دلچسپ خبریںسرورق

وہ فلسفی جنھیں بائبل کا انگریزی ترجمہ کرنے پر قبر سے نکال کر سزا دی گئی

جان وائکلف John Wycliffe اگر زندہ ہوتے تو یہی سوچتے کہ شکر ہے میں 20 سال پہلے ہی مر چکا ہوں۔

جب انھیں 15ویں صدی کے آغاز میں موت کی سزا سنائی گئی تو جان وائکلف John Wycliffe اگر زندہ ہوتے تو یہی سوچتے کہ شکر ہے میں 20 سال پہلے ہی مر چکا ہوں۔تاہم اگر انھوں نے یہ سزا سن لی ہوتی تو ان کے ذہن میں یہ بات کبھی نہ آتی کہ ان کی وفات کے 20 سال بعد سزا پر عملدرآمد کے لیے ان کو قبر سے نکالا جائے گا، ان کی باقیات کو جلا دیا جائے گا اور اُن کی راکھ وسطی انگلینڈ میں دریائے سوئفٹ میں پھینک دی جائے گی۔بدقسمتی سے قرون وسطیٰ کے انگریزی فلسفی اور ماہر الہیات کے ساتھ بالکل ایسا ہی ہوا۔انھیں بائبل کا لاطینی سے انگریزی میں پہلا مکمل ترجمہ کرنے کا اعزاز حاصل ہے، تاہم اس ترجمے کو چرچ کی جانب سے پابندی اور شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

وہ ترجمہ جسے آج ’وائکلف بائبل John Wycliffe bible‘ کے نام سے جانا جاتا ہے دراصل جان وائکلف کا چرچ کے معمول کے معاملات کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات میں سے ایک نمایاں سوال تھا۔ ایسے خیالات جنھوں نے اختلاف رائے کی تحریک کو متاثر کیا اور اصلاح یا انقلاب کی بنیاد رکھی۔یاد رہے کہ اُن کی موت کے ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے کے بعد مسیحیوں میں پروٹیسٹنٹ فرقہ ابھر کر سامنے آیا۔آکسفورڈ یونیورسٹی میں قرونِ وسطیٰ کے انگریزی کے پروفیسراین ہڈسن نے وائکلف کے لیے وقف بی بی سی کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’وہ سمجھتے تھے کہ 14ویں صدی کے آخر میں موجود چرچ انجیل میں پائے جانے والے تصور کا صحیح معنوں میں عکاس نہیں تھا۔‘ہڈسن کے مطابق وہ کسی بھی طرح سے بنیاد پرست نہیں تھے بلکہ وہ اپنے خیالات کو اُس وقت کے حالات اور چرچ کے پاس موجود دولت کے درمیان پائے جانے والے فرق کو سادہ الفاظ میں بیان کرتے تھے۔

یہ خیالات ایک ایسے وقت میں انتہائی اہم تھے جب چرچ میں تین پوپ تھے اور یہ ایک غیر فعال ادارہ بنتا جا رہا تھا۔وائکلف کو پروٹسٹنٹ اصلاح کے پیش رو میں سے ایک کے طور پر ’مارننگ اسٹار‘ سمجھا جاتا ہے۔تاہم جب چرچ نے سنہ 1414 میں کونسل آف کانسٹینس کے ذریعے اپنے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی تو ایک ہنگامی سربراہی اجلاس کے ذریعے مسیحی برادری کو متحد کرنے کی کوشش کی گئی، تو پہلی قراردادوں میں سے ایک میں ان لوگوں پر تنقید کرنا تھا جنھوں نے چرچ کے اختیاروں پر سوال اٹھائے تھے۔اگرچہ وائکلف کے خلاف سزا پر عمل درآمد میں سنہ 1428 تک کا عرصہ لگا لیکن اس کی باقیات کو قبر سے نکالا گیا، نذر آتش کیا گیا اور ان کی راکھ کو دریا میں پھینک دیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button