شعبہ اردو یونیورسٹی آف حیدرآباد میں پروفیسر م ن سعید کا آن لائن لیکچر
✍️ رپورتاژ از: رشدہ شاہین
’دکنی ہماری مادری ہی نہیں بلکہ ہمارے احساسات کی زبان ہے، یہ ہمارے ادب کا انمول سرمایہ ہے، ہماری عظیم وراثت ہے۔ ہم ہی اس کی رگوں کو پہچانتے ہیں اور یہ ہم ہی ہیں جو اس کی صحیح ترجمانی کر سکتے ہیں۔‘
یہ کلمات دکنی ادب کے ماہر اور معروف مصنف پروفیسر م ن سعید کے ہیں۔ جنہوں نے گزشتہ اتوار کو یونیورسٹی آف حیدرآباد کے شعبہ اردو کی جانب سے منعقدہ آن لائن توسیعی لیکچر بعنوان ’دکنی ادب کا تہذیبی مطالعہ: مسائل اور سروکار‘ میں بحیثیت مہمان مقرر اپنا عالمانہ اور بصیرت انگیز خطاب پیش کرتے ہوئے کیا۔
پروفیسر م ن سعید کا یہ لیکچر اُس ’آن لائن توسیعی لیکچر سیریز‘ کی چوتھی کڑی تھی جس کو ہمارے صدر شعبہ پروفیسر سید فضل اللہ مکرم نے ملک کی آزادی کے 75 سال مکمل ہونے کے پیش نظر منائے جانے والے جشن یعنی ’آزادی کا امرت مہااتسو‘ کے تحت شروع کیا ہے۔
جب کہ آن لائن توسیعی لیکچر، جس کی نظامت کا شرف اس ادنیٰ سی طالبہ کو بخشا گیا تھا، صدر شعبہ پروفیسر سید فضل اللہ مکرم نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ دن بہ دن طلبہ کی دکنی ادب سے دوری دراز ہوتی جا رہی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہمیں بے شک نئے موضوعات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے لیکن ہم دکنی ادب کو نظرانداز کرنے کے بالکل متحمل نہیں ہو سکتے۔
پروفیسر سید فضل اللہ مکرم نے موجودہ صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دکنی، جس کو ہم قدیم اردو کہتے آ رہے ہیں، کو ہندی کے لوگوں نے اب ’دکنی ہندی‘ کا نام دینا شروع کر دیا ہے۔
’ہمارے ہاں اساتذہ اور ماہرین کی ایک لمبی فہرست ہے جنہوں نے دکنی کے حوالے سے بہت کچھ کام کیا ہے اور اہل دکن و بیرون دکن کو اس جانب متوجہ کیا ہے۔ میری کوشش ہے کہ دکنی ادب کو انٹرنیٹ پر دستیاب بنایا جائے۔‘
پروفیسر م ن سعید نے دکنی ادب پر اپنا عالمانہ خطاب ایک گھنٹے سے زیادہ وقت تک جاری رکھا اور اُن کے اس تفصیلی خطاب کا لب لباب یہ تھا کہ دکنی ادب کے متن کا مطالعہ اور اس کی گہرائی تک پہنچنے کی کوشش دکنی کے بازیافت کے لیے اور اسے اپنا صحیح مقام دلانے کے لیے بہت ضروری ہے۔
تاہم بقول ان کے فی زمانہ دکنی ادب کی بدقسمتی یہ ہے کہ کوئی اس کا متن پوری توجہ کے ساتھ اور پوری تفصیل کے ساتھ پڑھنا نہیں چاہتا ہے۔
پروفیسر م ن سعید کا کہنا تھا کہ آج سے پچاس یا ساٹھ سال پہلے تک دکنی کا بول بولا تھا۔ اس پرتحقیقی کام ہوا کرتا تھا۔ کتابیں لکھی جاتی تھیں۔ ہم نئی معلومات سے مستفید ہوتے تھے لیکن آج یہ سلسلہ تقریباً رک چکا ہے۔
’دکنی ادب کی بازیافت کو ایک صدی گزر گئی ہے۔ ہمارے بزرگوں نے اسے اپنے خون جگر سے سینچا ہے۔ آج سینے پر ہاتھ رکھ کر یہ دعویٰ کرنا مشکل ہے کہ دکنی کے تین صدیوں پر مشتمل ادبی ذخیرے کا مطالعہ ابھی جاری ہے۔
