انفارمیشن کمشنرز کی تقرری پر سپریم کورٹ کی مرکز اور ریاستی حکومتوں کو ہدایت چار ہفتوں میں اسٹیٹس رپورٹ پیش کریں
نئی دہلی،07؍جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)انفارمیشن کمشنرز کی تقرری کے معاملے میں سپریم کورٹ نے مرکز اور ریاستوں کو انفارمیشن کمشنرز (Central Information Commission) کی خالی آسامیوں کو پر کرنے کے بارے میں اسٹیٹس رپورٹ درج کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے کہا کہ مرکز اور ریاستوں کو چار ہفتوں میں اسٹیٹس رپورٹ درج کرانی ہوگی۔ در اصل عدالت ملک بھر میں انفارمیشن کمشنرز کی تقرری سے متعلق سرگرم کارکن انجلی بھاردواج کی طرف سے مفادات عامہ کی درخواست کی سماعت کررہی ہے۔
پرشانت بھوشن درخواست گزار کی طرف سے پیش ہوئے ، انہوں نے دلیل دی کہ سپریم کورٹ نے خالی #آسامیاں کو کرنے کے لئے 2020 میں مرکز کو ہدایات جاری کی تھی ، لیکن عدالت کی ہدایات کے باوجود خالی عہدوں کو پُر نہیں کیا گیا۔ پرشانت بھوشن نے #عدالت کو بتایا کہ سپر یم کورٹ نے سلیکشن پینل میں صرف بیوروکریٹس کے #انتخاب کے عمل کو ختم کردیا تھا اور کہا ہے کہ انتخاب کے لیے معیار ریکارڈمیں ہونا چاہئے۔
ایڈیشنل سالیسٹر جنرل مادھوی دیوان نے عدالت کو بتایا کہ یہ تقرریاں سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق کی گئیں ہیں۔ اس پر عدالت نے کہا کہ مرکز کی جانب سے دائر حلف نامہ ڈیڑھ سال سے زیادہ پرانا ہے۔ ایسی صورتحال میں آسامیاں پُر کرنے پر نئی اسٹیٹس رپورٹ درج کی جانی چاہئے۔ پرشانت بھوشن نے کہا کہ #مہاراشٹرا ، مغربی #بنگال جیسی کچھ ریاستوں نے بھی اسامیوں کو پُر نہیں کیا ہے ، اس کے بعد #سپریم #کورٹ نے مرکز اور ریاستوں کو ہدایت کی کہ #انفارمیشن #کمشنرز کی خالی آسامیوں پر 4 ہفتوں کے اندر پُر کرنے کے بارے میں تازہ ترین اسٹیٹس رپورٹ درج کریں۔



