلہ مستقبل کے سزائے موت کے مقدمات کے لیے ایک اہم نظیر (precedent) ثابت ہوگا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button