
نئی دہلی،15جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ اور ملک سے غداری ایکٹ جیسی سخت دفعات کے تحت گرفتار جے این یو کے طالب علم #شرجیل امام نے سی اے اے اور این آر سی کے خلاف مظاہروں کے دوران دو یونیورسٹیوں میں مبینہ اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزام میں عدالت میں ضمانت کی درخواست دائر کی ہے۔جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے طالب علم امام کو 13 دسمبر 2019 کو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اور 16 دسمبر کو #علی گڑھ #مسلم #یونیورسٹی میں مبینہ تقریر کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
امام نے اپنی تقریر میں آسام اور شمال مشرق کے باقی حصوں کو ہندوستان سے ’کاٹنے‘کی بات کی تھی۔ امام 28 جنوری 2020 سے عدالتی تحویل میں ہیں۔جمعرات کو ایڈیشنل سیشن جج امیتابھ راوت کے سامنے امام کی درخواست سماعت کے لئے پیش کی گئی۔ امام نے اپنی #ضمانت کی درخواست میں دعوی کیا ہے کہ انہوں نے احتجاج کے دوران کبھی بھی کسی بھی طرح کے تشدد کا سہارانہیں لیا اور نہ ہی اس تشدد کو بھڑکانے میں مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ امن پسند شہری ہیں۔
سماعت کے دوران امام کی طرف سے پیش ہوئے وکیل تنویر احمد میرنے عدالت میں ان کی تقاریر کے اقتباسات پڑھتے ہوئے کہا کہ یہ ملک سے بغاوت کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ انہوں نے کہاکہ تشدد کی کال کہاں ہے؟ غداری کیسے ہوئی؟ سیاق وسباق سڑکوں کو روکنا ہے۔ یہ کیسی غداری ہے؟ انہوں نے ایک بڑے وفاقی ڈھانچے کی اپیل کی، یہی ارادہ تھا۔ تقاریر کا ذکر کرتے ہوئے وکیل نے کہاکہ امام نے کچھ شہروں کو کاٹنے کی بات کی تھی۔ جب ریل روکو کال کرنا بغاوت نہیں تو پھر ملک کو ٹھپ کرنے کی کال بغاوت کیسے ہے؟۔
عدالت نے امام کے وکیل کی دلیلیں سنی اور اگلی سماعت کے لئے 2 اگست کی تاریخ طے کی۔امام پر شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور شہریوں کے قومی رجسٹر (این آر سی) کے خلاف مظاہروں کے دوران اشتعال انگیز بیانات دینے کا الزام ہے۔



