قومی خبریں

شرجیل امام کو کزن کی شادی میں شرکت کے لیے 7 روزہ عبوری ضمانت

نئی دہلی، 22 ستمبر، (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) دہلی کی ایک عدالت نے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی (JNU) کے سابق طالب علم اور کارکن شرجیل امام کو اپنے کزن کی شادی میں شرکت کے لیے سات روز کی عبوری ضمانت دے دی ہے۔ عدالت کی جانب سے دی گئی یہ رعایت 4 اکتوبر سے 10 اکتوبر تک نافذ رہے گی۔

شرجیل امام کے بھائی مزمل نے منگل 22 ستمبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کے ذریعے عبوری ضمانت ملنے کی اطلاع دی۔ انہوں نے بتایا کہ شرجیل امام کو شادی کی تقریبات میں شرکت کے لیے مذکورہ مدت کے دوران جیل سے باہر آنے کی اجازت ہوگی۔

شرجیل امام 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق مبینہ بڑی سازش کے مقدمے میں زیر حراست ہیں۔ ان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (UAPA) سمیت مختلف قانونی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔

کڑکڑڈوما عدالت نے انہیں یہ عبوری ریلیف صرف شادی کی تقریبات میں شرکت کے مقصد سے دیا ہے۔ یہ مستقل ضمانت نہیں ہے، جس کے لیے شرجیل امام کی درخواست الگ سے عدالت میں زیر غور رہی ہے۔

اس معاملے میں دہلی ہائی کورٹ پہلے ہی ٹرائل کورٹ کی جانب سے شرجیل امام کی مستقل ضمانت کی درخواست مسترد کیے جانے کے خلاف دائر عرضی پر دہلی پولیس کو نوٹس جاری کرچکی ہے۔ جسٹس پرتیبھا ایم سنگھ اور جسٹس وکاس مہاجن پر مشتمل ڈویژن بینچ نے پولیس سے جواب طلب کیا تھا۔

ٹرائل کورٹ نے اس سے قبل شرجیل امام اور شریک ملزم عمر خالد کی مستقل ضمانت کی درخواستیں مسترد کردی تھیں۔ عدالت نے اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے 5 جنوری کے حکم کا حوالہ دیا تھا، جس میں دونوں ملزمان کو ضمانت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے رواں سال شرجیل امام اور عمر خالد کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے مواد کی بنیاد پر بادی النظر میں یو اے پی اے کی دفعہ 43D(5) کے تحت ضمانت پر عائد قانونی پابندیوں کا اطلاق ہوتا ہے۔ اسی معاملے میں عدالت نے پانچ دیگر شریک ملزمان کو ضمانت دی تھی۔

شرجیل امام اور عمر خالد نے طویل عرصے سے جیل میں رہنے کے باوجود مقدمے کی سماعت مکمل نہ ہونے کے معاملے کو بھی عدالت کے سامنے اٹھایا ہے۔ حال ہی میں سپریم کورٹ نے اسی مقدمے کے شریک ملزمان تسلیم احمد اور خالد سیفی کو چھ ماہ کی عبوری ضمانت دی تھی اور طویل قید اور مقدمے کی سماعت میں تاخیر کے باوجود یو اے پی اے کی دفعہ 43D(5) کے تحت ضمانت سے متعلق قانونی سوال کو بڑی بنچ کے سامنے بھیج دیا تھا۔

دہلی پولیس نے ہائی کورٹ میں شرجیل امام اور عمر خالد کی ضمانت کی درخواستوں کی مخالفت کی ہے۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ دونوں مبینہ طور پر 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق سازش میں اہم کردار رکھتے ہیں اور سپریم کورٹ کے 5 جنوری کے حکم کی روشنی میں ان کی نئی ضمانت درخواستیں قابل سماعت نہیں ہیں۔

شرجیل امام اور عمر خالد کو 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ طویل عرصے سے تہاڑ جیل میں قید ہیں۔ تازہ عدالتی حکم کے تحت شرجیل امام کو اب 4 اکتوبر سے 10 اکتوبر تک اپنے کزن کی شادی میں شرکت کا موقع ملے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button