سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

زمانۂ نبوت کا ایک واقعہ✍️مخصوص مسائل بھی دریافت کرنے کی اجازت ہے

رسول اللہ ﷺ کا بڑا احسان ہے کہ آپ ﷺ نے ذاتی زندگی سے متعلق بھی وہ باتیں کھول کر بیان فرما دیں

ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا کہا کہ ہم سے ابو معاویہ نے خبردی، ان سے ہشام نے اپنے باپ کے واسطے سے بیان کیا انہوں نے زینب بنت ام سلمہ کے واسطے سے نقل کیا، وہ (اپنی والدہ) ام المؤمنین حضرت ام سلمہ r سے روایت کرتی ہیں کہ ام سلیم (نامی ایک عورت) رسول کریم e کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں۔

اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ حق بات بیان کرنے سے نہیں شرماتا (اس لئے میں پوچھتی ہوں کہ) کیا احتلام سے عورت پر بھی غسل ضروری ہے! آپ ﷺ نے فرمایا کہ (ہاں) جب عورت پانی دیکھ لے (یعنی کپڑے وغیرہ پر منی کا اثر معلوم ہو تو (یہ سن کر) حضرت ام سلمہ r نے (شرم کی وجہ سے) اپنا چہرہ چھپا لیا اور کہا یا رسول اللہ کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے! آپ نے فرمایا، ہاں تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں پھر کیوں اس کا بچہ اس کی صورت کے مشابہ ہوتا ہے (یعنی یہی اس کے احتلام کا ثبوت ہے) انصار کی عورتیں ان مخصوص مسائل کے دریافت کرنے میں کسی قسم کی شرم سے کام نہیں لیتی تھیں جن کا تعلق صرف عورتوں سے ہے۔

یہ واقعہ ہے کہ اگر وہ رسول اللہ  ﷺ سے ان مسائل کو وضاحت کے ساتھ دریافت نہ کرتیں تو آج مسلمان عورتوں کو اپنی زندگی کے اس گوشے کے لئے رہنمائی کہاں سے ملتی اسی طرح مذکورہ حدیث میں حضرت ام سلیم نے نہایت خوبصورتی کے ساتھ پہلے اللہ تعالیٰ کی صفت بیان فرمائی کہ وہ حق بات کے بیان میں نہیں شرماتا پھر وہ مسئلہ دریافت کیا جو بظاہر شرم سے تعلق رکھتا ہے۔ مگر مسئلہ ہونے کی حیثیت میں اپنی جگہ دریافت طلب تھا پس پوری امت پر سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ کا بڑا احسان ہے کہ آپ ﷺ نے ذاتی زندگی سے متعلق بھی وہ باتیں کھول کر بیان فرما دیں جنہیں عام طور پر لوگ بے جا شرم کے سہارے بیان نہیں کرتے اور دوسری طرف صحابیہ عورتوں کی بھی یہ امت بے حد ممنون ہے کہ انہوں نے آپ سے سب مسائل دریافت کر ڈالے جن کی ہر عورت کو ضرورت پیش آتی ہے مسلمان کیلئے اللہ کا حکم ’’چھپی دوستی رکھنے والے نہ بنو’’ اسلام میں غیر محرم مردوں اورعورتوں کا باہم مروّجہ محبتیں کرنا یا دوستیاں لگانا ایک بے ہودہ عمل ہے۔

مومنہ اور مسلمہ عورت سے کسی بھی ایسی بے ہودہ اور بے حیاء حرکت کا سرزد ہونا سراسر خلافِ واقعہ ہے۔ اور کم از کم مسلمان لڑکیاں ایسا بے ہودہ عمل نہیں کرتیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العالمین نے اپنے کلامِ مجید میں ایسے بے ہودہ لوگوں کی حیثیت بیان فرمائی ہے ملاحظہ فرمائیں۔ اللہ رب العالمین کا فرمان ہے: فَانکِحُوْہُنَّ بِإِذْنِ أَہْلِہِنَّ وَآتُوْہُنَّ أُجُوْرَہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنَاتٍ غَیْْرَ مُسٰفِحَاتٍ وَّلاَ مُتَّخِذَاتِ أَخْدَان ’’پس تم ان (لونڈیوں) کے مالکوں کی اجازت سے ان سے نکاح کرلو اور انہیں دستور کے مطابق ان کے مہر دو، جبکہ وہ نکاح میں لائی گئی ہوں، بدکاری کرنے والی نہ ہوں اور نہ چوری چھپے آشنا بنانے والی ہوں۔‘‘

