بین الاقوامی خبریںسرورق

جنوبی غزہ کےاسپتال انہدام کے دہانے پر: ریڈ کراس

غزہ:فلسطینی بچوں کے لیے عارضی فیلڈ اسپتال بنانے کا فوجی اعلان نیتن یاہو نے کیا منسوخ

غزہ، 19جولائی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)ریڈ کراس نے جمعرات کو کہا کہ اسرائیلی بمباری سے زخمی ہونے والے لوگوں کی آمد کی وجہ سے جنوبی غزہ میں صحت کی تمام سہولیات انہدام کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں اور ڈاکٹرز جلد ہی مشکل فیصلے کرنے پر مجبور ہوں گے کہ کس کا علاج کیا جائے۔ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی (آئی سی آر سی) نے کہا کہ رفح شہر میں ہفتے کے روز بے گھر افراد کے المواصی پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی حملے کے بعد 60 بستروں پر مشتمل اس کے فیلڈ اسپتال میں 26 افراد کو داخل کیا گیا جنہیں دھماکہ خیز مواد کے ٹکڑوں اور دیگر زخموں کی وجہ سے اسپتال میں داخلے اور علاج کی ضرورت تھی۔حماس کے زیرِ انتظام علاقے کی وزارتِ صحت نے کہا کہ اس حملے میں کم از کم 90 افراد ہلاک اور 300 زخمی ہوئے تھے۔ اسرائیل نے کہا کہ سات اکتوبر کو غزہ جنگ کی وجہ بننے والے حملے میں جو فوجی کمانڈر ملوث تھے، اس حملے میں انہیں نشانہ بنایا گیا تھا۔

آئی سی آر سی کے وفد کے غزہ کے سربراہ ولیم شومبرگ نے ایک بیان میں کہاکہ بے لگام دشمنیوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے واقعات بار بار رونما ہوئے ہیں جنہوں نے ہمارے اسپتال — اور جنوبی غزہ میں صحت کی تمام سہولیات – میں مہلک زخموں کی نگہداشت اور علاج کرنے کی صلاحیت کی کمر توڑ دی ہے۔انہوں نے لڑائی کے دوران علاج کے لیے محدود سامان اور بار بار اسپتال بند ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ”بڑے پیمانے پر ہلاکت کا ایک اور واقعہ ہمارے ڈاکٹروں اور نرسوں کو انتہائی مشکل فیصلے کرنے پر مجبور کر دے گا۔ریڈ کراس نے کہا کہ گذشتہ ہفتے بھی 850 افراد کا ہجوم دیکھا جنہیں ریڈ کراس اسپتال میں بیرونی مریضوں کی نگہداشت کی ضرورت تھی ،جن میں سے تقریباً نصف خواتین اور ایک تہائی بچے ہیں۔

بیان میں کہا گیاکہ زیادہ تر مریض اپنے گھروں سے متعدد بار بے گھر ہو چکے ہیں اور بہت کم خوراک اور صاف پانی کے ساتھ پرہجوم علاقوں میں رہ رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ بآسانی بیمار ہو سکتے ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ مئی سے لے کر اب تک اسپتال نے 500 سے زیادہ سرجری اور 12,000 مریضوں کو مشورے کی خدمات فراہم کی ہیں۔

غزہ:فلسطینی بچوں کے لیے عارضی فیلڈ اسپتال بنانے کا فوجی اعلان نیتن یاہو نے کیا منسوخ