’نصف صدی پہلے دکنی ادب کے بارے میں ہماری جو معلومات تھیں بفضل الٰہی جوں کی توں باقی و سلامت ہیں۔ ان میں کوئی قابل ذکر اضافہ نہیں ہوا ہے۔ پچھلے پچاس برسوں میں دکنی کے کسی خاص ادب پارے کا سیر حاصل مطالعہ شاید ہی کیا گیا ہو۔
’دکنی ادب کے بارے میں ہم نے حاشیائی معلومات پر قناعت کر لیا ہے۔ دکنی کے اہم کارنامے شائع ہو چکے ہیں۔ مثنوی کدم راؤ پدم راؤ سے لے کر نصرتی کی گلشنِ عشق اور علی نامہ تک درجنوں نام ہیں جن کا دکنی ادب میں اہم کردار ہے۔ لیکن ان میں سے کسی مخصوص کارنامے کا فنی مطالعہ نہیں ملتا ہے۔
’میں یہ جواز قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں کہ دکنی بہت پرانی زبان ہے جس کے پیش نظر اس کی شان رفتہ کی بحالی ممکن نہیں۔ مجھے یہ جواز بھی قبول نہیں کہ اس کا متن غرابت کا شکار ہے لہٰذا اس کے معنی و مفہوم تک ہماری رسائی اب ممکن نہیں۔
’میں آپ کے علم میں لانا چاہتا ہوں کہ دنیا کی مردہ زبانوں کے تفہیم و تجزیے ممکن ہیں اور ہو رہے ہیں لیکن دکنی جو زندہ زبان ہے اور آج بھی کروڑوں عوام کی بول چال کی زبان ہے تو اس میں لکھے گئے ادب کی تفہیم و تجزیہ کیوں ممکن نہیں؟
’یہ حقیقت ہے کہ طویل مدت میں دکنی زبان میں کافی تغیرات ہوئے۔ بول چال میں اب یہ ادبی زبان سے کافی مختلف ہے۔ لیکن کیا اس وجہ سے ہم اپنے کلاسیکی سرمایے کو ترک کر دیں گے کہ اس میں تغیرات آئے ہیں۔ یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہم نے دکنی ادب کے متنی مطالعے کی بساط بھر کوشش نہیں کی۔‘
پروفیسر م ن سعید مزید کہتے ہیں کہ دکنی ادب کے تہذیبی مطالعے کے سلسلے میں میرا یہی معروضہ ہے کہ دکن ادب پاروں کے لفظاً لفظاً متنی مطالعہ کے بغیر متن میں مضمر تہذیبی عناصر کی دریافت اور ادبی حُسن کی بازیافت ممکن نہیں اور حاشیائی مطالعہ سے دل و دماغ پر کوئی تازہ اور پائیدار نقش مرتب نہیں ہوتا۔
انہوں نے دکنی ادب کی قدیم ترین مثنوی ’کدم راؤ پدم راؤ‘ پر تفصیلی بحث کی اور کہا کہ مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ دکنی ادب کے اس اولین دستیاب کارنامے میں اُس عہد کی تہذیبی زندگی کے قابل ذکر تذکرے ملتے ہیں۔
’ادب سے بہتر تہذیب کا امین کوئی نہیں ہو سکتا۔ زیر بحث عنوان کے تناظر میں مثنوی کدم راؤ پدم راؤ کا واقعہ میرے لیے اہم نہیں البتہ اس قصے کی توسط سے اُس عہد کے تہذیبی عناصر سے جو ہمیں آگاہی ہوتی ہے وہ اہم ہے۔‘
پروفیسر م ن سعید نے فخر الدین نظامی کی اس مثنوی پر کتاب لکھنے والے ڈاکٹر جمیل جالبی کی قابل قدر خدمات پر بھی روشنی ڈالی۔
’ڈاکٹر جمیل جالبی نے اپنی کتاب میں صرف قصے پر تکیہ نہیں کیا ہے بلکہ ضرب الامثال، عقائد، انسانی رویوں، صنف نازک کے ساتھ امتیازی سلوک وغیرہ کے تجزیے سے انتہائی دیدہ وری کے ساتھ اُس عہد کی تہذیبی فضا کے خد و خال نمایاں کیے ہیں۔
’انہوں نے بڑی دیدی ریزی کے ساتھ اس مثنوی کا مطالعہ پیش کیا ہے جس کے نتیجے میں اس قدر قدیم مثنوی کے نامانوس ادبیات تک قاری کو پہنچ پایا ہے۔‘
