سلام بن عثمان
شہباز ندیم بہار کے مظفر پور شہر میں 12 اگست 1989 کو پیدا ہوئے۔ ٹیم انڈیا کے بہترین گیند باز جس نے بائیں ہاتھ کے آرتھوڈوکس گیند بازی کے ذریعے اپنی شناخت بنائی۔ شہباز ندیم ٹیم انڈیا کا ایک ایسا بائیں ہاتھ کا گیند باز ہے۔ اس کے پاس کلاسیکل فلوئینگ لیفٹیز ایکشن کا ماہر ہے۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ شہباز ندیم فطری طور پر دائیں ہاتھ کے بلے بازوں کو راؤنڈ دی وکٹ گیند کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف درجات والے لوپ کے ساتھ تجربہ حاصل ہے۔
شہباز ندیم میدان میں ایک ایتھلیٹک فیلڈر کے طور پر مشہور ہے۔ شہباز ندیم نے تمام طرز کی کرکٹ کھیلتے ہوئے اپنی بہترین شناخت بنائی۔ جس کی وجہ سے انھیں 2002 میں فرسٹ کلاس کرکٹ انڈر 15 میں موقع ملا۔ اپنے پہلے ہی میچ میں سکم کے خلاف کھیلتے ہوئے نو وکٹ حاصل کی اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں دھمال کردیا۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں مسلسل بہترین گیند بازی کو دیکھتے ہوئے انھیں سال 12 -2011 میں آئی پی ایل میں دہلی ڈیئر ڈیولز نے نیلامی میں خریدا۔ شہباز ندیم نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ٹیم میں منفرد شناخت کے ذریعے اپنی جگہ بنائی۔
ان کی اس بہترین کارکردگی کی وجہ سے انھیں آئی پی ایل میں سال کے بہترین کھلاڑی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ شہباز ندیم نے اپنی بہترین کارکردگی کو جاری رکھا اور سال 16-2015 کے رنجی ٹرافی میچوں میں بہترین گیند بازی کرتے ہوئے سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں۔ جھارکھنڈ کے لیے کھیلتے ہوئے چار میچوں میں 18 وکٹیں لے کر سب سے زیادہ وکٹ لینے والے گیند باز بن کر سامنے آئے۔ شہباز ندیم کی بہترین کارکردگی کی وجہ سے 19-2018 کے دلیپ ٹرافی کے لیے انڈیا ریڈ کے اسکواڈ میں شامل کیا گیا۔
ستمبر 2018 میں راجستھان اور جھارکھنڈ کے درمیان وجے ہزارے ٹرافی میچ میں 10 اوورز میں دس رنز دے کر آٹھ وکٹوں کا کارنامہ کر دکھایا۔ ان دس وکٹوں میں ہیٹریک بھی شامل تھی۔ ٹورنامنٹ کے نو میچوں میں 24 وکٹیں لینے والے ٹورنامنٹ کے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے گیند باز تھے۔ اکتوبر 2018 میں دیو دھر ٹرافی کے لیے انڈیا بی کے اسکواڈ میں شامل کیا گیا۔
شہباز ندیم کی مسلسل بہترین کارکردگی کی وجہ سے انھیں 2019 میں بھی دیودھر ٹرافی میں شامل کیا گیا۔ 22-2021 کے رنجی ٹرافی میچ میں ناگالینڈ کے خلاف کھیلتے ہوئے شہباز ندیم نے بہترین بلے بازی کرتے ہوئے 177 رنز کی اننگ کھیلی۔ جس کی وجہ سے انھیں سال 2022 کے انڈین پریمیئر لیگ ٹورنامنٹ کی نیلامی میں لکھنؤ سپر جائنٹس نے خریدا۔
شہباز ندیم کی زبردست بہترین کارکردگی کی وجہ سے اکتوبر 2018 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کے لیے ٹیم انڈیا کے اسکواڈ میں منتخب کیا گیا۔ سال 2019 میں انھیں کلدیپ یادو کی جگہ جنوبی افریقہ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ کے لیے ٹیم انڈیا میں شامل کیا گیا۔ 19 اکتوبر 2019 کو جنوبی افریقہ کے خلاف اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔ اس کے بعد سال 2021 میں انھیں انگلینڈ کے خلاف سیریز کے لیے ٹیم انڈیا میں شامل کیا گیا۔
شہباز ندیم نے اپنی بہترین صلاحیتوں کے ذریعے ایک مرتبہ پھر ماضی کے اسپین گیند بازوں کی یاد تازہ کردی جس میں پرسننا، چندراشیکھر، بیدی، انشومن گائیکواڈ، ارشد ایوب، شیولال یادو اور بھی کئی دیگر جنھوں نے اسپین گیند بازی کے ذریعے ہمیشہ ٹیم انڈیا کو فتح دلانے میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔
کرکٹ میں شہباز ندیم کا سفر
2002 میں جھارکھنڈ کے خلاف فرسٹ کلاس کرکٹ میں موقع ملا۔
19 اکتوبر 2019 کو اپنا پہلا ٹیسٹ میچ ساؤتھ افریقہ کے خلاف کھیلا۔
دو ٹیسٹ میچ میں آٹھ وکٹیں حاصل کیں اور بہترین
گیند بازی 18 رنز پر دو وکٹیں۔
122 فرسٹ کلاس میچوں میں بلے بازی میں 2411 رنز جس میں دو سنچری اور سات نصف سنچریاں شامل ہے۔ بہترین اسکور 177 رنز۔ گیند بازی میں 465 وکٹیں جس میں 21 مرتبہ پانچ وکٹیں اور چھ مرتبہ دس وکٹیں حاصل کیں اور 51 بہترین کیچیز۔ بہترین گیند بازی رہی 45 رنز کے عوض آٹھ وکٹیں۔
119 لسٹ اے محدود اوورز میچوں میں 943 رنز جس میں ایک نصف سنچری۔ بہترین اسکور 53 رنز۔ گیند بازی میں 162 وکٹیں۔ چار مرتبہ پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ بہترین گیند بازی دس رنز پر آٹھ وکٹیں اور شاندار 35 کیچیز۔
140 ٹی 20 میچوں میں 274 رنز جس میں بہترین 36 رنز کی ناٹ آؤٹ اننگ۔ گیند بازی میں 114 وکٹیں۔ بہترین کارکردگی گیند بازی میں 16 رنز کے عوض تین وکٹیں اور بہترین 26 کیچیز شامل ہیں۔
آئی پی ایل کا سفر:
سال18 -2011 تک دہلی ڈیئر ڈیولز۔ سال21 -2019 سن رائزرز حیدرآباد اور سال 2022 میں لکھنؤ سپر جائنٹس۔کرکٹ شائقین کو شہباز ندیم سے امیدیں وابستہ ہے کہ وہ ماضی کے مشہور اسپین گیند بازوں کی طرح ٹیم انڈیا کی فتح میں اپنا مقام بنائے۔