مقبوضہ بیت المقدس، 19جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)امریکہ جانے سے پہلے غزہ بیمار اور زخمی فلسطینی بچوں کے علاج کے لیے اس عارضی فیلڈ اسپتال کی تعمیر کے منصوبے کو اعلان کی سطح پر ہی روک دیا ہے جسے فوج نے اپنے طور امریکی وزیر دفاع کے کہنے پر کچھ نیک نامی کا بندو بست کرنے کے لیے ایسا کرنے کا اعلان کیا تھا۔امکانی طور پر یہ اسرائیلی اسپتال بھی اسی طرح کی ایک کارروائی ہونا تھی جو امریکہ نے ایک بڑے اعلان کے ساتھ غزہ کے بھوکوں اور قحط زدہ متاثرین جنگ کے لیے غزہ سے متصل سمندر میں عارضی بندر گاہ تعمیر کر کے کی تھی۔ یہ عارضی بندر گاہ دو ماہ سے کچھ زیادہ دنوں میں امریکی پنٹاگون نے تعمیر کی۔ بیس دن کے لیے اس سے خوراک غزہ کے جنگ اور قحط زدہ لوگوں تک پہنچائی اور پھر اسے یہ کہہ کر بند کر دیا کہ مشن مکمل کر لیا ہے اس لیے بند کر دی ہے۔نیتن یاہو نے کمپنی کی مشہوری کے لیے یہ عارضی اہتمام کر کے غزہ کے بچوں کے لیے عارضی ریلیف دینا بھی گوارا نہیں کیا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو آج کل امریکی کانگریس کے اجلاس سے خطاب کے لیے روانہ ہونے کی تیاری میں ہیں۔ ان کا یہ خطاب امریکی ارکان کانگریس نے ایسے وقت میں ترتیب دیا ہے جب بین الاقوامی فوجداری عدالت نے انہیں ان کے وزیر دفاع سمیت جنگی جرائم میں مطلوب مانتے ہوئے ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا اشارہ دیا تھا۔یہ نیتن یاہو اور اسرائیل کے لیے ایک بڑا دھچکا ہو سکتا تھا ،مگر امریکی کانگریس نے انہیں مشکل گھڑی میں طاقت دی اور فوجداری عدالت کو پیغام دے دیا کہ امریکہ پوری طرح نیتن یاہو کے ساتھ ہے۔اس لیے نیتن یاہو نے امریکہ روانگی سے پہلے یہ باور کرانے کے لیے عارضی فوجی فیلڈ اسپتال کے اعلان کو اعلان بھی رہنے دینا قبول نہیں کیا ہے۔ کہ وہ فلسطینی بچوں کی ہلاکتوں میں کمی کے لیے قطعاً تیار نہیں۔

واضح رہے بدھ کے روز امریکی عارضی بندر گاہ کی بند ش کے باضابطہ اعلان کے روز امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے فون کر کے یوو گیلنٹ وزیر دفاع کو عارضی فیلڈ اسپتال بنانے کا مشورہ دیا تھا۔ جس کو یوو گیلنٹ نے بھی پسند کر لیا اور اعلان کر دیا۔اس سے پہلے ایک بار یوو گیلنٹ فلسطینیوں کے زخمی اور بیمار بچوں کو دوسرے ملکوں میں جانے کی اجازت دینے کی اسرائیلی وزیر اعظم سے اجازت کے طلبگار ہوئے۔ اس مقصد کے لیے ایک خط بھی وزیر اعظم کو لکھا مگر انہوں نے جواب نہ دیا۔اب بدھ کے روز لائیڈ آسٹن کی فون کال کے دوران انہوں نے عارضی فیلڈ اسپتال بنانے کا فوج کو حکم دیا۔ مگر نیتن یاہو نے اس حکم کو بھی روک دیا ہے۔ ان کے خیال میں زخمی اور بیمار فلسطینی بچوں کے لیے ایسی پریشانی لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔یاد رہے غزہ میں اب تک جنگ میں اسرائیلی سفاکی میں38744 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔

اسرائیل: تل ابیب کی عمارت میں دھماکہ، ڈرون حملے کے تناظر میں تحقیقات جاری

مقبوضہ بیت المقدس ، 19جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب کی ایک عمارت میں جمعے کی علی الصبح دھماکہ ہوا ہے تاہم فوج کا کہنا ہے کہ بظاہراً یہ ڈرون حملہ تھا جس کی تحقیقات جاری ہیں۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی فوج نے جاری بیان میں کہا ہے کہ ابتدائی انکوائری سے معلوم ہوتا ہے کہ تل ابیب میں دھماکہ ایک فضائی ٹارگٹ کے گرنے سے ہوا اور کسی قسم کے سائرن حرکت میں نہیں آئے۔ واقعے کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘اس دھماکے سے چند گھنٹے قبل اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کے ایک سینئر کمانڈر کو مار ڈالنے کی تصدیق کی تھی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فضائی حدود کے تحفظ کے لیے پٹرولنگ بڑھا دی گئی ہے تاہم فوج کا کہنا ہے کہ نئے دفاعی اقدامات کے احکامات نہیں جاری کیے گئے۔

ایرانی حمایت یافتہ یمن کے حوثی عسکریت پسندوں کے ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ تل ابیب کو ہدف بنانے والے ملٹری آپریشن کی تفصیلات سامنے لائیں گے۔پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کے قریبی مقام سے اپارٹمنٹ میں ایک شخص کی نعش ملی ہے تاہم تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ موت کن حالات میں واقع ہوئی۔ٹیلی ویژن پر چلنے والی دھماکے کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عمارتوں کے ٹوٹے ہوئے شیشے زمین پر پڑے ہیں اور ارد گرد لوگ جمع ہیں۔خیال رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے میں حزب اللہ اور حوثیوں کی جانب سے اسرائیل اور مغربی اہداف کیخلاف حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔گروپس کا کہنا ہے کہ وہ فلسطین کی حمایت میں اسرائیل اور مغربی اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button