بین الاقوامی خبریںسرورق

حماس پولٹ بیورو کے نائب سربراہ صالح العاروری بیروت میں قتل

العاروری کے قتل کے بعد مذاکرات معطل، حماس کا بدلہ لینے کا عہد

بزدلانہ اسرائیلی حملے میں صالح العاروری سمیت 6 مجاھدین شہید

بیروت :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) حماس نے تصدیق کی ہے کہ تنظیم کے پولٹ بیورو کے نائب سربراہ صالح العاروری القسام بریگیڈ کے پانچ کمانڈروں کے ہمراہ بیروت کے جنوبی مضافات میں منگل کی شام اسرائیل کے ایک ڈرون حملے میں جام شہادت نوش کر گئے۔اسرائیلی فوج کے بیروت میں حماس کے دفتر پربزدلانہ حملے میں الشیخ صالح العاروری کے ساتھ  القسام کمانڈر سمير فندي، المعروف بو عامر، عزام الأقرع – أبو عمار محمود زكي شاهين، محمد بشاشة، محمد الريس اور  أحمد حمود شہید ہوگئے۔ حماس نے تمام شہداء کی شہادت کا سوگ مناتے ہوئے قابض فوج کی اس ننگی جارحیت کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

حماس پولٹ بیورو کے سینئر عہدیدار عزت الرشق نے کہا ہے کہ فلسطین کے اندر اور دنیا بھر میں قابض صہیونی حکام کے فلسطینی قیادت اور فلسطینیوں کے خلاف بزدلانہ حملوں کے ذریعے ہمارے عزم اور عوام کے حوصلوں کو توڑنے کی اسرائیلی کوشش ناکامی سے دوچار ہو گی۔ ان حملوں سے بہادر مزاحمت کی منزل کھوٹی نہیں کی جا سکتی۔انہوں یہ بات زور دے کر کہی کہ لبنان میں حماس کے سینئر رہنما کے قتل سے یہ بات ایک مرتبہ پھر واضح ہو گئی ہے کہ گھٹیا دشمن غزہ کی پٹی پر تین ماہ سے جاری جنگ میں اپنا کوئی بھی ہدف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بھی تصدیق کی ہے کہ حماس کے سینیئر رہنما صالح العاروری اور ان کے ساتھ القسام بریگیڈ کے دو فوجی کمانڈر لبنان کے شہر بیروت کے علاقے الضاحیہ الجنوبیہ میں قتل کر دیے گئے ہیں۔رہائشی کمپاؤنڈ پر کیے جانے والے حملے سے اردگرد کی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا، ڈرون حملے کا نشانہ بننے والی ایک عمارت کا پورا فلور زمین بوس ہو گیا۔لبنانی سکیورٹی حکام نے جائے حادثہ کو محاصرے میں لے کر شواہد جمع کرنا شروع کر رکھا ہے


ہرسجدے میں شہادت کی موت کی آرزو، صالح العاوری کی تمنا پوری ہوگئی

بیروت ، 3 جنوری  :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) حماس کے سیاسی شعبے کے نایب صدر الشیخ صالح العاروری کی گذشتہ روزاسرائیل کے ایک بزدلانہ حملے میں شہادت نے ہر ایک کو دکھی کردیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہرطرف ان کے چرچے ہو رہے ہیں اور ان کی خدمات اور قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔ الشیخ صالح العاروری کل منگل کی شام کو بیروت کے جنوبی نواحی علاقے المشرافیہ میں اسرائیلی قابض فوج کے حماس کے دفتر پر کیے گئے حملے میں شہید ہوگئے تھے۔ الشیخ صالح العاروری کی بہن ام قتیبہ نے اپنے بھائی کی شہادت پر فلسطینی عوام اور قوم کو مبارکباد پیش کی اور اس بات پر زور دیا کہ العاروری کی یہی خواہش تھی اور وہ ہر روز سجدہ کرتے ہوئے دعا کیا کرتے تھے "اے اللہ، مجھے شہادت کی موت عطا فرما۔” الحمد للہ میں اپنے آپ کو اور فلسطینی عوام کو ان کی شہادت پر مبارکباد پیش کرتی ہوں۔فلسطین کا ایک دن آزادی کا دن ہے، دشمن چاہے کتنے ہی لیڈروں کو قتل کردے مگر وہ اللہ کی اس منشیا اور فتح کے فیصلے کو ختم نہیں کرسکتا۔

