
ممبئی ،024؍اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) پانچ ریاستوں میں شکست کے بعد کانگریس مخالفین کے ساتھ ساتھ اپنوں کے بھی نشانے پر ہے۔ مہاراشٹر میں کانگریس کی ساتھی شیو سینا نے یہاں تک کہہ دیا کہ کانگریس کی قیادت میں متحدہ ترقی پسند اتحاد کو تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ شیوسینا نے ایسے لیڈروں کے نام بھی دئیے ہیں جو یو پی اے (United Progressive Alliance) کی قیادت کر سکتے ہیں۔
کہیں اسے کانگریس پر شیوسینا کا نشانہ بتایا جا رہا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ مہاراشٹر میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کے باوجود شیوسینا یو پی اے میں تبدیلی کیوں چاہتی ہے؟ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مہاراشٹر کی سیاست میں حکومت میں ایک ساتھ ہونے کے باوجود شیو سینا اور کانگریس کے درمیان کچھ تنازعہ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ حکومت کی قیادت کرنے والی شیوسینا غیر آرام محسوس کررہی ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کانگریس کے ساتھ والی کوئی پارٹی اس نشانہ بنایا ہے ۔ کانگریس گزشتہ سات آٹھ سالوں میں بہت کمزور ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ ساتھ ان کے اپنے بھی ان پر حملہ آور ہیں۔
کانگریس کے ساتھ اس طرح کی صورتحال اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک وہ مضبوط نہیں ہو جاتی۔ شیوسینا کو لگتا ہے کہ یو پی اے کی مضبوطی کے بغیر اپوزیشن کا مضبوط ہونا ممکن نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شیوسینا کے ترجمان سامنا میں کئی ایسے لیڈروں کے نام لیے گئے ہیں جو یو پی اے کی قیادت کر سکتے ہیں۔
سامنا میں کہا گیا ہے کہ ادھو ٹھاکرے، ممتا بنرجی، اروند کیجریوال، چندر شیکھر راؤ، شرد پوار اور ایم کے اسٹالن اس کی قیادت کر سکتے ہیں۔ حالانکہ یہ سب غیر کانگریسی ہیں۔ لیکن علاقائی رہنما کے طور پر ان کا اثر و رسوخ زیادہ ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان لیڈروں کے ناموں پر اتفاق رائے ہو سکے گا؟ یوپی کی قیادت کو تبدیل کرنے کے لیے کانگریس کو قائل کرنا پڑے گا۔ لیکن کانگریس اس وقت یو پی اے کی ملکیت کے معاملے میں نرمی اختیار کرتی نظر نہیں آ رہی ہے۔



