قومی خبریں

6 سالوں سے پاکستان کی جیل میں بند ذہنی طور پر بیمار17 ہندوستانیوں کا کوئی سراغ نہیں 

نئی دہلی:(.اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پاکستان کے ذریعہ 6سال پہلے اس کی جیل میں مبینہ طور پرذہنی طور پربیمار17 ہندوستانی شہریوں کے بندہونے کی بات کہے جانے کے بعدسے ان کی شناخت کی تصدیق کیلئے کی جارہی کوششوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلاہے۔ مرکزی وزارت داخلہ نے ان کی تصاویر بھی اپنی ویب سائٹ پر ڈالی ہیں، جس میں ریاستوں اور مرکز ی علاقوں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں سے بھی مدد کی درخواست کی گئی ہے۔
ایک عہدیدار نے بتایا کہ اس نے اپنی سزا پوری کرلی ہے لیکن قومیت کی تصدیق نہیں ہونے کی وجہ  انہیں ہندوستان نہیں لایا جاسکا۔پاکستانی جیلوں میں بندجن17 قیدیوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ہندوستانی ہیں، ان میں سے چار خواتین ہیں اورپاکستانی حکام نے انہیں گلو جان، اجمیرا، ناکایا اور حسینہ نام دیاہے۔دوسرے قیدی سونو سنگھ، سریندر مہتو، پرہلاد سنگھ، سلروف سلیم، برجو، راجو، بپلا، روپی پال، پنوسی لال، راجو مہولی، شیام سندر، رمیش اور راجو رائے شامل ہیں۔
وزارت داخلہ نے کہا کہ اگر کوئی شخص ان 17 افراد میں سے کسی کی شناخت کرسکتا ہے تو اسے وزارت داخلہ، ریاستی حکومت کے محکمہ داخلہ یا مرکزی علاقہ یا ڈائریکٹر جنرل پولیس میں انڈر سکریٹری (خارجہ امور) سے رابطہ کرنا چاہئے۔وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ منسلک ہونے والی ذہنی طور پر بیمار 17 افراد کی تصویر ہے، جن کے بارے میں کہاجاتاہے وہ ہندوستانی ہیں۔
یہ افراد ذہنی بیماری کی وجہ سے اپنے والدین، رشتہ داروں کے نام یا ہندوستان میں اپنے پتے وغیرہ سمیت مزید معلومات فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔پاکستان نے 2015 میں ہندوستان کو اپنی جیل میں موجود 17 افراد کے بارے میں بتایا تھا جنھوں نے اپنی سزاپوری کرلی ہے۔
وزارت داخلہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ہم نے ان کی تصاویر وزارت کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کردی ہیں لیکن اب تک ان میں سے کسی کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ ہم نے ان کی تصاویر ریاستوں اور مرکزی علاقوں کے ساتھ شیئر کی لیکن انہیں بھی ان سے کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button