سرورققومی خبریں

 اقلیتی اسکالرشپ میں پڑے پیمانے پر دھاندلی کا انکشاف، جانچ سی بی آئی کے حوالے

وزارت برائے اقلیتی امور نے 34 ریاستوں کے 100 اضلاع میں اندرونی انکوائری کی ہے

نئی دہلی، 19اگست :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) وزارت برائے اقلیتی امور نے 34 ریاستوں کے 100 اضلاع میں اندرونی انکوائری کی ہے۔ 21 ریاستوں کے 1572 اداروں میں سے 830 ادارے جعلی پائے گئے ہیں۔ تقریباً 53 فیصد جعلی امیدوار پائے گئے ہیں۔ صرف گزشتہ 5 سالوں میں 830 اداروں میں 144.83 کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہوا ہے، دراصل اقلیتی امور کی وزارت نے 10 جولائی کو سی بی آئی میں اپنی شکایت درج کرائی تھی۔ تاہم دیگر اداروں کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔اب تک کی جانچ پڑتال کے معاملے میں، اسکالرشپ کے حقیقی استفادہ کنندگان کو ہونے والے بڑے پیمانے پر نقصان اور فرضی فائدہ اٹھانے والوں کے ذریعہ سرکاری خزانے کو 144 کروڑ روپے کے نقصان کی تحقیقات کے لیے کیس کو سی بی آئی کے حوالے کیا گیا ہے۔

اگر ذرائع پر یقین کیا جائے تو یہ کئی سطحوں پر ادارہ جاتی کرپشن ہے۔ ادارے یا تو غیر موجود ہیں یا غیر فعال ہیں لیکن نیشنل اسکالرشپ پورٹل اور یونیفائیڈ ڈسٹرکٹ انفارمیشن سسٹم فار ایجوکیشن دونوں پر رجسٹرڈ ہیں۔ ان 830 اداروں سے وابستہ مستحقین کے اکاؤنٹس منجمد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔تحقیقات میں چھتیس گڑھ میں 62 ادارے فرضی پائیگئے ہیں۔ راجستھان کے 128 اداروں کی چھان بین کی گئی۔ 99 جعلی پائے گئے۔ اسی طرح آسام میں68 فیصد ادارے جعلی ملے۔ جب کہ کرناٹک میں 64 فیصد جعلی ادارے پائے گئے ہیں۔ یوپی میں 44 فیصد تک ادارے جعلی ملے جب کہ بنگال میں 39 فیصد جعلی ادارے ملے ہیں۔سی بی آئی اس بات کی جانچ کرے گی کہ اداروں کے نوڈل افسروں نے کس طرح ٹھیک رپورٹ دی، کس طرح ضلع نوڈل افسران نے فرضی معاملات کی تصدیق کی اور کتنی ریاستوں نے اس گھوٹالے کو سالوں تک جاری رہنے دیا وغیرہ وغیرہ۔

اقلیتی امور کی وزارت کے ایک ذریعہ بتایا گیا کہ کس طرح بینکوں نے فائدہ اٹھانے والوں کے لیے جعلی اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت دی۔فرضی آدھار کارڈ اور کے وائی سی کی جانچ جاری ہے۔ اقلیتی امور کی وزارت کی جانچ میں کئی چیزیں سامنے آئی ہیں۔ ملاپورم، کیرالہ میں: بینک کی ایک شاخ نے 66,000 اسکالرشپ دیے۔ اقلیتی طلباء کی رجسٹرڈ تعداد سے زیادہ۔ جموں و کشمیر میں اننت ناگ کے ایک کالج میں رجسٹرڈ طلباء کی کل تعداد 5,000 ہے جبکہ دعوی کردہ اسکالرشپ کی کل تعداد 7,000 ہے۔زیر تفتیش والدین کا ایک موبائل نمبر: 22 بچے اور سبھی کلاس IX میں ہیں۔ ایک اور اقلیتی ادارے میں کوئی ہاسٹل نہیں اور پھر بھی ہر طالب علم نے ہاسٹل اسکالرشپ کا دعویٰ کیا۔ آسام میں ایک بینک کی ایک شاخ میں مبینہ طور پر 66,000 مستفیدین تھے۔ پنجاب میں اقلیتی طلباء نے اسکالرشپ حاصل کی، اسکول میں داخلہ بھی نہیں لیا اور پھر بھی تصدیق نہیں ہوئی۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ اقلیتی اسکالرشپ کی اسکیم 2007-8 میں شروع ہوئی تھی، تب سے اب تک ہزاروں کروڑ کے گھوٹالے ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button