سوشل میڈیا صارفین نے الشیخ العاروری کی والدہ کی ایک تصویر شائع کی جس کی زبان پر یہ الفاظ تھے: "خدا قبول کرے، خدا قبول کرے۔” انہوں نے الجزیرہ کو بیان میں کہا کہ "میں اپنے بیٹے کو اس اعزاز پر مبارکباد پیش کرتی ہوں جس کی وہ خواہش کرتا تھا اور پہلے ہی حاصل کر لیا ہے۔” محقق بلال شلش نے ایک تصویر شائع کی: "الخلیل یونیورسٹی میں اسلامی بلاک کے امیر صالح العاروری اب دنیا میں نہیں رہے۔ یہ تصویر اس وقت کی ہے جب العاروری اسلامک بلاک کے سربراہ تھے۔ تصویر کے بائیں جانب القدس یونیورسٹی میں اسلامک بلاک کے امیر عادل عوض اللہ ہیں۔ انہوں نے مغربی کنارے میں حماس کی فوجی کارروائی کے مرکز کو قائم کرنے میں اپنے بھائی بیرزیت کے امیر ابراہیم حامد کے ساتھ تعاون کیا۔

رہائی پانے والے اردنی قیدی سلطان العجلونی نے کہا کہ "ابو محمد سے بدلہ لینے کا الخلیل سے زیادہ حقدار کوئی نہیں ہے۔ الخلیل ور اس کے قبائل کے لوگ میری بات کے مقصد اور وجہ کو سمجھتے ہیں۔ صحافی معاذ حمید نے کہا کہ "ہر کوئی الشیخ صالح العاروری کے قتل کے ردعمل میں لبنان اسکوائر کے ردعمل کو دیکھ رہا ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ مغربی کنارے کا میدان ردعمل میں قابض دشمن کے خلاف حیرت کا عنصر بن سکتا ہے۔ محقق خالد عوض اللہ نے کہا کہ الشیخ صالح کا قتل عمل درآمد کی سطح پر ایک مشترکہ امریکی صہیونی آپریشن ہے، جو بحیرہ روم سے فورڈ طیارہ بردار بحری جہاز کو واپس لے کر خطے میں امریکی فوجی موجودگی کو کم کرنے کے آغاز کے اعلان کی آڑ میں کیا گیا۔

القسام بریگیڈز کے شہید کمانڈر کے بیٹے معاذ احمد الجعبری نے العاروری کی اپنے والد کے ساتھ تصویر شائع کی اور تبصرہ کیا کہ "الشیخ صالح العاروری وفا احرار مذاکراتی وفد کے ارکان میں سے ایک ہیں‘‘۔ یوسف الدموکی نے کہا کہ "قابض دشمن غزہ میں اپنے اہداف کا ایک ذرہ بھی حاصل کرنے میں ناکام ہے۔ اس لیے اس نے ایک پرانی، تجدید شدہ چال کا سہارا لیا، بیرون ملک رہ نماؤں کو قتل کر کے وہ اپنے جرائم کو آگے بڑھا رہا ہے مگر دشمن دلدل میں پھنستا چلا جائے گا۔  صحافی تسنیم حسن نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ "وہ کوئی عام آدمی نہیں تھا، وہ ہمارے اس دنیا میں آنے سے پہلے موجود تھا۔ میرے شہید چچا امجد کی صحبت اور سوانح عمری میں موجود تھا، قید کے طویل سالوں میں بھی موجود تھا۔فلسطین کے اندر اور باہر موجود تھا۔ ہمارے فخر، فتح، اور انتقام میں موجود ہے۔ وہ موجود تھا اور رہے گا، کیونکہ جسم فنا ہو جاتا ہے اور روح ہمارے اندر اور اس زمین کے اندر رہتی ہے۔


