
شبنم اور سلیم – محبت کی خونی داستاں

ممبئی: (اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)محبت کی یہ کہانی سفاکی کی جیتی جاگتی مثال بن گئ۔در حقیقت،14 اپریل 2008 کی شب کو ، شبنم نے اپنے پریمی سلیم کے ساتھ مل کر اپنےہی افراد خاندان کوبے دردی سے گلا گھونٹ کر ،و کلہاڑی سے وار کرکے خاندان کے سات افراد کو ہلاک کردیا گیا۔
شبنم کی سزائے موت پہلے ہی سنائی جاچکی ہے۔ اب راشٹرپتی بھون سے بھی ان کی درخواست مسترد کردی گئی ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اسے جلد ہی پھانسی دی جاسکتی ہے۔
امروہہ ضلع کے حسن پور گاؤں باون کھیدی کے رہائشی ٹیچر شوکت علی کےکنبہ میں ، بیوی ہاشمی ، بیٹا انیس ، راشد ، بہو انجم ، بیٹی شبنم اور دس ماہ کا پوتا عرش رہتے تھے۔ والد نےبڑے ہی ناز و لاڈپیار سے اپنی اکلوتی بیٹی شبنم کی پرورش کی۔ یہی وجہ تھی کہ اسے بھی بہتر تربیت دی گئی تھی۔
ایم اے کی تعلیم مکمل کرنے والی شبنم کی نظرمزدور سلیم جوآری مشین(لکڑی کاٹنا) کا کام کرتاتھا اسکے کے دام الفت میں گرفتار ہوگئیں۔ دونوں ایک دوسرے سے پیار کرتے تھے اور شادی بھی کرنا چاہتے تھے ، مسئلہ یہ تھا کہ شبنم سیفی سلیم پٹھان برادری سے تھیں۔
اسی وجہ سے ، شبنم کےسرپرستوں نے اس رشتہ کو قبول نہیں کیا۔ اس کے باوجود ، دونوں کا عشق پروان چڑھتا رہاگھروالوں کی مخالفت کے باوجود ملناجلناجاری رہا۔گھروالوں کی مخالفت کو ان دونوں نے اپنی محبت کے انجام کے لئے ایک خوفناک منصوبہ بنایا۔
14 اپریل 2008 قتل کی رات تھی۔
شبنم نے عاشق سلیم کواپنے گھر بلالیا۔منصوبہ کے مطابق سارے افراد خاندان کو پہلے ہی نیندکی گولیاں دے دی تھی ،خواب آورگولیوں کےاثر سے کنبہ گہری نیند میں تھا ،اس واقعہ میں خاص بات یہ تھی کہ اس رات بہن رابعہ بھی والدین سے ملنے گھر آئی ہوئ تھی رات وہ یہیں قیام پذیر تھیں۔ رات کے وقت ، سلیم اور شبنم نے ملکر والد شوکت ، والدہ ہاشمی ، بھائی انیس ، راشد ، بھابھی انجم ، رابعہ اوردس ماہ کابھتیجہ عرش کو قتل کردیا۔
19اپریل کو ، حسن پور پولیس نے سلیم کو گرفتار کیا اور تالاب سے قتل میں استعمال ہونے والی کلہاڑی اور خون لگے کپڑے برآمد کئے۔ بعد میں ، شبنم کو بھی گرفتار کیا گیا اور دونوں کو جیل بھیج دیا گیا۔
ملک میں پہلی بار خاتون کو پھانسی دی جائے گی،تیاریاں مکمل
ملک میں پہلی بار صوبہ یوپی میں کسی خاتون کو پھانسی دی جائے گی۔ قصوروار خاتون کو متھرا کی خواتین جیل میں پھانسی گھاٹ میں پھانسی دی جائے گی۔ پھانسی کب ہوگی اس کے لئے کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی ہے، تاہم پھانسی والے مکان کی مرمت اورپھندے کی رسیوں کا آرڈر دے دیا گیا ہے میرٹھ میں رہنے والے پون جلادنے بتایا کہ متھرا جیل کے افسران نے رابطہ کیا ہے ،کال آتے ہی پہنچنے کو کہا گیا ہے۔
15 فروری کو صدرجمہوریہ کے ذریعہ ان کی رحم کی اپیل مسترد کردی گئی۔ شبنم اس وقت رام پور جیل میں بند ہے، جبکہ اس کا عاشق آگرہ جیل میں قید ہے۔
