لندن ،13؍اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پولیس کے مطابق فائرنگ کے اس واقعے میں مشتبہ حملہ آور سمیت چھ افراد مارے گئے ہیں۔ ان میں دس برس کا ایک بچہ بھی شامل ہے۔پولیس نے بتایا کہ انہوں نے جمعرات کی شام کو فائرنگ کے ایک سنگین واقعے” کے خلاف جوابی کارروائی کی ہے۔ڈیوون اور کارنوال پولیس نے اپنے ابتدائی بیان میں کہا تھا،’’جائے واردات پر کئی لاشیں پڑی ہیں اور زخمی ہونے والے کئی افراد کا علاج چل رہا ہے۔
پولیس نے مزید کہا کہ یہ ایک سنگین واقعہ تھا۔ پورے علاقے کا محاصرہ کرلیا گیا تھا اور #پولیس نے صورت حال کو قابو میں کرلیا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اس #واردات کی تصویریں شائع یا کسی کو ارسال نہ کریں۔جنوب مغربی ایمبولنس سروس نے بتایا کہ #فائرنگ اور اس کی بعد کی صورت حال پر قابو پانے کے لیے متعدد وسائل بشمول ایسے حالات پر قابو پانے والی خصوصی #ٹیمیں (ہارٹ)، متعدد ایمبولنس، ایئر #ایمبولنس، #ڈاکٹر اور سینئر نیم طبی عملے کو بھیجا گیا۔
وزیر داخلہ پریتی پٹیل نے اس’’افسوس ناک‘‘ واقعے کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں اور لوگوں سے پرسکون رہنے کی اپیل کی۔ انہوں نے ٹوئٹر پر کہا،’’میں نے چیف (Sheriff’s Office) سے بات کی ہے اور ہر طرح کے تعاون کی پیشکش کی ہے۔ میں ہر ایک سے اپیل کرتی ہوں کہ پرسکون رہیں، پولیس کے مشورے پر عمل کریں اور ہماری ایمرجنسی سروسز کو انہیں اپنا کام کرنے دیں۔
انہوں نے اپنے ٹوئٹ پر لکھاکہ اس واقعے کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی مشتبہ حملہ آور پلے ماوتھ میں کہیں چھپا ہوا ہے۔ دراصل سوشل میڈیا پر ایسی افواہیں گشت کرنے لگی تھیں کہ حملہ آور غالباً علاقے میں کہیں روپوش ہوگیا ہے۔مقامی رکن پارلیمان لیوک پولارڈ نے کہا کہ یہ واقعہ ’’ہمارے شہر اور ہماری کمیونٹی کے لیے ایک انتہائی غمناک دن ہے۔



