سیل کریں تمام ریکارڈ پنجاب میں وزیر اعظم کی سیکورٹی میں کوتاہی معاملے میں سپریم کورٹ کی تفتیشی ایجنسیوں کو ہدایات
نئی دہلی،07؍ جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)05 جنوری کو پنجاب میں وزیر اعظم نریندر مودی کے قافلے کے ساتھ سیکورٹی کی کوتاہی کے معاملے میں ملک کے چیف جسٹس این وی رمنا نے یاتراریکارڈ اور تحقیقاتی ایجنسیوں کو ملنے والے حقائق کو محفوظ رکھنے کی ہدایات دئیے ہیں۔ اس کے علاوہ عدالت نے پنجاب پولیس کے حکام، ایس پی جی اور دیگر ایجنسیوں سے کہا ہے کہ وہ تعاون کریں اور پورا ریکارڈ سیل کرنے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔
وکلا تنظیم کی جانب سے دائر درخواست کی آج سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس این وی رمنا، جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس ہیما کوہلی کی بنچ نے اس معاملے کی سماعت کی۔ منندر سنگھ نے درخواست گزار کی طرف سے دلائل دیتے ہوئے اسے ایک سنگین معاملہ قرار دیتے ہوئے عدالت سے انکوائری کا مطالبہ کیا۔
سپریم کورٹ نے مرکزی اور پنجاب حکومت کے پینل کو پیر تک کارروائی نہ کرنے کو کہا ہے۔ کیس کی اگلی سماعت اب پیر 10 جنوری کو ہوگی۔ سی جے آئی نے کہا کہ ہمیں کوتاہی، لاپرواہی کی وجوہات کی تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔ چیف جسٹس نے سالیسٹر جنرل سے کہا کہ ہم صرف سیکورٹی میں ہوئی کوتاہی کوہی بات کررہے ہیں کہ نہ کہ اس پر کہ یہ کس نے کیا ۔
مرکز نے اس معاملے میں این آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو نوڈل افسر بنانے کا مشورہ دیا تھا، لیکن سپریم کورٹ نے چندی گڑھ کے ڈی جی اور این آئی اے کے ایک افسر کو نوڈل افسر بنایا ہے۔
قبل ازیں منیندر سنگھ نے دلیل دی کہ یہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے نہ کہ کسی خاص ریاست میں امن و امان کا مسئلہ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت سنگین مسئلہ ہے جس میں پی ایم 20 منٹ تک پھنسے رہے۔ اس لیے معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے لیکن پنجاب حکومت یہ تحقیقات نہیں کر سکتی۔منندر سنگھ نے کہاکہ سڑک جام کرنا وزیر اعظم کی سیکورٹی کی سب سے بڑی خلاف ورزی کی ایک مثال ہے اور یہ انتخابی حالت میں ہوا ہے۔
اس لیے اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کو واقعہ کی تحقیقات کے لیے پینل بنانے کا کوئی خصوصی حق نہیں ہے۔



