ایس ایس سی کا رزلٹ آچکا ہے، اور اس کے ساتھ ہی کہیں خوشی کا ماحول زیادہ ہے، تو کہیں مایوسی بھی نظر آتی ہے۔ پچھلے برسوں کے مقابلے میں امسال نتائج شاندار رہے، جس میں ہوم سینٹر کا بھی اہم کردار رہا۔ اساتذہ نے اپنی اسکولوں کے نتائج کو بہتر بنانے کے لیے محنت کی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بیشتر اسکولوں کے نتائج صد فیصد رہے۔ اردو میڈیم کے طلبہ نے بھی بہترین کامیابی حاصل کرکے یہ ثابت کردیا کہ وہ کسی سے کم نہیں۔
نتائج اور مستقبل کی تیاری
ایس ایس سی کے شاندار نتائج کے بعد کالجوں میں داخلے کے لیے دوڑ شروع ہوچکی ہے۔ دسویں کے بعد طلبہ اور والدین کے ذہن میں کئی سوالات ہوتے ہیں:
- دسویں کے بعد کیا کریں اور کہاں جائیں؟
- کون سا کورس بہتر ہوگا؟
- ڈپلوما کریں یا آئی ٹی آئی؟
- کون سے مضامین کا انتخاب کریں؟
یہ تمام سوالات والدین اور طلبہ کے لیے اہم ہوتے ہیں۔ اگر پہلے سے ہی منصوبہ بندی کی جائے تو مشکلات کم ہوسکتی ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی مالی حالت، بچے کی صلاحیت، ذہانت اور دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیریئر کا انتخاب کریں۔ کسی بھی فیصلے سے قبل اساتذہ اور تعلیمی مشیر (ایجوکیشنل کونسلر) سے مشورہ کرنا بہتر ہوگا۔
کیریئر کے مختلف آپشنز
1) سائنس فیکلٹی:
وہ طلبہ جو سائنس اور ریاضی میں دلچسپی رکھتے ہیں، ان کے لیے درج ذیل کیریئر آپشنز موجود ہیں:
- میڈیکل فیلڈ (ڈاکٹر، نرسنگ، فارمیسی، پیرا میڈیکل، ریڈیالوجی، فارنسک سائنس)
- انجینئرنگ (کمپیوٹر سائنس، مکینیکل، الیکٹریکل، سول، ایرو اسپیس)
- ٹیکنالوجی (فوڈ ٹیکنالوجی، ایگری کلچر، آئی ٹی، ہوم سائنس)
- دیگر شعبے (مرچنٹ نیوی، پائلٹ، بائیوٹیکنالوجی، جیوگرافی، سائیکالوجی)
2) کامرس فیکلٹی:
وہ طلبہ جو حساب اور بزنس میں دلچسپی رکھتے ہیں، ان کے لیے درج ذیل کیریئر آپشنز موجود ہیں:
- بزنس مینجمنٹ (ایم بی اے، ایچ آر، فنانس)
- اکاؤنٹنگ (چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ، کاسٹ اکاؤنٹنٹ، کمپنی سیکریٹری، بینکنگ)
- دیگر شعبے (ٹریول اینڈ ٹورزم، انٹرنیشنل بزنس، اسٹاک مارکیٹ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ)
3) آرٹس فیکلٹی:
وہ طلبہ جو ادب، تاریخ، جغرافیہ، ڈرائنگ یا شعر و شاعری میں دلچسپی رکھتے ہیں، وہ درج ذیل شعبوں میں جا سکتے ہیں:
- میڈیا اور جرنلزم (رپورٹنگ، اینکرنگ، کانٹینٹ رائٹنگ، ایڈیٹنگ)
- سول سروسز (یو پی ایس سی، ایس ایس سی، پولیس، ٹیچنگ)
- فنون لطیفہ (گرافک ڈیزائننگ، اینیمیشن، فیشن ڈیزائن، اداکاری)
ناکامی کو کامیابی میں بدلنے کا راز: طلبہ کے لیے رہنمائی
تعلیمی میدان میں ناکامی ایک عام بات ہے، لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ راستے بند ہو گئے ہیں۔ اکثر طلبہ اور والدین ناکامی کو ایک بڑا دھچکا سمجھتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی ناکامی مستقبل کی کامیابی کی بنیاد بن سکتی ہے۔
ناکامی کو قبول کریں اور آگے بڑھیں
ہمارے معاشرے میں ناکام ہونے والے طلبہ کو کمزور سمجھا جاتا ہے، ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے، اور انہیں نالائق قرار دے دیا جاتا ہے۔ تاہم، تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے کئی کامیاب افراد نے ابتدا میں ناکامی کا سامنا کیا لیکن اپنی غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھے۔
ناکامی کے بعد کیا کریں؟
ایس ایس سی (دسویں) میں ناکامی کے بعد طلبہ سخت مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں، لیکن یہ سوچنا غلط ہے کہ کامیابی کے دروازے بند ہو چکے ہیں۔ جو طلبہ ناکام ہوئے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ اپنی ناکامی کے اسباب تلاش کریں اور اپنی کمزوریوں پر قابو پانے کی کوشش کریں۔ محنت کرنے والے کبھی ناکام نہیں ہوتے، بس انہیں اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
کامیاب شخصیات کی مثالیں
- ابراہم لنکن: امریکی صدر بننے سے پہلے کئی بار ناکام ہوئے۔
- آلبرٹ آئن سٹائن: اسکول سے نکال دیا گیا، لیکن بعد میں دنیا کے عظیم سائنسدان بنے۔
- اے پی جے عبدالکلام: کئی ناکامیوں کے بعد بھارت کے صدر اور عظیم سائنسدان بنے۔
- امیتابھ بچن، شاہ رخ خان، عامر خان، سلمان خان: شوبز کی دنیا میں کئی مشکلات جھیلنے کے بعد کامیابی حاصل کی۔
والدین کا کردار
ناکام ہونے پر والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی کریں اور انہیں مزید دباؤ میں نہ ڈالیں۔ ناکامی کے بعد بھی طلبہ کے پاس کئی مواقع ہوتے ہیں، جیسے کہ ووکیشنل کورسز، آئی ٹی آئی اور پولی ٹیکنک۔
ایس ایس سی ناکام طلبہ کے لیے مواقع
ایس ایس سی بورڈ کے حالیہ فیصلے کے مطابق، جو طلبہ دو مضامین میں ناکام ہوئے ہیں، وہ گیارہویں جماعت میں داخلہ لے سکتے ہیں اور جولائی میں امتحان دے کر کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اس طرح وہ ایک سال ضائع ہونے سے بچ سکتے ہیں۔ مزید برآں، وہ امپرومنٹ اسکیم کے تحت اپنے مارکس میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
تعلیمی اور ووکیشنل کورسز کے آپشنز
اگر کوئی طالب علم تعلیم جاری نہیں رکھنا چاہتا، تو وہ مختلف اسکل ڈیولپمنٹ کورسز اور ووکیشنل ٹریننگ پروگرامز میں داخلہ لے کر اپنے کیریئر کو بہتر بنا سکتا ہے۔
معروف ووکیشنل اور آئی ٹی آئی انسٹی ٹیوٹس:
- تکیہ امانی شاہ سر گروہ ٹیکنیکل آئی ٹی آئی سینٹر، بھیونڈی
- شاد آدم شیخ پولی ٹیکنک، بھیونڈی
- احمد عبداللہ غریب ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ، کوسہ ممبرا
- حبیب ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ، ممبئی
- رائل ایجوکیشن سوسائٹی، رائے گڑھ
- جامعہ محمدیہ ایجوکیشن سوسائٹی، ممبرا
- گورنمنٹ آئی ٹی آئی انسٹی ٹیوٹ، بھیونڈی
ناکامی ایک نئی شروعات کی علامت ہو سکتی ہے۔ اگر طلبہ اپنی ناکامی کو سیکھنے کا موقع سمجھیں اور سخت محنت کریں تو کامیابی ان کے قدم چومے گی۔ یاد رکھیں، کامیابی عمر سے نہیں بلکہ مقصد، محنت اور لگن سے حاصل کی جاتی ہے۔