حماس رہنما صالح العاروری کی موت کا جواب دیا جائے گا: حزب اللہ

بیروت ، 3 جنوری :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)لبنان کے دارالحکومت بیروت میں اسرائیلی حملے میں منگل کو حماس کے نائب سربراہ کی ہلاکت سے مشرق وسطیٰ میں تنازعے کے پھیل جانے کا خطرہ بڑھ گیاہے۔صالح العاروری، جو اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے ہلاک ہونے والے حماس کی سب سے سینئر شخصیت تھے، اس گروپ کے عسکری ونگ کے بانی بھی تھے۔ان کی ہلاکت لبنان کی طاقتور حزب اللہ ملیشیا کی طرف سے بڑی انتقامی کارروائیوں کے لیے اشتعال انگیزی کا سبب بن سکتی ہے۔حزب اللہ کے رہنما سید حسن نصر اللہ نے لبنان میں اسرائیل کی جانب سے کسی بھی فلسطینی عہدے دار کو ہدف بنانے کے خلاف جوابی حملہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔اس حملے میں بیروت کے ایک ایسیشیعہ آبادی والے علاقے میں ایک اپارٹمنٹ کو نشانہ بنایا گیا تھا جو حزب اللہ کا گڑھ ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ میں لبنان میں حزب اللہ گروپ کے ٹی وی اسٹیشن کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ حماس کے ایک اعلیٰ عہدیدار صالح العاروری منگل کو بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں ایک دھماکے میں مارے گئے۔اے پی کے مطابق اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے 7 اکتوبر کو حماس اسرائیل جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی انہیں ہلاک کرنے کی دھمکی دی تھی۔اسرائیلی حکام نے اس واقعہ پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔غزہ میں اسرائیل کی فوجی مہم تقریباً تین ماہ قبل شروع ہونے کے بعد سے حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر تقریباً روزانہ فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔ لیکن اب تک لبنانی تنظیم لڑائی کو ڈرامائی طور پر بڑھانے سے گریز کر رہی تھی۔تاہم اب ہلاکت پر ردعمل تنازع کو اسرائیل کی شمالی سرحد پر کسی ہمہ گیر جنگ کی طرف بھیج سکتا ہے۔

لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے کہا ہے کہ یہ حملہ ایک اسرائیلی ڈرون نے کیاتھا تاہم اسرائیلی حکام نے اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، اسرائیلی فوج کے ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہاگری نے براہ راست العاروری کی موت کا ذکر نہیں کیا لیکن کہاکہ ہم حماس کے خلاف لڑائی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم کسی بھی منظر نامے کے لیے تیار ہیں۔اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کے درمیان مسلسل لڑائیوں کے درمیان اسرائیلی فوجی غزہ کی پٹی میں کام کر رہے ہیں۔