خواتین کو پھانسی دینے کے لئے 1870 میں متھرا جیل میں پھانسی کا سیل بنایا گیا تھا،آزادی کے بعد سے اب تک اس پھانسی میں کسی کو پھانسی نہیں دی گئی ہے۔
جیل سپرنٹنڈنٹ شیلندر کمار نے برسوں سے بند پھانسی والےسیل کی مرمت کے لئے اعلی عہدیداروں کو ایک خط لکھا ہے، پھانسی والے سیل کی حالت انتہائ خستہ ہے ۔
تفتیش میں انکشاف ہوا کہ شبنم حاملہ تھیں، لیکن اہل خانہ سلیم سے اس کی شادی کے لئے تیار نہیں تھے۔ اسی وجہ سے شبنم نے عاشق سلیم سے مل کر پورے گھر کے افراد کو موت کی ابدی نیند سلادیا۔امروہہ ضلع کے اندر بابن کھیڑی گاؤں 2008 میں ضلع مراد آباد میں آتا تھا، بعدمیں بابن کھیڑی کوامروہہ ضلع میں چلا گیا اور بابن کھیڑی قتل کیس کی سماعت امروہہ ضلع کی ٹرائل کورٹ میں شروع ہوئی۔
15 جولائی ، 2010 کو ٹرائل کورٹ نے ان دونوں کو مجرم قرار دے کر سزائے موت سنائی۔ اس کے بعد ہائی کورٹ ، سپریم کورٹ نے بھی پھانسی کی سزا کو برقرار رکھا۔
شبنم نے بیٹے کے حوالے سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔ستمبر 2015 میں یوپی کے گورنر رام نائک نے بھی شبنم کی رحم کی درخواست مسترد کردی تھی۔
بن بیاہی شبنم نے 13 دسمبر 2008 کو مراد آباد جیل میں ایک بیٹے کو جنم دیا ، جس کا نام خود شبنم نے تاج رکھا تھا۔شبنم کے بیٹے تاج جیل میں ماں کے ساتھ رہے۔ 30 جولائی 2015کو ، چائلڈ ویلفیئر کمیٹی امروہہ نے ، 6 سال ، 7 ماہ اور 21 دن کے لئے جیل میں قیدتاج کو (بلندشہر)حسن پورکے ڈورا گاؤں کے رہائشی عثمان سیفی واہلیہ کو حوالہ کیاگیا۔
عثمان سیفی شبنم کے کالج کے دوست ہیں۔عثمان کو بیٹا سونپنے سے قبل شبنم نے دو شرطیں رکھی تھیں۔پہلایہ کہ اس کے بیٹے کو کبھی اس کے گاؤں نہ لے جایا جائے ، کیوں کہ وہاں اس کی جان کو خطرہ ہے اور دوسری شرط یہ تھی کہ بیٹے کا نام بدل دیا جائے۔

اس قتل عام کو ہوئے 13 سال بیت گئے ہیں۔ پھانسی کے انتہائی قریب آنے والی شبنم کے چچا ستار علی اور چاچی فاطمہ کا کہنا تھا کہ صرف پھانسی سے ہی مجرموں کو انصاف ملے گا۔
وہ قتل عام کے بعد سے بھائی شوکت علی کے گھر رہ رہے ہیں۔ ہر سال وہ پابندی سےسات قبروں کی صفائ کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ شبنم اور سلیم نے جو حرکتیں کیں وہ انھیں پھانسی دینے کے حقدار ہیں۔ملک کے قانون پر مکمل اعتماد ہے۔ عدلیہ کے اس فیصلہ کاخیرمقدم کیا۔
یہ بھی پڑھیں کلک کریں پھانسی کی منتظر ۷؍لوگوں کے قتل کی مجرم شبنم رام پور سے بریلی جیل منتقل
عاشق سلیم کی والدہ چمن جہاں کا کہنا ہے کہ وہ دن رات اللہ سے دعا کرتی ہے۔ اللہ بہتر کرے گا۔ انھوں نے اس معاملے میں کچھ بھی بتانے سے انکار کردیا اور کمرے کے اندر چلی گئیں۔ سلیم کے بزرگ والد عبد الرؤف گاؤں میں ہی مقیم پذیر ہیں۔
دوسری طرف ، گاؤں کے لوگوں نے شبنم سلیم کو پھانسی دینے پر مختلف ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کچھ لوگ سزائے موت کا جواز پیش کرتے ہیں ،جبکہ کچھ ان کے دفاع میں بھی ہیں۔
خبررساں ایجنسیوں کے مطابق شبنم کے بیٹے تاج نے صدر رام ناتھ کووند سے اسکی والدہ کے گھناؤنے جرم کو معاف کرنے کی اپیل کی ہے



