
سلام بن عثمان،کرلاممبئی
انڈر 19 ورلڈ کپ میں فتح حاصل کرنے کے بعد ملک میں خوشی کا ماحول ہر طرف برپا تھا۔ ملک کی کرکٹ کے لیے فخر کی بات ہے۔ اس وقت بہت سارے مشہور کھلاڑی ٹیم انڈیا میں موجود ہیں۔ ماضی میں کرکٹ صرف اور صرف ممبئی، دہلی، کلکتہ اور بنگلور تک ہی محدود تھی۔
1983 ورلڈ کپ کے بعد بورڈ آف کنٹرول کرکٹ انڈیا نے کئی نئی پالیسیوں کے ذریعے نوجوان کھلاڑیوں کی طرف توجہ کی، جس کا فائدہ ٹیم انڈیا کو پہنچا۔
نوجوان کھلاڑیوں کو فرسٹ کلاس کرکٹ مقابلے کے ذریعے جونیئر کھلاڑیوں کی بہترین کارکردگی تلاش کرتے ہوئے ٹیم انڈیا کی طاقت کو مضبوط کرنا اور باصلاحیت کرکٹر کو ٹیم انڈیا میں جگہ دینا تھی۔
ایسا ہی ایک بہترین بلے باز بہار کی رنجی ٹرافی ٹیم سے شکیب الغنی کی شکل میں سامنے آیا۔ شکیب الغنی بہار کے موتیا ہار شہر کے ایک چھوٹے گاؤں سے تعلق ہے۔ جہاں پر کرکٹ کو فروغ حاصل نہیں ہے۔ بہار کے شکیب الغنی اپنا پہلا رنجی ٹرافی میچ میزورم کے کھیلتے ہوئے فرسٹ کلاس کرکٹ میں ٹریپل سنچری بنانے کا عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا۔
شکیب الغنی نے 341 رنز کی بہترین اننگ کھیلتے ہوئے 405 گیندوں پر 56 چوکوں اور دو چھکوں کے ساتھ اپنے پہلے فرسٹ کلاس کرکٹ میں عالمی ریکارڈ بنایا اور سب سے زیادہ رنز بنانے والے پہلے بلے باز بن گئے۔
اس کے پہلے فرسٹ کلاس کرکٹ میں پہلے میچ کا عالمی ریکارڈ مدھیہ پردیش کے بلے باز اجے روہیرا کے نام تھا۔ جنھوں نے حیدرآباد کے خلاف کھیلتے ہوئے 267 رنز بنائے تھے۔ شیکب الغنی نے وہ کارنامہ کر دیکھا اس قبل کسی نے نہیں کیا۔ شکیب الغنی نے تاریخ رقم کرتے ہوئے ایک کرشماتی اننگ کھیلی۔
ویسے تو اس سے قبل کئی ٹریپل سنچری بن چکی ہے۔ مگر آج تک کسی نے بھی اپنے پہلے فرسٹ کلاس میچ میں ٹریپل سنچری نہیں بنایا۔ شکیب الغنی نے ٹریپل سنچری کے علاوہ اپنے ساتھی بلے باز کے ساتھ 538 رنز کی اشتراکی اننگ بھی کھیلی۔
اس کے پہلے سری لنکا کے مشہور بلے باز کمار سنگا کارا اور مہیلا جے وردھنے نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں 624 رنز کی بہترین اننگ کھیلی تھی۔ رنجی ٹرافی میں سب سے زیادہ رنز بنانے کی اشتراکی اننگ میں مہاراشٹر کے سوپنل اور انکے باوانے کے پاس موجود ہے۔
دونوں نے 17-2016 میں 594 کی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ شکیب الغنی جس گاوں اور علاقے میں پرورش پائی وہاں کرکٹ کے لیے کو خاص توجہ نہیں دی جاتی ہے۔ ان کے پیچھے والدین کا حوصلہ اور خود کی محنت و مشقت ہے۔
ان کے بڑے بھائی فیصل غنی بھی کرکٹ کے بہترین کھلاڑی ہیں۔ مگر وقت اور حالات نے ساتھ نہیں دیا۔ رنجی ٹرافی میں بہار کی ٹیم کوالیفائی نہیں کر سکی اور رنجی ٹرافی سے منسوخ ہو گئی۔
شکیب کے بڑے بھائی انڈر 19 کی کرکٹ بھی کھیلی۔ اور وزی ٹرافی میں بھی موقع ملا۔ شکیب الغنی کے والد بہار کے موتیاہار میں کھیلوں کی دکان چلاتے ہیں۔
شکیب الغنی فرسٹ کلاس کرکٹ میں 200 رنز سے زیادہ بنانے والے پہلے باز اور ہندوستان کے 10 ویں بلے باز میں شمار ہو گئے ہیں۔ مگر کسی نے بھی ٹریپل سنچری نہیں بنائی۔
مگر بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ صرف ایک کھلاڑی کو ہی بین الاقوامی سطح پر نمائندگی کا موقع ملا اور وہ تھے مشہور بلے باز گنڈپا راجورکر وشواناتھ۔ 200 رنز کی بہترین کارکردگی کرنے والے بلے بازوں میں منی پور کے میانک، پنجاب کے جیونت اور ابھیشک گپتا مدھیہ پردیش کے انشومن پانڈے اور اجے روہیرا، چندی گڈھ کے ارسلان خان، ممبئی کے امول مجومدار اور گجرات کے منپریت جونیجا نے بھی یہ کارنامہ انجام دے چکے ہیں۔
شکیب الغنی کا اصل امتحان آنے والے وقت میں اپنی بہترین اور عمدہ کارکردگی کے تسلسل کو برقرار رکھنا ہے۔ ساتھ ہی کرکٹ کے ہر طرز کے کھیل میں شامل رہ کر سخت محنت کے ساتھ اپنے بہترین کھیل کو دہرانا بہت ضروری ہے۔
اس وقت انڈر 19 کے مشہور کھلاڑی اس دوڑ میں برابر کے شریک ہیں۔ ان تمام لوگوں کے ساتھ شانہ بہ شانہ آگے بڑھنا ہے اور جب بھی موقع ملے بڑی ٹیم کے ساتھ انھیں اپنی پوری طاقت اور صلاحیت کے ساتھ کھیلنا ہے۔
ہم دعا گو ہیں شکیب الغنی کے لیے خوب کھیلیں اور ٹیم انڈیا میں ان کا انتخاب عمل میں آئے اور ملک کے ساتھ ساتھ اپنا بھی نام روشن کرے۔ آمین۔