صالح العاروری کے موت کے بعد اسرائیل ہر صور تحال کیلئے تیار : اسرائیل

مقبوضہ بیت المقدس، 3 جنوری :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اسرائیلی فوج کے ترجمان ایڈمرل ہگاری نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ہر طرح کے منظر نامے اور صورت حال سے نمٹنے کی تیاری کر رکھی ہے۔ حتیٰ کہ حماس کے نائب سربراہ صالح العاروری کی لبنان میں ہلاکت کے بعد بھی پوری طرح تیار ہے۔لبنانی دارالحکومت سے جڑے علاقے میں اسرائیلی ڈرون حملے میں حماس کے اہم عہدے دار کی ہلاکت کے بعد اسرائیل حماس جنگ غزہ سے نکل کر خطے میں پھیل سکتی ہے۔العاروری کے ہلاکت کے بعد لبنان کی سلامتی سے متعلق ایک اہم ذمہ دار نے خبر رساں اے ایف پی کے ساتھ بات چیت کے دوران تصدیق کی ہے کہ صالح العاروری اپنے محافظوں سمیت اس حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ واضح رہے اسرائیل اس اعلان کا بار بار اعادہ کر چکا ہے کہ حماس کو ختم کر کے رہے گا۔ایک اور سکیورٹی ذمہ دار نے بھی ان اطلاعات کی تصدیق کی ہے، جبکہ حماس کے ٹی وی نے بھی اس واقعے کی تصدیق کر دی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ترجمان ایڈمرل ڈینئیل ہگاری نے صالح العاروری کی ہلاکت پر براہ راست تو کوئی تبصرہ نہیں کیا البتہ یہ واشگاف انداز میں کہا ہے ‘ اسرائیلی فوج کو جارحیت اور دفاع جس کے لیے آگے بڑھنا پڑے گا، فوج اس کے لیے تیار ہے۔ ہگاری نے کہا ہم ہر طرح کی صورت حال کے لیے خوب تیار ہیں۔اسرائیل نے غزہ میں حماس کمانڈروں کی ہلاکت کا پہلے بھی اعلان کیا تھا لیکن العاروری کی ہلاکت ان تمام ہلاکتوں سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ وہ حماس کے اعلیٰ ترین رہنماؤں میں سے ایک تھے، نیز لبنان جہاں وہ جلاوطنی کی زندگی گذار رہے تھے انہیں اسرائیل نے اس کے دارالحکومت میں نشانہ بنایا ہے۔

اب خطرہ مزید بڑھ گیا ہے کہ غزہ میں پچھلے تین ماہ سے جاری جنگ پورے علاقے میں پھل سکتی ہے۔ حماس کی طرف سے کہا گیا ہے کہ العاروری کی شہادت ہمیں شکست کی طرف لے کر جانے والی نہیں ہے،حماس کے قائد اسماعیل ھنیہ نے اپنے قریبی ساتھی کی اس شہادت کہا ہے کہ جس تحریک کے رہنما اپنی شہادتوں سے اپنے لوگوں کو وقار دے رہے ہیں وہ لوگ اور قوم کبھی شکست نہیں کھا سکتی۔


اسرائیل حماس کے رہنماؤں پر حملوں کا سلسلہ شروع کرنے والا ہے:امریکی اہلکار

نیویارک، 3 جنوری :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)بدھ کے روز امریکی اخبار’نیویارک ٹائمز‘ نے ایک سرکاری امریکی ذریعے کے حوالے سے کہا ہے کہ کل منگل کو بیروت میں حماس رہ نما صالح العاروری کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد اسرائیل حماس کے مزید رہ نماؤں کو نشانہ بنانے پر کام کررہا ہے۔اخبار نے امریکی اہلکار کے حوالے سے مزید کہا ہے کہ اسرائیل حماس کے رہنماؤں کیخلاف سلسلہ وار قتل عام کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ امریکی ذرائع نے یہ بھی توقع ظاہر کی ہے کہ العاروری کو نشانہ بنانے سے لڑائی کے قلیل مدتی خاتمے کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے بات چیت میں رکاوٹ آئے گی۔نگرانی کرنے والے کیمروں کی ایک گردش کرنے والی ویڈیو کلپ میں بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں حماس کے رہنما صالح العاروری کو اسرائیلی نشانہ بنائے جانے کا لمحہ دکھایا گیا ہے۔

اگرچہ اسرائیل نے باضابطہ طور پر یہ اعلان نہیں کیا کہ العاروری کے قتل کے پیچھے اس کا ہاتھ تھا، لیکن اسرائیلی فوج نے تمام منظرناموں کے لیے اپنی تیاری کی تصدیق کی اور اپنی افواج کی تیاری کی سطح کو بڑھا دیا۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسرائیل حماس اور اس کے رہ نماؤں کے خلاف جنگ جاری رکھے گا جہاں وہ ہوں گے انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔حماس کے پولیٹیکل بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نیزور دیا کہ العاروری کا قتل لبنان کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور دہشت گردی کی مکمل کارروائی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button