بین الاقوامی خبریں

جنوبی کوریا: ناکام مارشل لا کے بعد صدر سے استعفے کا مطالبہ، مواخذے کی بھی دھمکی

مارشل کی ناکامی کے بعد حزبِ اختلاف کی جماعتیں صدر یون سک یول سے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہیں

سیول،4دسمبر ( ایجنسیز) جنوبی کوریا میں مارشل کی ناکامی کے بعد حزبِ اختلاف کی جماعتیں صدر یون سک یول سے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ پارلیمان کے بعض ارکان نے استعفا نہ دینے کی صورت میں صدر کے مواخذے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔جنوبی کوریا میں گزشتہ پانچ دہائیوں میں پہلی بار منگل کو ڈرامائی انداز میں مارشل لا لگایا گیا جسے چھ گھنٹے بعد ہی منسوخ کر دیا گیا۔

صدر یون سک یول نے منگل کی شب مارشل لا کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ آئین کے تحفظ کے لیے ان کے پاس اس اقدام کے سوا کوئی چاہ نہیں تھا۔صدر یون نے مارشل لا کے نفاذ کے لیے پارلیمان میں اپوزیشن جماعتوں کو موردِ الزام ٹھہرایا تھا۔قوم سے خطاب میں صدر یون نے اپوزیشن پر پارلیمنٹ کو کنٹرول کرنے، شمالی کوریا کے ساتھ ہمدردی رکھنے اور ریاست مخالف سرگرمیوں سے حکومت کو مفلوج کرنے کا الزام بھی لگایا تھا۔

صدر کے مارشل لا لگانے کے ساتھ ہی ملک کی فوج متحرک ہوئی اور اس نے پارلیمان کی عمارت کا گھیراؤ شروع کر لیا تھا۔ اس دوران ایسی ویڈیوز بھی سامنے آئیں جس میں مختلف مقامات پر سیکیورٹی اہلکاروں سے اپوزیشن کے حامی مظاہرین کی مڈ بھیڑ ہو رہی ہے۔یون سک یول کے اعلان کے فوری بعد پارلیمنٹ میں اکثریت رکھنے والی اپوزیشن جماعت ڈیمو کریٹک پارٹی نے اپنے قانون سازوں کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا۔ بعد ازاں 300 رکنی پارلیمان میں 190 ارکان نے مارشل لا کے خاتمے کے لیے ووٹ دیا تھا۔

جنوبی کوریا کے قانون کے تحت پارلیمنٹ میں اکثریتی ووٹ کے ذریعے مارشل لا ختم کیا جا سکتا ہے۔پارلیمان میں 300 نشستوں میں سے 170 اپوزیشن کی مرکزی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس ہیں جب کہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کو ملا کر مجموعی طور 192 ارکان اپوزیشن میں ہیں۔ حکمراں جماعت پیپل پاور پارٹی (پی پی پی) کے 108 ارکان ایوان میں موجود ہیں۔

البتہ ووٹنگ کے دوران ڈیڑھ درجن حکومتی ارکان نے بھی مارشل لا کے خلاف ووٹ دیا اور اپوزیشن کا ساتھ دیا۔ٹیلی ویژن پر دکھائی جانے والی ویڈیوز میں ایسے فوجی اہلکاروں کو دکھایا گیا جو پارلیمنٹ میں تعینات تھے اور مارشل لا ختم کرنے کے لیے ہونے والی ووٹنگ کے بعد وہاں سے چلے گئے۔خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق صدر یون سک یول نے بدھ کی صبح کے لیے طے شدہ اپنی تمام سرگرمیاں معطل کر دی ہیں۔

صدر کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر کے اعلیٰ ترین مشیروں اور سیکریٹریز نے مشترکہ طور پر مستعفی ہونے کی پیشکش کی ہے۔’اے پی‘ کے مطابق بدھ کی صبح جنوبی کوریا میں ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے دسمبر کی سردی میں معمول کی صبح ہے۔ گلیوں میں سیاحوں اور مقامی شہریوں کی چہل پہل تھی اور عام دنوں کی طرح سڑکوں پر ٹریفک رواں دواں نظر آ رہا تھا۔

البتہ پارلیمان کے باہر کچھ مقامات پر مظاہرین کی بڑی تعداد ہاتھوں میں مختلف مطالبات کے کتبے تھامے موجود تھے جن کے قریب ہی کئی پولیس اہلکار بھی حفاظتی شیلڈز کے ساتھ کھڑے تھے۔ یہ مظاہرین صدر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔جنوبی کوریا میں آئندہ برس کے بجٹ پر یون سک یول کی قدامت پسند جماعت ’پیپل پاور پارٹی‘ اور ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ’ڈیموکریٹک پارٹی‘ کے درمیان ڈیڈ لاک تھا۔حالیہ عرصے میں پیپل پاور پارٹی کو اپنا ایجنڈا آگے بڑھانے میں مشکلات بھی پیش آتی رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button