جنوبی افریقہ کا اسرائیل کیخلاف عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ، سماعت اسی ماہ متوقع
ایلون لیوی نے کہا کہ ہم جنوبی افریقہ کے لیڈروں کو یقین دلاتے ہیں کہ آپ کے الزامات کا فیصلہ تاریخ کرے گی،
نیویارک ، 3 جنوری :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ جنوبی افریقہ کی جانب سے عائد کیے جانے والے ان الزامات کیخلاف مقدمہ کہ وہ غزہ کی پٹی میں حماس کے ساتھ جنگ میں نسل کشی کا مرتکب ہوا ہے، ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی عدالت انصاف میں پیش ہو گا۔جنوبی افریقہ نے جمعہ کے روز عدالت سے ایک فوری حکم نامے کی درخواست کی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل حماس کے ساتھ جنگ میں 1948 کے نسل کشی کنونشن کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔اسرائیل کے ترجمان ایلون لیوی نے ایک آن لائن بریفنگ میں بتایا کہ اسرائیل کی ریاست جنوبی افریقہ کے خونریزی سے متعلق مضحکہ خیز الزامات کو ختم کرانے کے لیے” دی ہیگ” میں قائم بین الاقوامی عدالت انصاف کے سامنے پیش ہو گی۔
ایلون لیوی نے کہا کہ ہم جنوبی افریقہ کے لیڈروں کو یقین دلاتے ہیں کہ آپ کے الزامات کا فیصلہ تاریخ کرے گی، اور وہ یہ فیصلہ آپ پر کسی رحم کے بغیر کرے گی۔جنوبی افریقہ کئی عشروں سے اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں میں ریاست کے قیام کے فلسطینی موقف کی حمایت کر رہا ہے۔ وہ فلسطینیوں کے حالات کو کو نسل پرستی کے دور میں جنوبی افریقہ میں سیاہ فام اکثریت سے مشابہ قرار دیتا ہے۔ اسرائیل اس موازنے کی سختی سے تردید کرتا ہے۔بین الاقوامی عدالت انصاف، جسے بعض اوقات عالمی عدالت انصاف کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے،ملکوں کے درمیان تنازعات کو حل کرنے کے لیے اقوام متحدہ کاایک ادارہ ہے۔اسرائیل کی وزارت خارجہ نے جنوبی افریقہ کی جانب سے دائر کیے جانے والے اس مقدمے کو بے بنیاد قرار دیاہے۔



