قومی خبریں

‘بھارت بھی 50 فیصد ٹیرف لگائے، کوئی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا’، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی پر ششی تھرور کا واضح پیغام

ہم کسی ملک سے کم نہیں، اور نہ ہی ہمیں کوئی دھمکی دے سکتا ہے۔"

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) امریکہ کے سابق صدر اور ریپبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف لگانے کے اعلان پر بھارت میں سیاسی ردعمل شدت اختیار کر گیا ہے۔ خاص طور پر کانگریس کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے اس فیصلے پر سخت موقف اپنایا ہے۔

ششی تھرور نے کہا، "اگر امریکہ بھارت پر 50 فیصد ٹیرف لگا رہا ہے تو بھارت کو بھی امریکی برآمدات پر اتنا ہی ٹیرف عائد کرنا چاہیے۔ ہم کسی ملک سے کم نہیں، اور نہ ہی ہمیں کوئی دھمکی دے سکتا ہے۔”

انہوں نے واضح کیا کہ صرف تجارتی بنیادوں پر دو طرفہ تعلقات خراب کرنے کی کوششیں ناقابل قبول ہیں۔ "تعلقات ہماری طرف سے نہیں بلکہ امریکہ کی طرف سے خراب کیے جا رہے ہیں۔ اگر امریکہ ہمارے تعلقات کی اہمیت نہیں سمجھتا، تو ہمیں بھی یکطرفہ سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔”

ششی تھرور نے یہ بھی کہا کہ امریکہ میں رہنے والے ہندوستانیوں کو بھی اس کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے کیونکہ اگر ہر چیز 50 فیصد مہنگی ہو جائے گی تو امریکی خریدار بھارتی مصنوعات خریدنے سے پہلے کئی بار سوچیں گے۔

"ہماری امریکہ کے ساتھ تقریباً 90 ارب ڈالر کی تجارت ہے۔ اگر اس پر ٹیرف لگا تو صرف بھارت نہیں بلکہ امریکی معیشت بھی متاثر ہوگی،” انہوں نے خبردار کیا۔

ادھر بھارت کی وزارت خارجہ نے بھی امریکہ کے اس اقدام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ عالمی تجارتی اصولوں کے خلاف بھی ہے۔

"یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ امریکہ نے ان اقدامات کے لیے بھارت پر اضافی محصولات عائد کیے ہیں جو کئی دوسرے ممالک بھی اپنے قومی مفاد میں کر رہے ہیں۔ بھارت اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔”

واضح رہے کہ امریکہ نے یکم اگست سے بھارت پر ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن بعد ازاں اس تاریخ کو 7 اگست تک مؤخر کر دیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button