لکھنؤ ، ۲۴؍اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) یوپی کے سابق وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ کی موت پر بھی سیاست بھی گرم ہوگئی ہے۔ جب سماج وادی پارٹی کے بانی #ملائم سنگھ یادو اور سماج وادی پارٹی کے صدر اور سابق #وزیراعلیٰ اکھلیش یادو ان کے آخری ’ درشن‘ کے لیے نہیں پہنچ سکے، تواس صورتحال میں اناؤ سے بی جے پی رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج نے دونوں رہنماؤں کی سخت تنقید کی ہے ۔
ساکشی مہاراج کے مطابق #کلیان سنگھ کے آخری درشن کے لیے اکھلیش یادو ، #سونیا گاندھی ، راہل گاندھی ، پرینکا کی عدم موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ وہ رام بھکتوں کے ووٹوں کے طالب نہیں ہیں ۔آنجہانی کلیان سنگھ پر یہ الزام ہے کہ #بابری مسجد ان ہی کے دورِ حکومت میں #شہید کی گئی تھی ، اس لیے اکھلیش یادو ان کے آخری درشن کے لیے نہیں گئے، وہ صرف مسلمانوں کے ووٹ چاہتے ہیں۔
ساکشی مہاراج نے کہا کہ میں اس کی شدید مذمت کرتا ہوں اور آنے والے وقت میں عوام اکھلیش یادو کواس کا جواب دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے۔ کلیان سنگھ میرے مربی تھے۔ کل ’راشٹر‘ اشکبار آنکھوں سے کلیان سنگھ کو الوداع کہہ رہا تھا، ان کی آخری ر سومات ادا کی گئی ، لیکن اکھلیش یادو لکھنؤ سے علی گڑھ تک کہیں نظر نہیں آئے۔
کانگریس کی لیڈر سونیا ، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی بھی نظر نہیں آئے ۔ ساکشی مہاراج نے کہا کہ میرے خیال میں کانگریس اور ایس پی رام بھکتوں کے ووٹ نہیں چاہتے ، صرف مسلمانوں کے ووٹ چاہتے ہیں، کیونکہ کلیان سنگھ نے بابری مسجد کی شہادت کے ملزم ہیں ۔
اس سے پہلے قنوج سے بی جے پی کے رکن #پارلیمنٹ سبرت پاٹھک نے سماج وادی پارٹی پر حملہ کیا تھا۔ اگر ملائم سنگھ اور اکھلیش یادو کلیان سنگھ جیسے مقبول لیڈر کو خراج عقیدت پیش نہیں کرسکیں ، تو کوئی ہرج نہیں ، اس سے کلیان سنگھ کے قد پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔



