سرورقسیاسی و مذہبی مضامین
سیما حیدر سے سیما سچن تک-محمد مصطفی علی سروری
سیماء اور سچن نے میڈیا کو مزید بتلایا کہ ان دونوں کو فلم غدر سے بہت ترغیب ملی۔ اس ہندی فلم کا پلاٹ بھی ایسا ہی ہے جس میں انڈیا کے ہیرو کو پاکستان کی لڑکی سے محبت ہوجاتی ہے۔
یہ جولائی 2020 کی بات ہے جب پوری دنیا میں کرونا کے قہر نے ڈر و خوف کی فضاء پھیلا رکھی تھی۔ ہندوستان کے بشمول دنیا کے کئی ممالک نے کرونا کے پھیلائو کو روکنے کے لیے عوامی نقل و حرکت پر لاک ڈائون کے ذریعہ یا پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔ عوام اپنے اپنے گھروں میں بند تھے۔ تجارت، کارو باری ادارے، تعلیمی ادارے، بسیں ٹرینیں اور طیاروں کی آمد و رفت غرض ہر طرح کے ذرائع حمل و نقل پر پابندیاں لگی تھیں۔
گھروں میں بچے ہی نہیں بڑے لوگ بھی وقت گذاری کے لیے مختلف طریقے ڈھونڈ نکال رہے تھے۔ اس دوران انٹرنیٹ اور موبائل کا استعمال کرنے والوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ریکار ڈ کیا گیا تھا۔قارئین اسی وقت پڑوسی ملک پاکستان کے صوبے سندھ کے علاقے خیر پور کی مکین سیماء حیدر عمر 28 برس نے بھی وقت گذاری کے لیے موبائل فون استعمال کرنا شروع کردیا۔ سیماء حیدر ایک شادی شدہ خاتون اور چار بچوں کی ماں ہے۔ سیماء کا شوہر سعودی عرب میں ملازمت کرتا ہے اور گذشتہ چار برسوں سے وہ اپنی بیوی بچوں سے ملنے کے لیے بھی نہیں آیا تھا۔ (بحوالہ ۔ ایم ایم نیوز ٹی وی۔ 9؍ جولائی 2023 کی رپورٹ)
دنیا بھر میں لاکھوں نوجوان بچے پب جی (PUBG) کا گیم کھیلتے کھیلتے بری عادتوں کا شکار بن گئے۔ اس کے متعلق قارئین ہم نے بہت ساری خبریں پڑھیں ہیں لیکن ایک شادی شدہ گرہست خاتون (PUBG) کا گیم کھیلتے کھیلتے کس طرح اپنے گھر، اپنے مذہب اور تو اور اپنے شوہر سے ہی بے وفائی کر بیٹھتی ہے۔ یہ خبر حالیہ عرصے میں پڑھنے کو ملی۔کرونا کے دوران لگے لاک ڈائون میں سیماء حیدر نے اپنے موبائل فون پر پب جی کھیلنا شروع کیا تو کھیل کے دوران اس خاتون کا تعارف سچن نامی ایک ہندوستانی نوجوان سے ہوا جس کی عمر دی ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق 22 برس ہے۔ آن لائن تعارف جلد ہی دوستی میں بدل گیا اور یہ دوستی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق محبت میں بدل گئی اور پھر سچن اور سیماء نے ایک دوسرے کے ساتھ جینے مرنے کے وعدے کرلیے۔
لیکن مسئلہ یہ تھا کہ سیماء پاکستان میں تھی اور سچن انڈیا میں۔ اس کے علاوہ پاکستانی اخبار دی ایکسپریس ٹریبیون نے لکھا کہ سیماء کی پہلی شادی حیدر نامی نوجوان کے ساتھ فروری 2014 میں ہوئی تھی۔ سیماء کا بڑا لڑکا فرحان علی کی عمر 8 برس ، فردا 6 برس ، فریحہ بتول 4 برس اور فرح بتول کی عمر ڈھائی برس بتلائی گئی۔ یہ سبھی بچے کراچی میں پیدا ہوئے جہاں پر سیماء کی حیدر سے شادی کے بعد یہ دونوں رہا کرتے تھے۔ سال 2019 میں تلاش معاش کی چکر میں حیدر سعودی عرب چلا گیا۔
جب میڈیا کے ذریعے سے حیدر کو اپنی بیوی کے بھاگ جانے کا پتہ چلا تب حیدر کے والد ا میر جان نے پولیس میں شکایت درج کروائی۔ حیدر کے حوالے سے پاکستانی میڈیا نے خبر دی کہ اس نے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومتِ ہند سے اپیل کی کہ اس کے بچے معصوم ہیں اور پیدائشی مسلمان ہیں اس لیے ان لوگوں کو اس کے حوالے کیا جائے۔
قارئین کرام سیماء حیدر کی خبر سب سے پہلے اس وقت سامنے آئی جب 4؍ جولائی 2023کو سیماء کو اترپردیش پولیس نے غیر قانونی طور پر انڈیا میں داخل ہونے کی پاداش میں گرفتار کرلیا۔
اخبار اکنامک ٹائمز کی 19؍ جولائی 2023 کی رپورٹ کے مطابق سیماء نے بتلایا کہ اس نے اپنے نام سے اپنے پہلے شوہر حیدر کا نام ہٹاکر اب اپنے دوسرے شوہر سچن کا نام جوڑ لیا ہے۔ اس لیے اس کو سیماء سچن کے نام سے جانا جائے۔ ساتھ ہی سیماء نے بتلایا کہ اب اس کے چاروں بچوں کے نام بھی تبدیل کردیئے گئے ہیں جو کہ بالترتیب راج، پرینکا، پری اور سنی کے نام سے پکارے جائیں گے۔
اخبار نے اس خبرکی سرخی یوں لگائی "Pakistan Woman, living in Noida, Says adopted Hinduism …”۔ اخبار ہندوستان ٹائمز نے 9؍ جولائی کی اپنی رپورٹ میں لکھا کہ یوپی پولیس کی جانب سے گرفتار کیے جانے کے بعد سیماء نے پانچ دن جیل میں گذارے اور جب ہفتہ 8؍ جولائی 2023 کو سیماء کو بکسر جیل گوتم بدھا نگر سے رہائی ملی تو صبح ساڑھے آٹھ بجے جیل سے نکلتے ہیں سیماء اپنے نئے شوہر سچن سے بغل گیر ہوگئی۔
سیماء سے سچن کی دوستی پھر محبت کا قصہ کیسے شروع ہوا اس کے متعلق ہندوستان ٹائمز نے سیماء کے حوالے سے بتلایا کہ ’’میں پب جی گیم کھیلتے وقت بہت سارے اجنبی لوگوں سے بات کرتی تھی کیوں کہ میں اپنا مائک کھلا رکھتی تھی۔ اس طرح سے میری سچن سے بات شروع ہوئی۔ ہم لوگ گھنٹوں گیم کھیلنے لگے اور پھر ہماری چار چار گھنٹے بات چیت ہوتی تھی۔ اس طرح چار مہینے بعد فون اور ویڈیو کالس پر ہمارا رابطہ ہوگیا۔ جنوری 2021 میں میں نے سچن سے اپنی محبت کا اظہار کردیا۔
سیماء اور سچن نے میڈیا کو مزید بتلایا کہ ان دونوں کو فلم غدر سے بہت ترغیب ملی۔ اس ہندی فلم کا پلاٹ بھی ایسا ہی ہے جس میں انڈیا کے ہیرو کو پاکستان کی لڑکی سے محبت ہوجاتی ہے۔
محبت میں گرفتار ہونے کے بعد سیماء نے سچن سے ملنے کے لیے ٹراویل ایجنٹ سے رابطہ کیا تو پتہ چلا کہ اگر کسی انڈین شہری کی طرف سے دعوت ملے اور کوئی گزیٹیڈ عہدیدار تصدیق کردے تو انڈیا کا ویزہ مل سکتا ہے۔ سچن نے اپنا آدھار کارڈ تو بھیج دیا مگر کسی گزیٹیڈ عہدیدار کی دستخط حاصل نہیں کرسکا۔
