قومی خبریں

سپا لیڈر نسیم سولنکی نے بیوی کے ساتھ شیولنگ پر چڑھایا جَل، مندر کے شدھی کرن کے ساتھ شرکیہ عمل پرسخت تبصرہ بھی جاری

کانپور کے سیسا مئو اسمبلی سیٹ سے سماجوادی پارٹی امیدوار اور عرفان سولنکی کی اہلیہ نسیم سولنکی کے ذریعہ مندر میں

سپا لیڈر نسیم سولنکی نے بیوی کے ساتھ شیولنگ پر چڑھایا جَل،
مندر کے شدھی کرن کے ساتھ شرکیہ عمل پرسخت تبصرہ بھی جاری

کانپور،2نومبر (ایجنسیز)

کانپور کے سیسا مئو اسمبلی سیٹ سے سماجوادی پارٹی امیدوار اور عرفان سولنکی کی اہلیہ نسیم سولنکی کے ذریعہ مندر میں جا کر شیولنگ پر جَل چڑھانے کا معاملہ اب طول پکڑتا جا رہا ہے۔ نسیم سولنکی کیخلاف آل انڈیا مسلم جماعت کے قومی صدر مولانا مفتی شہاب الدین رضوی نے فتویٰ جاری کر دیا ہے۔ انہوں نے فتویٰ میں کہا کہ یہ شریعت کیخلاف ہے۔ نسیم سولنکی نے اس فتویٰ پر کوئی بھی رد عمل ظاہر کرنے سے صاف انکار کر دیا۔دراصل نسیم سولنکی نے دیوالی کے دن شیو مندر میں پوجا کرنے کے بعد دیپ جلائے تھے۔ ساتھ ہی انہوں نے شیو مندر میں جَل بھی چڑھایا تھا۔

اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد کئی طرح کے سوال اٹھنے لگے۔ نسیم سولنکی نے جس مندر میں شیولنگ پر جَل چڑھایا تھا بعد میں اس کا گنگا جَل سے شدھی کرن کیا گیا۔اس معاملہ میں مندر کے پجاری نے کہا کہ وہ (نسیم سولنکی) ایک مسلم خاتون ہیں، انہوں نے مندر میں آ کر جَل چڑھایا ہے۔ نسیم سولنکی اگر ہندو مذہب اپنا لیں تو کوئی دقت نہیں۔ حالانکہ پجاری نے اس بات کی تصدیق ضرور کی کہ ان کے شوہر عرفان سولنکی کبھی بھی مندر کے اندر نہیں آئے۔ مندر میں داخلہ کے بعد اپنے خلاف ہندو اور مسلم مذہبی رہنماؤں کی طرف سے دیئے گئے بیانات پر سماجوادی پارٹی امیدوار نسیم سولنکی نے کہا کہ ’’میرا مقصد کسی مذہب کی توہین کرنا نہیں ہے۔

مجھے فتویٰ پر کچھ نہیں کہنا ہے۔‘‘ ساتھ ہی نسیم نے یہ بھی کہا کہ ’’مندر میں پوجا کرنے کے بعد گروداورہ بھی گئی، چرچ بھی جاؤں گی، لیکن اس پر کوئی بات نہیں کر رہا ہے۔قابل ذکر ہے کہ نسیم سولنکی کے مشرکانہ عمل کیخلاف تبصرہ کرتے ہوئے مفتی شہاب الدین رضوی بریلوی نے نے کہا ہے کہ نسیم سولنکی شریعت کی نظر میں مجرم ہے۔ اسلام میں مورتی پوجا کرنا شرکیہ عمل ہے۔ اگر کوئی مورتی پوجا کرتا ہے تو وہ ازروئے شرع مرتد ہوگیا۔اگر کوئی انجانے میں ایسا کرتا ہے تو اسے کفارہ ادا کرنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button