شردھا قتل کیس: پولیس نے 6629 صفحات کی چارج شیٹ داخل کی
دہلی پولیس نے شردھا والکر قتل کیس کے سلسلے میں منگل کو اپنی چارج شیٹ داخل کی ہے
نئی دہلی،24جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) دہلی پولیس نے شردھا والکر قتل کیس کے سلسلے میں منگل کو اپنی چارج شیٹ داخل کی ہے۔ 6629 صفحات کی چارج شیٹ میں پولیس نے اس قتل کیس سے متعلق تمام پہلوؤں پر مفصل روشنی ڈالی ہے۔ پولیس نے کیس کے مرکزی ملزم آفتاب امین پونا والا کو بھی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے عدالت میں پیش کیا۔ عدالت میں پیشی کے دوران آفتاب نے اپنا وکیل تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا۔ نیز اس نے کہا کہ چارج شیٹ کی کاپی ان کے وکیل کے بجائے انہیں دی جانی چاہئے۔شردھا کیس میں چارج شیٹ داخل کرنے کے بعد دہلی پولیس کے جوائنٹ سی پی مینو چودھری نے کہا کہ ہم نے آفتاب کو 12 نومبر کو شردھا والکر کے والد کی شکایت پر گرفتار کیا تھا۔ ہم نے اس قتل کی تحقیقات کے لیے 9 ٹیمیں تشکیل دی تھیں۔
ہم نے اپنی ٹیمیں ہریانہ، ہماچل اور مہاراشٹر میں بھی بھیجی ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تفتیش میں کوئی کوتاہی نہ ہو۔ تحقیقات کے دوران ہمارا مقصد سب سے پہلے شردھا کی لاش کے دیگر حصوں کو اکٹھا کرنا تھا۔ اس میں کڑی محنت اور کئی دن لگے۔ کیس کی تفتیش کے دوران ہماری ٹیم نے ٹیکنالوجی سے بھی کافی مدد لی۔ ہم نے ڈی این اے ٹیسٹ کروایا، فرانزک ٹیسٹ بھی ہوئے۔مینو چودھری کا کہنا تھا کہ یہ جاننے کے لیے کہ ملزم آفتاب پولیس سے جھوٹ بول رہا ہے یا کچھ چھپا رہا ہے، ہم نے اس کا نارکو ٹیسٹ بھی کرایا۔
اس معاملہ کی تحقیقات میں ایف ایس ایل اور سی ایف ایس ایل کی مدد بھی لی گئی۔ واقعے کے بعد ہماری ٹیم نے اس علاقہ کے سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی چیک کیے۔ ٹیم نے ڈیجیٹل ثبوت کا بھی جائزہ لیا۔ یہ سب کرنے کے بعد آج ہم نے اس معاملہ میں اپنی چارج شیٹ داخل کی ہے۔ چارج شیٹ داخل کرنے سے پہلے ہم نے اس کیس کی تفتیش کے دوران 150 سے زیادہ گواہوں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے تھے۔



