اشوکا یونیورسٹی پروفیسر کے سوشل میڈیا کیس کی 4 ہفتوں میں تحقیقات مکمل کریں:سپریم کورٹ
تحقیقات "جتنی جلدی ممکن ہو" مکمل کرے، لیکن ہر حال میں چار ہفتے سے زیادہ نہ لے۔
نئی دہلی، 16 جولائی(اردو دنیا نیوز)سپریم کورٹ آف انڈیا نے بدھ کے روز ایس آئی ٹی (خصوصی تحقیقاتی ٹیم) کو ہدایت دی کہ وہ اشوکا یونیورسٹی کے پروفیسر علی خان محمودآباد کے سوشل میڈیا پوسٹس پر جاری تحقیقات چار ہفتوں میں مکمل کرے۔جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئملیا بگچی پر مشتمل بینچ نے ایس آئی ٹی کی تحقیقات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ "ہم پوچھ رہے ہیں کہ ایس آئی ٹی بظاہر کیوں غلط سمت میں جا رہی ہے۔ ان کا اصل مقصد پوسٹس کے مندرجات کی جانچ کرنا تھا۔"عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ چونکہ پروفیسر پہلے ہی تفتیش میں شامل ہوچکے ہیں اور اپنے ذاتی آلات حکام کے حوالے کر چکے ہیں، اس لیے انہیں دوبارہ طلب کرنا ضروری نہیں۔
عدالت نے ایس آئی ٹی کو یاد دلایا کہ 28 مئی کے اس کے سابقہ حکم کی پاسداری کرتے ہوئے، وہ ان دو سوشل میڈیا پوسٹس کے مواد کی بنیاد پر تحقیقات "جتنی جلدی ممکن ہو” مکمل کرے، لیکن ہر حال میں چار ہفتے سے زیادہ نہ لے۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ پروفیسر علی خان محمودآباد دیگر موضوعات پر لکھنے یا اظہار رائے کرنے کے لیے آزاد ہیں۔خیال رہے کہ پروفیسر علی خان محمودآباد کو ان کے سوشل میڈیا پوسٹس پر گرفتار کیا گیا تھا جس میں انہوں نے "آپریشن سندور” کے حوالے سے بھارتی فوج کی خاتون افسر کرنل سوفیہ قریشی کی تعریف پر دائیں بازو کے گروپوں کی منافقت کو اجاگر کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ "انہیں اتنی ہی زور سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ بھیڑ تشدد، بلڈوزنگ اور بی جے پی کی نفرت انگیزی کے متاثرین کی بھی بطور بھارتی شہری حفاظت کی جائے۔”ان کے ان بیانات پر ہریانہ اسٹیٹ ویمن کمیشن نے اعتراض کیا تھا، جس نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے تبصرے خاتون افسران کی توہین کرتے ہیں، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں، اور ان میں نسل کشی اور غیر انسانی رویے کی طرف اشارے موجود ہیں۔
اس سے پہلے 28 مئی کو سپریم کورٹ نے پروفیسر کو عبوری ضمانت دی تھی اور قرار دیا تھا کہ ان کی پوسٹس "ڈاگ وسلنگ” کے مترادف ہیں۔ عدالت نے انہیں ہدایت دی تھی کہ وہ ان دو زیر تفتیش پوسٹس سے متعلق کوئی نیا آن لائن تبصرہ، آرٹیکل یا تقریر نہ کریں۔



