سرورققومی خبریں

سات کشمیری طلباء انڈیا کی شکست پر خوشی منانے کے پاداش میں یو اے پی اے کے تحت گرفتار

جموں و کشمیر میں ایک یونیورسٹی کے سات طلباء کو گرفتار کیا گیا ہے۔

سری نگر،28نومبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) جموں و کشمیر میں ایک یونیورسٹی کے سات طلباء کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان تمام طلباء پر الزام ہے کہ انہوں نے ورلڈ کپ 2023 کے فائنل میں بھارت کی شکست کا جشن منایا تھا۔ اس کے علاوہ ان طلباء پر پاکستان کے حق میں نعرے لگانے کا الزام ہے۔ ان طلباء کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔یہ معاملہ شیر کشمیر یونیورسٹی کا ہے۔ جہاں پولیس نے ایک طالب علم کی شکایت کے بعد یہ کارروائی کی۔ ملزم طلباء نے اس کے ساتھ بدسلوکی اور ہراساں کیا کیونکہ وہ ہندوستانی ٹیم کی حمایت کررہا تھا۔ شکایت کنندہ نے یہ بھی الزام لگایا کہ ملزم طلباء نے اسے گولی مارنے کی دھمکی بھی دی۔ جس کی وجہ سے جموں و کشمیر سے باہر طلباء میں خوف پھیل گیا۔ طالب علم کی شکایت کے بعد پولیس نے معاملہ کی تحقیقات شروع کردی۔

اس کے بعد سری نگر کے گاندربل پولیس اسٹیشن میں یو اے پی اے کی دفعہ 13 اور تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 505 اور 506 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملہ میں سات ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔یونیورسٹی حکام نے بھی ان طلباء کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس یونیورسٹی ہاسٹل پہنچی اور ملزم طلباء کو گرفتار کر لیا۔ یونیورسٹی حکام پولیس کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور معاملہ کو سلجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تمام گرفتار افراد بیچلر آف ویٹرنری سائنس کے چوتھے سال کے طالب علم ہیں۔اس معاملے کے بارے میں بیچلر آف ویٹرنری سائنس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ہاسٹل میں تقریباً 300 طالب علم رہتے ہیں۔ جن میں سے 30-40 پنجاب، راجستھان اور دیگر ریاستوں سے ہیں۔ 19 نومبر کی رات طلباء کے درمیان لڑائی ہوئی تھی۔ جہاں کشمیر سے باہر کے طلباء نے الزام لگایا کہ مقامی طلباء نے بھارت کی شکست کا جشن منایا اور انہیں ہراساں کیا۔وارڈن یا ادارے کے کسی اور اہلکار سے کوئی شکایت نہیں کی گئی۔ طلباء سیدھے پولیس کے پاس گئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button