اس طرح سے ناکامی کے بعد سیماء نے دوسرے طریقے سے ہندوستان پہنچنے کا فیصلہ کیا۔ ایک اخباری اطلاع کے مطابق سیماء نے اپنے خاندانی گھر کو فروخت کر کے دوبئی جانے کا فیصلہ کیا اور پھر دوبئی سے اپنا اور چار بچوں کا نیپال کا ویزہ نکالا۔ کیونکہ سیماء نے یہ پتہ کرلیا تھا کہ نیپال سے ہندوستان میں داخلے کے لیے کسی ویزہ یا پاسپورٹ کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔
مارچ 2023 میں بالآخر سیماء اپنے چار بچوں کے ساتھ نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو پہنچ گئی ۔ ادھر انڈیاء سے سچن بھی اپنی محبوبہ سے ملاقات کے لیے نیپال چلاگیا۔ اب دونوں نے مل کر ایک ہوٹل میں سات دن گزارے۔ اس کے بعد براہ نیپال سیماء ہندوستان میں داخل ہوگئی اور پھر چار جولائی کو ایک مخبر کی اطلاع پر یو پی پولیس نے اس کو گرفتار کرلیا۔
قارئین خیر سے اس سارے واقعہ کا جو پہلو ہمارے توجہ کا مستحق ہے وہ سیماء کا یہ کہنا کہ ہندی
فلم غدر سے اس کو تحریک ملی کہ وہ بھاگ کر ہندوستانی لڑکے کے ساتھ شادی کرسکتی ہے۔ کئی ایک اخبارات اور میڈیا رپورٹس میں اس بات کو شہ سرخیو ںمیں جگہ دی گئی کہ فلم غدر کی کہانی سے متاثر ہوکر ایک پاکستانی خاتون نے اپنے ہندوستانی عاشق سے شادی کرلی۔
فلم غدر سے اس کو تحریک ملی کہ وہ بھاگ کر ہندوستانی لڑکے کے ساتھ شادی کرسکتی ہے۔ کئی ایک اخبارات اور میڈیا رپورٹس میں اس بات کو شہ سرخیو ںمیں جگہ دی گئی کہ فلم غدر کی کہانی سے متاثر ہوکر ایک پاکستانی خاتون نے اپنے ہندوستانی عاشق سے شادی کرلی۔
قارئین کرام ذرائع ترسیل ابلاغ میں فلمیں بھی ایک اہم اور موثر ترین ذریعہ ہے اور فلموں کے اثرات پر مغرب سے لے کر خود ہمارے ملک ہندوستان میں بھی باضابطہ طور پر جامعاتی سطح پر ایک سے زائد موضوعات کے حوالے سے تحقیق کی گئی جن کے نتائج بتلاتے ہیں کہ ٹیلی ویژن بینی ہو یا فلم بینی اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
میرے استاد محترم انوارالعلوم کالج، ملے پلی کے لیکچرار پولیٹیکل سائنس ڈاکٹر سلطان عمر صاحب مرحوم تعمیر ملت سے بھی وابستہ تھے۔ مرحوم نے بتلایا تھا کہ جن دنوں ہندی فلم Bombay ریلیز ہوئی تھی اس کے بعد کالج میں ایک طالبہ پولیس جوانوں کے ساتھ پہنچتی ہے اور پولیس والوں کی موجودگی میں لڑکی کالج پرنسپل سے اپنا ایس ایس سی (دسویں جماعت) کا صداقت نامہ حاصل کرنے کے لیے باضابطہ درخواست دیتی ہے۔
پولیس کے حوالے سے معلوم ہوا کہ مسلمان لڑکی نے گھر سے بھاگ کر ایک غیر مسلم نوجوان سے شادی کرلی۔ تب مسلم لڑکی کے گھر والوں نے غیر مسلم نوجوان پر اپنی نابالغہ لڑکی کو بھگاکر لے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے پولیس میں شکایت درج کروائی اور معاملہ حل کرنے کے لیے لڑکی نے اپنے آپ کو بالغ ثابت کیا اور اس لیے اپنے دسویں جماعت کے سرٹیفکیٹ کو پیش کرتے ہوئے بیان دیا کہ وہ ایک بالغ ہے اور اس نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے۔
