گوشہ خواتین و اطفال

سوشیل میڈیا اور ہماری ذمہ داری

سعیدہ شیخ ۔اندھیری : ممبئی

انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ ہمیشہ بہتری کی تلاش میں رہتا ہے۔ اکیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ جہاں ٹیکنالوجی نے ترقی کی نئی راہیں کھولی ہیں، وہیں ڈیجیٹل انقلاب نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب علم اور معلومات انسان کی انگلیوں پر دستیاب ہیں، اور ماس کمیونیکیشن اس قدر آسان ہو چکا ہے کہ ہر عام و خاص تک رسائی ممکن ہوگئی ہے۔

  ذرائع ابلاغ: گلوبل ولیج کی حقیقت

دنیا اب ذرائع ابلاغ کی دنیا بن چکی ہے۔ اسی وجہ سے آج پوری دنیا ایک گلوبل ولیج میں تبدیل ہو چکی ہے۔ رابطے، پیغامات اور اشتہارات جو پہلے مشکل تھے، آج ایک کلک کی دوری پر ہیں۔ سوشل میڈیا انٹرنیٹ کا ایک ایسا نیٹ ورک ہے جو نہ صرف افراد بلکہ اداروں کے درمیان بھی رابطے کا مؤثر ذریعہ بن چکا ہے۔

  ذرائع ابلاغ کی ارتقائی تاریخ

ذرائع ابلاغ کی پہلی شکل اخبار تھی، جس کا مقصد خبروں کی ترسیل تھا۔ بعد میں ریڈیو اور ٹیلی فون کا دور آیا، جس نے معلومات اور پیغام رسانی کو مزید سہولت بخش بنایا۔ وقت کے ساتھ فلمیں، ڈاکیومینٹریز اور کھیل بھی تفریح کے ذرائع بن گئے۔ پھر ڈیجیٹل انقلاب آیا، اور انٹرنیٹ ہر خاص و عام کی دسترس میں آ گیا۔ اب سب کچھ ایک کلک کی دوری پر ہے—خبریں، فلمیں، پیغامات اور ویڈیو کالنگ، سب کچھ فوری دستیاب ہے۔

  سوشل میڈیا: فائدہ یا نقصان؟

ہر ایجاد کے مثبت اور منفی اثرات ہوتے ہیں۔ اگر سوشل میڈیا کا درست استعمال کیا جائے تو یہ علم اور ترقی کا ذریعہ ہے، لیکن غلط استعمال اسے تباہی میں بدل سکتا ہے۔ یہ ایک چاقو کی مانند ہے، جسے ڈاکٹر زندگی بچانے کے لیے استعمال کرتا ہے جبکہ ایک مجرم قتل کے لیے۔

  نوجوان نسل اور میڈیا کا چیلنج

نوجوان نسل کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتی ہے، مگر آج سوشل میڈیا نے نوجوانوں کو بے راہ روی میں مبتلا کر دیا ہے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کا قول ہے:
"اگر کسی قوم کو بغیر جنگ کے شکست دینی ہو تو، اُس قوم کے جوانوں میں بے حیائی پھیلا دو۔”

اگر ہم ایک بہتر قوم اور ملت کا خواب دیکھ رہے ہیں، تو والدین کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ جیسا کہ نپولین بوناپارٹ نے کہا تھا:
"تم مجھے بہترین مائیں دو، میں تمہیں بہترین قوم دوں گا۔”

  سوشل میڈیا کا مثبت استعمال

سوشل میڈیا کا بہترین استعمال کر کے ہم کئی ذہنوں کو بدل سکتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے بھی اپنے دور کے ذرائع کو پیغام رسانی کے لیے استعمال کیا تھا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم سوشل میڈیا کو دین اور انسانیت کی خدمت کے لیے بروئے کار لائیں اور اپنے وقت کو اللہ کی رضا کے لیے وقف کریں۔

  حدیث قدسی: وقت کی برکت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"یقیناً اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے آدم کے بیٹے! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا، میں تیرے سینے کو غناء سے بھر دوں گا اور تیری ضروریات کو پورا کر دوں گا۔ اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے ہاتھ کو کام میں مشغول کر دوں گا اور تیری ضروریات پوری نہیں کروں گا۔” (ترمذی، ابن ماجہ، مسند احمد)

متعلقہ خبریں

Back to top button