غلط فہمیاں,ماں کے دودھ سے متعلق چند وہم-حفصہ فاروق بنگلور
بچے کو دودھ پلانے سے دور رکھنا شفا یابی کے لئے ضروری ہوتا ہے۔
اپنے حمل کے آخری چند مہینوں میں ایک ماں اپنے آپ کو جس چیز کے لئے تیار کرتی ہے وہ چھاتی سے دودھ پلانا ہے جس کے لئے کچھ جسمانی اور نفسیاتی تیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہر شخص کے ذریعہ مختلف رائے اور مشورے فراہم کئے جانے کے ساتھ منطقی مشورے اور روایتی وہم کے درمیان فرق کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ شہر بنگلور کے مدر ہڈ اسپتال کے ڈاکٹروں نے نومولود بچوں کو دودھ پلانے والی ماؤں کو چند اہم مشورے دئیے گئے ہیں۔
ذیل میں دودھ پلانے کے بارے میں کچھ وہم اور غلط فہمیاں ہیں جن کو دور کرنا ماؤں کو اس کی حقیقت بتانے میں مدد کرنے کے لئے ضروری ہے تاکہ وہ اس عمل کو پوری طرح سمجھ سکیں اور خود اور ساتھ ہی اپنے بچے کی صحت سے متعلق اس سے ہونے والے فوائد کو ذہن نشین کرلیں۔
اگرچہ ابتدائی چند دنوں میں نسبتاً کچھ درد عام سی بات ہے، یہ ایک عارضی صورتحال ہونی چاہئے جو کچھ دنوں تک جاری رہتی ہے اور یہ کبھی بھی اتنا زیادہ نہیں ہونی چاہئے کہ ماں دودھ پلانے سے گھبرائیں کوئی بھی درد جو ہلکے سے زیادہ ہوتا ہے وہ غیر معمولی ہے اور یہ زیادہ تر ہمیشہ بچے کے ماں کی چھاتی سے غلط طریقہ سے جٹ جانے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ درد جو 3 یا 4 دنوں میں نہیں ختم ہوتا ہے یا 5 سے 6 دنوں سے زیادہ رہتا ہے اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ جب چیزیں معمول کے مطابق چل رہی ہوں تو درد کی شروعات انفیکشن کی وجہ سے ہوسکتی ہے۔ دودھ پلانے کے اوقات کو محدود کرنا درد کو ختم نہیں کرتا ہے۔
آخری چارۂ کار کے طور پر بچے کو دودھ پلانے سے دور رکھنا شفا یابی کے لئے ضروری ہوتا ہے۔
ماں کے دودھ سے بچے کو انفیکشن ہوجایا کرتا ہے چوں کہ اسے کچھ دن پہلے سے انفیکشن ہوا ہوتا ہے، بچے کی حفاظت کے لئے ماں کو چھاتی سے دودھ پلانا جاری رکھنا چاہئے۔ کچھ دوائیں ہیں جو ایک ماں دودھ پلاتے ہوئے نہیں لے سکتی ہے کیوں کہ یہ دوائیں تھوڑی مقدار میں دودھ میں پائی جاسکتی ہیں۔ ڈاکٹر متبادل دوائیں تجویز کرتے ہیں جو دودھ پلانے والی ماؤں کے لئے محفوظ ہوتی ہیں۔ کم کیلوری کی خوراک کھانے والی ماں بھی اپنے بچے کے لئے دودھ پیدا کرسکے گی۔ ڈاکٹر ماؤں کو متوازن غذائیں کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔
قبل از وقت پیدا ہوئے بچوں پر بوتل سے دودھ پلانے کی بہ نسبت چھاتی سے دودھ پلانے سے کم دباؤ پڑتا ہے۔ 1200 گرام تک اور اس سے بھی کم وزن کے بچے جیسے ہی مستحکم ہوتے ہیں دودھ پینا شروع کرسکتے ہیں۔ ہوسکتا ہے وہ کچھ ہفتوں تک مناسب طریقہ سے جٹ نہ سکیں۔ پھربھی وہ سیکھ رہے ہوتے ہیں اور یہ ان کی فلاح وبہبود کے لئے بہت اہم ہوتا ہے۔
اگر ماں نے حفاظتی ٹیکے لگوائے ہیں تو اس سے بچے کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا ہے بلکہ اس سے اسے فائدہ ہی ہوگا۔ ماں کے دودھ میں کاربوہائیڈریٹ، پروٹین، چربی، وٹامن اور معدنیات قدرتی طور پر اور اعلیٰ مقدار میں موجود ہوتے ہیں جسے ہضم کرنا اور جذب کرنا بچے کے لئے آسان ہوتا ہے۔ بچے کی ولادت کے بعد پیدا ہونے والا چھاتی کا دودھ کولوسٹرم آپ کے بچے کے لئے پہلا مکمل کھانا بھی ہے اس لئے کہ یہ پہلاٹیکہ لینے کے مساوی بھی ہے۔ کیوں کہ کولوسٹرم اینٹی باڈیزم اور ایمیو نوگلو بیولین اے سے بھر پور ہوتا ہے۔
کولوسٹرم حفاظتی سفید خلیوں سے بھی مالا مال ہوتے ہیں جنہیں خون کے سفید ذرات کہا جاتا ہے جو جرثوموں سے دفاع کرتے ہیں۔ اسی طرح ماں کا دودھ قوت مدافعت کو بڑھاتا ہے، ماں کا دودھ بچوں میں ذیابیطس کے امکانات کو 35 فیصد تک کم کرتا ہے، بچپن کے کینسر اور زندگی میں بعد میں ہونے والی دل کی بیماری کے خطرے کو کم کرتا ہے۔ ماں کا دودھ پلانا خود ماں کی صحت اور تندرستی میں بھی معاون ہوتا ہے۔ یہ بیضہ دانی کے کینسر اور چھاتی کے کینسر کے خطرہ کو 25 فیصد تک کم کرتا ہے۔ چھاتی سے دودھ پلانے والی خواتین بچے کی ولادت سے تیزی سے اور آسانی سے صحت یاب ہوتی ہیں۔ کیوں کہ آکسٹیو سیں جیسے ہارمون بچہ دانی کے جلد معمول پر واپس آنے میں مدد کرتے ہیں۔
حالیہ دنوں چھاتی سے دودھ پلانے سے متعلق وہموں میں اضافہ ہوا ہے خاص طور پر شہری علاقوں میں جہاں کام کرنے والی خواتین کو اپنے روز مرہ کے معمولات کی وجہ سے متعدد چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں این جی او اور سرکاری تنظیموں کے ذریعہ چھاتی سے دودھ پلانے اور بچوں کے لئے اس کی اہمیت کی تعلیم کی ضرورت پر متعدد مہم چلانی چائیں۔



