اسپین میں خوفناک ریلوے سانحہ، دو تیز رفتار ٹرینوں کے تصادم سے 39 افراد ہلاک، درجنوں زخمی
“حادثے کی شدت غیر معمولی ہے، مزید نعشیں ملنے کا خدشہ ہے”
میڈرڈ 19۔جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) جنوبی اسپین میں ایک ہولناک ریلوے حادثے نے ملک کو سوگ میں مبتلا کر دیا، جہاں ایک تیز رفتار مسافر ٹرین پٹری سے اترنے کے بعد مخالف سمت سے آنے والی دوسری تیز رفتار ٹرین سے ٹکرا گئی۔ اس المناک سانحے کے نتیجے میں کم از کم 39 افراد ہلاک جبکہ 100 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ حادثہ صوبہ قرطبہ کے علاقے آداموز کے قریب پیش آیا، جو دارالحکومت میڈرڈ سے تقریباً 360 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ حادثے کے بعد جائے وقوعہ پر شدید تباہی کے مناظر دیکھے گئے، جہاں ٹرینوں کے کئی ڈبے ایک دوسرے میں الجھ گئے۔
اندلس کی علاقائی حکومت کے سربراہ خوانما مورینو نے پیر کی صبح میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 75 زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے، جن میں سے کم از کم 15 افراد کی حالت تشویشناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حادثے کی شدت کو دیکھتے ہوئے ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ موجود ہے۔
مورینو کے مطابق تباہ شدہ ٹرینوں کے ملبے تلے مزید متاثرین کی تلاش جاری ہے، جس کے لیے بھاری مشینری کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “حادثہ انتہائی شدید نوعیت کا تھا، ہمیں مزید لاشیں مل سکتی ہیں۔”
ہسپانوی اخبار ال پائیس کی رپورٹ کے مطابق میڈرڈ سے ہوئیلوا جانے والی ٹرین کا 27 سالہ ڈرائیور بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہے۔ حادثے کے وقت دونوں ٹرینوں میں مجموعی طور پر تقریباً 400 مسافر سوار تھے، جن میں اکثریت ہسپانوی شہریوں کی تھی جو اختتامِ ہفتہ کے بعد میڈرڈ واپس آ رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق ریاستی ریلوے ادارے رینفے کے زیرِ انتظام ہوئیلوا جانے والی ٹرین ٹکر کے وقت تقریباً 200 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہی تھی، جبکہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ پٹری سے اترنے والی پہلی ٹرین کس رفتار پر تھی۔
ہسپانوی وزیرِ ٹرانسپورٹ اوسکار پوئینتے نے میڈرڈ کے آتوچا اسٹیشن پر پریس کانفرنس میں بتایا کہ حادثے کی وجوہات تاحال معلوم نہیں ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ سیدھی پٹری پر ٹرین کا اس طرح پٹری سے اتر جانا ایک غیر معمولی بات ہے، خاص طور پر اس لیے کہ اس ریلوے ٹریک کی مرمت اور تجدید رواں سال مئی میں کی گئی تھی۔
حکام کے مطابق یہ افسوسناک حادثہ شام 7 بج کر 45 منٹ پر پیش آیا، جو اس وقت سے تقریباً 10 منٹ بعد تھا جب آئیریو کی تیز رفتار ٹرین قرطبہ سے میڈرڈ کی جانب روانہ ہوئی تھی۔ واقعے کے بعد ملک بھر میں ریلوے نظام کی حفاظت اور تکنیکی جانچ پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔



