
پٹھان فلم میں مبینہ طور پر اسلام مخالف تشہیر کا دعویٰ
مدھیہ پردیش کے ’سرکاری ملاؤں‘ کا ’پٹھان‘ پر پابندی لگانے کا مطالبہ
بھوپال ،17دسمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) شاہ رخ خان اور دیپیکا پڈوکون کی آنے والی فلم ’’پٹھان ‘‘پر تنازع تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔اسی کڑی میں مدھیہ پردیش علماء بورڈ نے پٹھان کا بائیکاٹ کیا ہے، اور فلم پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔علماء بورڈ کا کہنا ہے کہ اس فلم کے ذریعہ فحاشی پھیلائی جا رہی ہے۔ مدھیہ پردیش علماء بورڈ کے صدر سید انس علی نے کہا کہ اس فلم کے اندر فحاشی پھیلائی گئی ہے اور اسلام کا غلط پرچار کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آل انڈیا مسلم فیسٹیول کمیٹی نے اس فلم کے حوالے سے موقف اختیار کیا ہے اور فلم کا بائیکاٹ کیا ہے۔ ہم حکومت کے لوگوں، جوانوں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ یہ فلم نہ دیکھیں۔انہوں نے کہا ہے کہ یہ فلم ریلیز نہیں ہونی چاہیے۔چنانچہ آل انڈیا علماء بورڈنے اس فلم کی پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔
سید انس علی نے کہا کہ یہ ہمارا حق ہے کہ اگر کوئی ہمارے اسلام، ہمارے مذہب کو اس طرح پیش کرے تو ہم اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ اگر کوئی اسلام کو غلط طریقے سے پیش کرتا ہے تو یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے دین کا صحیح طریقہ پیش کریں۔سید انس علی نے مزید کہا کہ میں سنسر بورڈ سے پرزور اپیل کرتا ہوں اور ہندوستان کے تمام تھیٹر والوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ اس فلم کو ریلز نہ ہونے دیں، کیونکہ اس سے غلط پیغام جائے گا، امن خراب ہوگا اور تمام لوگ اس ملک کے اندر تمام مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوں گے۔ میں سبھی سے اپیل کرتا ہوں کہ اس فلم کو بالکل نہ دیکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی فلمیں اسلام اور مسلمانوں کا مذاق اڑانے کے لیے بنتی ہیں، ان کی بھی مخالفت ہونی چاہیے۔
پٹھان ایک بہت ہی قابل احترام برادری ہے، لیکن فلم میں اسے بہت غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔خیال رہے کہ شاہ رخ خان اور دیپیکا پاڈوکون کی فلم پٹھان آئندہ برس 25 جنوری 2023 کو ریلیز ہوگی۔ تاہم جیسے ہی فلم بے شرم رنگ کا پہلا گانا سامنے آیا، فلم پر ہنگامہ شروع ہوگیا۔ ہندو تنظیموں کے بعد اب مسلم تنظیموں نے بھی فلم پٹھان کے خلاف احتجاج شروع کر دیا ہے۔ فلم کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بائیکاٹ کا ٹرینڈ بھی چل رہا ہے۔ اسی طرح علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ریحان اختر نے کہا کہ شاہ رخ خان کی فلم پٹھان کے گانے میں جو کچھ دیکھایا جارہا ہے وہ تصویریں ہندوستانی تہذیب کے خلاف ہے۔



