گینگسٹر کیس میں ریلیف، عرفان سولنکی کو ہائی کورٹ سے ضمانت
ہائی کورٹ نے عرفان سولنکی اور رضوان سولنکی کی ضمانت منظور کر لی
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)الہ آباد ہائی کورٹ نے کانپور سے سماج وادی پارٹی کے سابق ایم ایل اے عرفان سولنکی اور ان کے بھائی رضوان سولنکی کو ضمانت دے دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد ایس پی لیڈر کی جیل سے رہائی کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔ عدالت نے گینگسٹر ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں ضمانت دی ہے جبکہ کانپور کے جاجماؤ پولیس اسٹیشن میں تینوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔
عرفان سولنکی اس وقت مہاراج گنج ضلع جیل میں بند ہیں اور اب ان کی رہائی یقینی سمجھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاملہ اعظم خان کی رہائی کے بعد سماج وادی پارٹی کے لیے ایک اور بڑی کامیابی ہے۔
ہائی کورٹ نے نہ صرف عرفان بلکہ ان کے بھائی رضوان سولنکی کی بھی ضمانت کی درخواستیں منظور کر لیں۔ جسٹس سمیر جین کی سنگل بنچ نے 2 ستمبر کو فیصلہ محفوظ کرنے کے بعد یہ اہم حکم سنایا۔
عرفان سولنکی کی والدہ خورشید سولنکی نے عدالتی فیصلے پر خدا کا شکر ادا کیا۔ ان کے وکیل شیوکانت ڈکشٹ نے وضاحت کی کہ اگرچہ عرفان کو زیادہ تر مقدمات میں ضمانت مل گئی تھی، لیکن ایک گینگسٹر کیس میں ضمانت نہ ملنے کی وجہ سے رہائی رکی ہوئی تھی۔ اب اس کیس میں بھی ضمانت منظور ہو گئی ہے اور توقع ہے کہ رہائی میں دو سے تین دن لگ سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ کانپور کے جاجماؤ علاقے کی ایک خاتون نے الزام لگایا تھا کہ 22 نومبر 2022 کو عرفان سولنکی اور ان کے حامیوں نے اس کی جھونپڑی کو آگ لگا دی۔ خاتون کا دعویٰ تھا کہ زمین ہتھیانے کے لیے بھتہ مانگا گیا اور مزاحمت کرنے پر گھر کو جلا دیا گیا۔اسی معاملے میں کانپور کی ایم پی-ایم ایل اے خصوصی عدالت نے عرفان سولنکی، ان کے بھائی رضوان،شوکت پہلوان اور شریف کو سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔
عرفان سولنکی گزشتہ دو برس سے سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ وہ کانپور کی سیسماؤ سیٹ سے ایم ایل اے رہ چکے ہیں لیکن سزا سنائے جانے کے بعد ان کی اسمبلی رکنیت ختم ہو گئی۔ بعد ازاں ہونے والے ضمنی انتخاب میں ان کی اہلیہ اسی نشست سے ایم ایل اے منتخب ہوئیں۔ عرفان سولنکی اس وقت مہاراج گنج جیل میں قید ہیں جبکہ دیگر ملزمان کانپور جیل میں اپنی سزا کاٹ رہے ہیں۔



