سونیا گاندھی نے راجیہ سبھا میں آشا اور آنگن واڑی کارکنان کی کم اجرت اور سماجی تحفظ کا مسئلہ اٹھایا
خواتین کارکنان کو انتہائی کم اجرت پر کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے منگل کے روز راجیہ سبھا میں ملک کے اہم سماجی فلاحی پروگراموں کو نافذ کرنے والی خواتین کارکنان کے دیرینہ مسائل کو مؤثر انداز میں اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ آشا کارکنان، آنگن واڑی کارکنان، ہیلپرز اور قومی دیہی روزگار مشن کے تحت خدمات انجام دینے والی کمیونٹی ریسورس پرسنز ہندوستان کے صحت، غذائیت اور سماجی بہبود کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، مگر انہیں نہ مناسب معاوضہ دیا جا رہا ہے اور نہ ہی سماجی تحفظ کی سہولتیں حاصل ہیں۔
ایوان سے خطاب کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے نشاندہی کی کہ ان تمام اسکیموں کا بنیادی مقصد خواتین کو بااختیار بنانا بتایا جاتا ہے، لیکن عملی سطح پر خواتین کارکنان کو انتہائی کم اجرت پر کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ آشا کارکنان پورے ملک میں حفاظتی ٹیکہ کاری، زچگی کی نگرانی، خاندانی منصوبہ بندی اور صحت سے متعلق عوامی بیداری جیسے اہم فرائض انجام دیتی ہیں، اس کے باوجود انہیں مستقل ملازم کا درجہ نہیں دیا جاتا۔
انہوں نے کہا کہ آنگن واڑی کارکنان اور ہیلپرز کی حالت بھی مختلف نہیں ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے آنگن واڑی کارکنان کو صرف 4500 روپے اور ہیلپرز کو محض 2250 روپے ماہانہ اعزازیہ دیا جاتا ہے، جو موجودہ مہنگائی کے پیش نظر ناکافی ہے۔ سونیا گاندھی نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ مربوط خدماتِ اطفال اسکیم کے تحت ملک بھر میں تقریباً تین لاکھ آسامیاں خالی پڑی ہیں، جس کے باعث لاکھوں بچوں اور ماؤں کو بنیادی سہولتوں سے محرومی کا سامنا ہے۔
کانگریس رہنما کے مطابق 2011 کے بعد مردم شماری نہ ہونے کے باعث آبادی کے تناسب سے درکار عملہ بھی تعینات نہیں ہو پا رہا، جس کا منفی اثر ان سماجی اسکیموں کی کارکردگی پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ریاستی حکومتوں کے ساتھ مل کر فوری اقدامات کرے، تمام خالی آسامیاں پُر کی جائیں، کارکنان کو بروقت اجرت دی جائے اور مرکزی سطح پر تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔
سونیا گاندھی نے مزید کہا کہ بڑے دیہات میں اضافی آشا کارکنان کی تعیناتی اور آنگن واڑی مراکز میں عملے کی تعداد میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ صحت، غذائیت اور ابتدائی تعلیم کے اہداف کو مؤثر طور پر حاصل کیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان خواتین کارکنان کی مضبوطی دراصل ہندوستان کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے، جس کے بغیر سماجی ترقی ممکن نہیں۔



