
ایس آئی آر میں فارم 6 کے مبینہ ردوبدل پر سپریم کورٹ نے ریکارڈ طلب کرلیا
الیکشن کمیشن نے راہل گاندھی کے دعوے کو گمراہ کن قرار دیا
نئی دہلی، 6 اکتوبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) ووٹر فہرستوں کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے دوران نئے ووٹروں کے اندراج سے متعلق فارم 6 میں مبینہ تبدیلی کا معاملہ اب سپریم کورٹ تک پہنچ گیا ہے۔ عدالت نے فارم 6 کے مبینہ طور پر تبدیل شدہ فارمیٹ کے حوالے سے ریکارڈ طلب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس نے ایسے کسی ترمیم شدہ فارم کی منظوری نہیں دی تھی۔ عدالت اب یہ جاننے کی کوشش کرے گی کہ اگر فارم میں کسی سطح پر تبدیلی کی گئی تو اس کا فیصلہ کس کے حکم پر ہوا۔
چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے معاملے کی سماعت کے دوران فارم 6 سے متعلق ریکارڈ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت کی توجہ خاص طور پر اس سوال پر ہے کہ اگر انفارمیشن ٹیکنالوجی کی سطح پر فارم میں کوئی تبدیلی ہوئی ہے تو اس کے پیچھے کس کا فیصلہ یا ہدایت کارفرما تھی اور یہ تبدیلی کس مرحلے پر کی گئی۔
یہ تنازع کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور انتخابی عمل پر سوال اٹھائے جانے کے بعد مزید نمایاں ہوا۔ راہل گاندھی نے الزام عائد کیا کہ نئے ووٹروں کے اندراج کے لیے استعمال ہونے والے فارم 6 میں یکطرفہ اور مبینہ طور پر غیر قانونی تبدیلی کی گئی، جس کی ذمہ داری طے کی جانی چاہیے۔
الیکشن کمیشن نے ان الزامات کے جواب میں فیکٹ چیک جاری کرتے ہوئے دعووں کو گمراہ کن قرار دیا ہے۔ کمیشن کے مطابق SIR سے متعلق 24 جون 2025 کو جاری کیا گیا حکم انتخابی کمیشن کی مکمل رضامندی سے جاری ہوا تھا۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ نئے ووٹروں کے اندراج کے لیے استعمال ہونے والے اصل قانونی فارم 6 میں کوئی ترمیم نہیں کی گئی، بلکہ SIR کے مخصوص عمل کے لیے اس کے ساتھ ایک الگ ڈیکلیئریشن شامل کیا گیا تھا۔
فارم 6 انتخابی فہرست میں نئے اہل ووٹروں کا نام شامل کرنے کے لیے استعمال ہونے والا بنیادی فارم ہے۔ اسی لیے SIR کے دوران اس فارم کے ساتھ اضافی ڈیکلیئریشن منسلک کیے جانے نے سیاسی اور قانونی بحث کو جنم دیا ہے۔ اپوزیشن اس طریقہ کار پر سوال اٹھا رہی ہے، جبکہ الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ اس عمل کے لیے جاری کردہ ہدایات مقررہ قانونی اور انتظامی طریقہ کار کے تحت ہیں۔
سپریم کورٹ کی جانب سے ریکارڈ طلب کیے جانے کے بعد اب آئی ٹی سسٹم سے متعلق دستاویزات اور دیگر متعلقہ ریکارڈ اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ عدالت ان ریکارڈز کی بنیاد پر یہ واضح کرنے کی کوشش کرے گی کہ فارم 6 کے کسی مبینہ تبدیل شدہ ورژن کی تیاری یا استعمال کیسے ہوا اور اس کی اجازت کس سطح پر دی گئی تھی۔
فی الحال معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے اور فارم 6 میں مبینہ تبدیلی سے متعلق حتمی صورت حال سپریم کورٹ کے سامنے ریکارڈ پیش کیے جانے اور اس کی جانچ کے بعد ہی واضح ہوگی۔



