سرورقگوشہ خواتین و اطفال

سوشل میڈیا کے حد سے زیادہ استعمال نے خواتین کو تنہا کر دیا

صوم و صلوٰۃ کی پابندی بھی مائیں کرواتی تھیں۔

خواتین جو نازک آبگینوں کی طرح ہوتی ہیں، انہیں اس پُرآشوب دور میں ٹھیس سے بچنے کے لئے کسی محبت اور تحفظ بھرے حصار کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ جب تک وہ اس حصار میں مقید رہتی ہیں، تب تک ان کی عزت و آبرو قائم رہتی ہے، اور سوچ و خیالات میں پاکیزگی کا عنصر برقرار رہتا ہے۔ مگر افسوس کہ آج کے اس بے حس معاشرے نے خواتین کو نام نہاد آزادی کی خام خیالی میں مبتلا کر دیا ہے۔

ٹیکنالوجی کی ترقی نے خواتین میں تعلیمی شعور تو پیدا کیا ہے، مگر اس کے ساتھ ان میں موجود معصومیت کا جوہر بھی ماند پڑ گیا ہے۔ قابلِ ذکر پہلو یہ ہے کہ ٹیکنالوجی میں ترقی کے نام پر سوشل میڈیا نے مرد و خواتین دونوں کو گویا اپنے سحر میں جکڑ لیا ہے۔ سماجی روابط کی ویب سائٹس پر اپنوں سے قربت کم جبکہ اغیار کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔

لڑکے اور لڑکیوں نے بلا امتیاز سوشل میڈیا پر خود کو نمایاں کرنے اور اپنا دائرہ کار بڑھانے کی ٹھان رکھی ہے۔ نت نئے لوگوں کو فرینڈ لسٹ میں شامل کیا جا رہا ہے اور انٹرنیٹ کے ذریعے نئی دوستیوں کا سلسلہ پروان چڑھ رہا ہے۔ چاہے طالبات ہوں، ورکنگ ویمن ہوں یا جدید ٹیکنالوجی کی دلدادہ ہاؤس وائف — سبھی سماجی روابط کی ویب سائٹس پر موجود ہیں۔

وہ مائیں جو کبھی اپنی اولاد کی پرورش میں نایاب گوہروں کی طرح اپنا وقت صرف کرتی تھیں، آج سوشل میڈیا کے زیر اثر اپنے فرائضِ منصبی پوری کرنے کے بجائے وقت فضول سرگرمیوں میں صرف کرنے لگی ہیں۔ اس غفلت کے باعث رشتوں میں دراڑیں پڑنے لگی ہیں۔ گھر کے افراد گھر میں رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

خواتین چاہے تعلیم یافتہ ہوں یا ان پڑھ، اپنی برتری ثابت کرنے کا شوق بدرجۂ اتم رکھتی ہیں۔ چند سال پیچھے چلے جائیں تو پتہ چلتا ہے کہ ماؤں کا اپنی بیٹیوں پر سخت کنٹرول تھا۔ اگر لڑکیاں ڈائجسٹ وغیرہ پڑھتیں تو مائیں اسے ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتی تھیں۔ ان کا مقصد صرف ڈانٹنا نہیں ہوتا تھا، بلکہ وہ اپنی بیٹیوں کو ہر اس راستے سے روکنا چاہتی تھیں جو بے راہ روی کی جانب لے جائے۔

اسی تربیت کا نتیجہ تھا کہ اُس وقت کی لڑکیوں میں تمیز و اخلاق بدرجۂ اتم موجود تھا۔ صوم و صلوٰۃ کی پابندی بھی مائیں کرواتی تھیں۔ اوائل عمری میں قرآن مجید کی تعلیم، اسکول کی پڑھائی کے ساتھ ساتھ امورِ خانہ داری بھی سکھایا جاتا تھا تاکہ بیٹیاں اپنے مستقبل میں بااعتماد زندگی گزار سکیں اور والدین کا سر فخر سے بلند کریں۔

مگر آج کی مائیں خود فیشن کی دلدادہ ہیں تو وہ اپنی بچیوں کی کیا تربیت کریں گی؟ انہیں صحیح اور غلط کا فرق کیسے بتائیں گی؟

سوشل میڈیا کے حد سے زیادہ استعمال نے خواتین کو تنہا کر دیا ہے۔ پہلے جو مسائل گھر والوں کے ساتھ ڈسکس کیے جاتے تھے، آج وہ دلیرانہ انداز میں خود ہی حل تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور اکثر اوقات بلیک میلنگ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ سوشل میڈیا کا ایک اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس نے خواتین کو خود پسند بنانے میں بھی کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔

صنفِ نازک تو پہلے ہی نزاکت و لطافت میں سب پر سبقت رکھتی تھیں، مگر آج وہ اپنی خوبصورتی اور چارمنگ پرسنالٹی کے لیے ہمہ وقت فکر مند رہتی ہیں۔ اس پوری بحث کو یوں سمیٹا جا سکتا ہے کہ خواتین اپنی انفرادیت کو صحیح معنوں میں سمجھیں، دین سے گہری واقفیت حاصل کرنے کی کوشش کریں، اپنے حقوق و فرائض کا خود جائزہ لیں۔

سائنس کی ترقی اور نئی دریافتوں سے ضرور فائدہ اٹھائیں، مگر اپنے دائرے میں رہ کر—کیونکہ بالآخر انہیں اپنے کردار کو بے داغ رکھنا ہے۔ تاکہ وہ پاکیزہ معاشرے کی بنیاد رکھنے میں اپنا اولین فرض بخوبی ادا کر سکیں۔

سوشل میڈیا کے مضر اثرات سے آگاہی حاصل کرکے خود کو بچانا اور دوسروں کو بھی محفوظ رکھنا نہایت ضروری ہے۔ کامیابی کے درخشاں فلک کا تابندہ ستارہ بن کر اپنے خاندان اور معاشرے کو ایک روشن کہکشاں میں بدل دیں، جس کی روشنی آنے والی نسلوں کی راہ کو منور کر دے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button