پروفیسر م ن سعید نے ملا وجہی کی مثنوی ’قطب مشتری‘ میں بھی پنہاں دکنی تہذیب کے عناصر پر سیر حاصل بحث کی۔
’میں نے چوں کہ خاص طور پر قطب مشتری پر کام کیا ہے تو میں بتا سکتا ہوں کہ یہ مثنوی دکنی تہذیب کا سب سے بہترین شاہکار ہے۔ آپ کو اس میں عوامی زندگی، شاہی زندگی، توہمات، عقائد، رسم و رواج، غرض ہر چیز کے بارے میں معلومات مل جاتی ہیں۔
’آپ جب اس مثنوی کا مطالعہ کریں گے تو آپ محسوس کریں گے کہ نہ صرف آپ اس دور میں پہنچ گئے ہیں بلکہ اُس تمدن کے ساتھ آپ کا بالراست رابطہ ہو رہا ہے۔ اس میں دکنی تہذیب کے تمام رنگ ملتے ہیں۔‘
پروفیسر م ن سعید کا کہنا تھا کہ ’کدم راؤ پدم راؤ‘ اور ’قطب مشتری‘ کی طرح علی نامہ، گلشنِ عشق، پھول بن اور دیگر ادب پاروں میں بھی ہمیں اُس عہد کے تہذیبی زندگی کے مرقعے ملتے ہیں۔
’میں نے دکنی ادب کو بہت قریب سے دیکھا، پہچانا اور پرکھا ہے۔ قطب مشتری کے اکثر اشعار جب میں پڑھتا ہوں تو مجھے ان سے حظ حاصل ہوتا ہے۔ اس منزل تک پہچنا اور دوسروں کو پہچانا دکنی سے محبت رکھنے والوں کا فریضہ ہے۔‘
پروفیسر م ن سعید کے مطابق دکنی ادب کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس کے متن کی قرات نہیں کی جاتی۔
’کوئی بھی متن جب ایک سے زیادہ بار پڑھا جاتا ہے تبھی وہ ہماری یادداشت کا حصہ بن جاتا ہے اور ہماری دلچسپی کا بھی۔ یونیورسٹی آف حیدرآباد کے لیے ممکن ہو تو ایک ایسا کورس شروع کریں جس میں دکنی قرات کا خاص اہتمام کیا جائے۔
’ہم پورے ادب کو نظرانداز کرنے کا خطرہ مول نہیں سکتے۔ دکنی ادب کی قرات کی شکایتوں کے ازالہ کی کوئی صورت نکلنی چاہیے۔ ایسا ہو سکتا ہے پندرہ دن یا ایک مہینے کا کورس شروع کیا جائے۔‘
پروفیسر سید فضل اللہ مکرم نے پروفیسر م ن سعید کی تجویز پر کہا کہ ہماری بھی کوشش ہے کہ دکنی سے روشناسی کے لیے ایک ڈیجیٹل کورس شروع کیا جائے۔ کورس شروع کرنے کی بات پہلے سے ہی ہمارے ذہن میں ہے۔ دقت یہی ہے کہ کون پڑھائے گا۔ میں سوچتا ہوں کہ ایک ڈیجیٹل کورس تیار کیا جائے۔ اس میں آپ کی خدمات کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
’ہمارے پاس پروفیسر اشرف رفیع، پروفیسر مجید بیدار، پروفیسر نسیم الدین فریس اور پروفیسر حبیب نثار ہیں جو ہمارے لیے ہمیشہ دستیاب ہیں۔ یا جتنے بھی لوگ دکنی ادب کی قرات کر سکتے ہیں ان کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
’ادارہ ادبیات اردو یا تلنگانہ اردو اکیڈمی سے بھی گزارش کی جائے گی کہ یہ کورس وہ شروع کریں۔ ہم یونیورسٹی آف حیدرآباد سے بھی گزارش کر سکتے ہیں کہ اس حوالے سے کچھ کام ہو۔ آپ نے بالکل صحیح فرمایا کہ جب تک دکنی ادب کی قرات نہیں ہو گی یا اس کو پڑھا نہیں جائے گا اس کو کسی کے لیے یاد رکھنا مشکل ہے۔‘
اس آن لائن لیکچر میں ملک اور بیرون ملک کے اساتذہ، طلبہ و طالبات اور ریسرچ اسکالرز نے شرکت کی۔



