نئی دہلی،21؍ ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مہنت نریندر گیری کی موت معاملے میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر تنقید کرتے ہوئے شیو سینا کے رہنما سنجے راؤت نے منگل کو کہا کہ اتر پردیش میں ہندوتوا کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے۔ انہوں نے اعلیٰ سنت کی پراسرار موت کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔
بااثر ہندو سنت مہنت نریندر گری پیر کو الہ آباد کے باگھم بری مٹھ میں مردہ پائے گئے۔ وہ ہندوستان میں سادھوؤں کی سب سے بڑی تنظیم اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد کے صدر تھے۔ راوت نے کہا کہ سنت کی موت کی وجہ خودکشی بتائی جارہی ہے ، لیکن ان کے پیروکاروں کا خیال ہے کہ انہیں قتل کیا گیا ہے۔کسی نے اتر پردیش میں ہندوتوا کا گلا گھونٹ دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح ہم نے (مہاراشٹر میں مہا وکاس اگھاڑی کی قیادت والی حکومت) پال گھر میں تحقیقات کی ، اس معاملے میں بھی (سنت کی موت) سی بی آئی انکوائری ہونی چاہیے۔اپریل 2020 میں دو سادھو اور ان کے ڈرائیور کو مارے جانے کے واقعہ پر راؤت نے کہا کہ اس وقت بی جے پی نے کہا تھا کہ ہندوتوا پر حملہ کیا گیا ہے۔
مہنت نریندر گری کو 23 ستمبر کو باگھ مبری مٹھ میں دی جائے گی ’بھوسمادھی ‘
اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد کے صدر آنجہانی مہنت نریندر گری کو 23 ستمبر 2021 کو شری باگھمبری مٹھ ، پریاگراج میں بھو سمادھی دی جائے گی۔ اس کی اطلاع اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد کے جنرل سکریٹری مہنت ہری گری اور نرنجنی اکھاڑہ کے سکریٹری مہنت رویندرا پوری نے دی ہے۔
اس سے قبل وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ اس معاملہ کی کمشنر ، اے ڈی جی ، آئی جی ، ڈی آئی جی سے تحقیقات کرائی جائے اور یہ بھی بتایا کہ آج (منگل) مہنت نریندر گری کو ’پنچک‘ ہونے کی وجہ سے سمادھی نہیں دی جائے گی۔ پوسٹ مارٹم بدھ کو 5 ڈاکٹروں کے پینل کے ذریعہ کرایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پوسٹ مارٹم کے بعد مہنت نریندر گری کو سنت رسم کے مطابق باگھ مبری مٹھ میں سمادھی دی جائے گی۔
اس سے قبل وزیراعلیٰ یوگی نے کہا کہ ہم اس افسوسناک واقعہ سے مغموم ہیں۔ کمبھ کی کامیاب انعقاد میں نریندر گری کا بڑا حصہ تھا۔ چار سینئر پولیس افسران معاملہ کی تحقیقات کر رہے ہیں،جو بھی ذمہ دار ہے اسے سزا دی جائے گی ۔یوگی نے یہ بھی کہا کہ نریندر گری موت کیس کی تحقیقات جاری ہے ، اس لیے غیر ضروری بیان بازی سے گریز کیا جانا چاہیے۔