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مسلمان مردوں کے لئے اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کا جواز بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِیْنَ أُوْتُوا الْکِتَابَ مِن قَبْلِکُمْ إِذَا آتَیْْتُمُوْہُنَّ أُجُوْرَہُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْْرَ مُسَافِحِیْنَ وَلاَ مُتَّخِذِیْ أَخْدَانٍ ’’اور تمہارے لئے پاک دامن مسلمان عورتیں اور ان لوگوں کی پاک دامن عورتیں حلال ہیں۔ جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی، جبکہ تم انہیں ان کے مہر دے دو، نیز انہیں نکاح کی قید میں لانے والے بنو نہ کہ بدکاری کرنے والے اور نہ چھپی آشنائی رکھنے والے۔ ‘‘ (المائدہ5:5)

مذکورہ دونوں آیاتِ مبارکہ میں اس کائنات اور اس میں موجود ہر مخلوق کے خالق و مالک احکم الحاکمین نے غیر محرم لڑکا و لڑکی کی باہمی غیر شرعی طور پر بغیر نکاح کے کی جانے والی دوستیوں کو پاکدامنی کے منافی قرار دیا ہے۔ جب کوئی مسلمان عورت اپنے کردار میں مضبوط دیوار کی طرح ٹھوس ہوگی تو کوئی بیمار دل شخص کسی بھی طرح اسے اپنے دامِ تزویر میں پھنسا نہیں سکے گا۔ پھر ایسے مرد یا تو جگہ جگہ بکنے والی لونڈیوں کے قابل رہ جاتے ہیں یا پھر اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کی بے حیاء عورتوں کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ اور ایسی عورتیں جو محض چند ٹکوں کے بیلنس، شاپنگ اور محبت کے جھوٹے دعوؤں کے عوض غیر محرم کے ساتھ ناجائز تعلق قائم کرتی ہیں حتیٰ کہ کچھ اپنی عصمت تک کا سودا کرلیتی ہیں۔

وہ بکاؤ لونڈیوں کی طرح ہوجاتی ہیں یا پھر اہل کتاب (یہود و نصاری) کی عورتوں کی طرح بے وقعت اللہ رب العزت سے دعا ہے اللہ ! امت محمدیہ مذکورہ دونوں آیاتِ مبارکہ میں اس کائنات اور اس میں موجود ہر مخلوق کے خالق و مالک احکم الحاکمین نے غیر محرم لڑکا و لڑکی کی باہمی غیر شرعی طور پر بغیر نکاح کے کی جانے والی دوستیوں کو پاکدامنی کے منافی قرار دیا ہے۔ جب کوئی مسلمان عورت اپنے کردار میں مضبوط دیوار کی طرح ٹھوس ہوگی تو کوئی بیمار دل شخص کسی بھی طرح اسے اپنے دامِ تزویر میں پھنسا نہیں سکے گا۔

پھر ایسے مرد یا تو جگہ جگہ بکنے والی لونڈیوں کے قابل رہ جاتے ہیں یا پھر اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کی بے حیاء عورتوں کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ اور ایسی عورتیں جو محض چند ٹکوں کے بیلنس، شاپنگ اور محبت کے جھوٹے دعوؤں کے عوض غیر محرم کے ساتھ ناجائز تعلق قائم کرتی ہیں حتیٰ کہ کچھ اپنی عصمت تک کا سودا کرلیتی ہیں، وہ بکاؤ لونڈیوں کی طرح ہوجاتی ہیں یا پھر اہل کتاب (یہود و نصاری) کی عورتوں کی طرح بے وقعت اللہ رب العزت سے دعا ہے اللہ ! امت محمدیہ کے بیٹوں اور بیٹیوں کی عزت و عفت کی حفاظت فرمائیں۔ آمین!

متعلقہ خبریں

Back to top button