ڈاکٹر سلطان عمر صاحب مرحوم اس واقعہ پر کافی افسردہ تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ صرف فلم Bombay کی ریلیز کے بعد اس طرح سے مسلم لڑکیوں کی جانب سے غیر مسلم لڑکوں سے شادیوں کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کے مطابق فلم بینی کے شوق میں جس قدر اضافہ ہوا ہے۔ ویسے ہی مسلم قوم پر اس کے اثرات بھی بڑھ گئے ہیں۔ (یہ 1995 کی بات ہے)
یہ 27؍ جنوری 1963ء کی بات ہے جب چین کے ساتھ ہماری جنگ ختم ہوکر صرف دو مہینے ہوئے تھے۔ ہندوستان اپنے 13 ویں یومِ جمہوریہ کو مناکر ایک ہی ہوا تھا۔ دہلی کے رام لیلا میدان پر چین کے ساتھ جنگ میں حصہ لینے والے فوجیوں کے اعزاز میں ایک پروگرام منعقد ہوا جس میں لتا منگیشکرنے پردیپ کا لکھا ’’نغمہ اے میرے وطن کے لوگو‘‘ سناکر اس وقت کے ہزاروں کے مجمع کو آبدیدہ کردیا تھا اور حاضرین میں موجود اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو بھی اپنے آنسوئوں پر قابو نہیں رکھ سکے تھے۔
قارئین اس مثال اور واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد یہ سمجھانا ہے کہ جب ایک جذبہ حب الوطنی سے سرشار فلمی گیت یا نغمہ فوجی جوانوں میں ہی نہیں عوام کے جذبۂ حب الوطنی کو پروان چڑھاکر سبھی کو جذباتی کرسکتا ہے کہ لوگوں کی آنکھوں سے آنسو نکل جائیں تب کیا یہ حقیقت نہیں کہ پیار و محبت کے گانے سن کر لوگوں کے دلوں میں محبت کے جذبات نہیں ابھرتے۔
جب ایک دیش بھکتی کا نغمہ لوگوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر وطن کے لیے اپنی جان نچھاور کرنے آمادہ کرسکتا ہے تو فلمی نغمے ہوں یا دیگر ان کے بول سننے والوں کو نہیں اکساتے ہیں؟
دیش بھکتی پر مبنی فلمیں جب عوام میں دیش بھکتی کے جذبات کو پروان چڑھا سکتی ہیں تو عاشقی، پیار و محبت کی کہانیاں ہمارے سماج میں، ہمارے معاشرے میں ان کو بڑھاوا دینے کا سبب کیوں نہیں بن سکتیں؟
سونچئے، غور کیجئے۔ اگر ٹی وی فلم اور نغموں سے دورِ حاضر میں فرار ممکن نہیں تو کیا ان ذرائع ابلاغ کا مثبت استعمال ممکن نہیں۔
جب ذرائع ابلاغ کے وسائل ذہن سازی کرسکتے ہیں اور اغیار ان ذرائعوں کا اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور ہم مسلمان اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ ساری انسانیت کے لیے نبی کریم ﷺ کے بعد دوسرا کوئی نبی قیامت تک آنے والا نہیں تو یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کا محاسبہ کریں۔
اول تو خود اپنی ذات اور دوم اپنے افراد خاندان کو بنیادی دینی ذمہ داری کے متعلق حساس بنائیں۔ آگاہ کریں اور پھر دوسروں کے تئیں اپنی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے کام کریں۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو اس حوالے سے فکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر طرح کے شیطانی شر سے ہم سب کی حفاظت فرمائے ۔ (آمین یارب العالمین)




