ششی تھرور نے پھر کانگریس کو چونکایا، مودی حکومت کے متنازع بل کی حمایت
۔تھرور نے کہا:"یہ عقل کا معاملہ ہے اور مجھے اس میں کچھ غلط نہیں لگتا۔"
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)کانگریس کے سینئر رہنما اور رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے ایک بار پھر اپنی ہی پارٹی سے الگ موقف اختیار کر لیا ہے۔ کئی مواقع پر وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف کر کے اپنی جماعت کو مشکل میں ڈالنے والے تھرور نے اس بار "داغدار وزراء کی جبری برطرفی” سے متعلق آئینی ترمیمی بل کی حمایت کر دی ہے۔تھرور نے کہا:”یہ عقل کا معاملہ ہے اور مجھے اس میں کچھ غلط نہیں لگتا۔”
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے 130ویں آئینی ترمیمی بل 2025 پارلیمنٹ میں پیش کیا ہے۔ اس بل میں یہ تجویز ہے کہ وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ اور وزراء اگر سنگین مجرمانہ الزامات میں گرفتار ہو کر 30 دنوں سے زیادہ عدالتی حراست میں رہیں تو انہیں 31ویں دن عہدہ چھوڑنا یا برخاست ہونا پڑے گا۔
جہاں کانگریس سمیت کئی اپوزیشن جماعتیں اس بل کی مخالفت کر رہی ہیں، وہیں کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے سب سے زیادہ تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے:”کل، آپ کسی وزیر اعلیٰ کے خلاف کوئی بھی مقدمہ درج کر سکتے ہیں، بغیر کسی سزا کے اسے 30 دن کے لیے گرفتار کر سکتے ہیں… اور پھر وہ وزیر اعلیٰ نہیں رہیں گے؟ یہ مکمل طور پر غیر آئینی ہے۔”
ششی تھرور کا یہ بیان کانگریس قیادت کے لیے ایک اور بڑا جھٹکا تصور کیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے پہلے بھی وہ مودی حکومت کے کئی اقدامات کی تعریف کر چکے ہیں۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ تھرور کا بار بار پارٹی لائن سے ہٹ کر بیان دینا مستقبل کی سیاسی صف بندی کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے۔



